خونی رشتہ داروں کے سامنے عورت کے ستر کو ناف سے گھٹنے تک محدود قرار دینے والوں کا ردّ

سوال 290202

وہ لوگ کون سی دلیل پر اعتماد کرتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ عورت کا اپنے خونی رشتہ داروں کے سامنے ستر ناف کے اوپر سے لے کر گھٹنے کے نیچے تک ہے؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:

یہ بعض شافعی فقہائے کرام کا قول ہے، اور انہوں نے جمہور اہلِ علم کی مخالفت کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ مرد کے لیے اپنی محرم عورتوں کے جسم کا وہ حصہ دیکھنا جائز ہے جو ناف کے اوپر اور گھٹنے کے نیچے ہو، بشرطیکہ فتنہ کا اندیشہ نہ ہو اور شہوت پیدا نہ ہو۔

انہوں نے اس کے لیے دو دلیلیں پیش کی ہیں: ایک منقول اور دوسری معقول ہے:

منقول دلیل:

وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ
’’اور وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں، یا اپنے باپوں، یا سسروں، یا اپنے بیٹوں، یا اپنے شوہروں کے بیٹوں، یا اپنے بھائیوں، یا اپنے بھتیجوں، یا اپنے بھانجوں، یا اپنی عورتوں، یا اپنے غلاموں، یا ایسے ماتحت مردوں کے سامنے جو (عورتوں کی) خواہش نہیں رکھتے‘‘ (سورۃ النور: 31)

اور انہوں نے کہا کہ اس آیت میں "زینت" کی تفسیر اس حصے سے کی گئی ہے جو ناف اور گھٹنے کے درمیان کے علاوہ ہے۔

اور معقول دلیل یہ دی کہ چونکہ اس عورت سے کسی حال میں نکاح جائز نہیں، اس لیے اس کے جسم کے اس حصے کو دیکھنا بھی جائز ہے، بالکل ایسے ہی جیسے ایک مرد دوسرے مرد کو دیکھ سکتا ہے۔

چنانچہ شافعی فقیہ العمرانی کہتے ہیں:

’’مرد کے لیے اپنی محرم عورتوں میں سے کسی کو دیکھنا جائز ہے، اور اسی طرح عورت کے لیے بھی مرد کو دیکھنا جائز ہے، بغیر کسی خاص سبب یا ضرورت کے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ اور وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں یا اپنے باپوں کے لیے یا اپنے خاوندوں کے باپوں کے لیے۔۔۔

اور اس بارے میں کہ مرد اپنی محرم عورت کے جسم کے کس حصے کو دیکھ سکتا ہے، دو قول ہیں جنہیں مسعودی نے نقل کیا ہے:

پہلا:
اور یہ ہمارے بغداد کے فقہائے کرام کا قول ہے کہ ناف اور گھٹنے کے درمیان کے علاوہ اس کے پورے جسم کو دیکھنا جائز ہے ؛ کیونکہ اس سے نکاح کسی حال میں جائز نہیں، لہٰذا اسے دیکھنا جائز ہوا، جیسے مرد کا مرد کو دیکھنا جائز ہوتا ہے۔

دوسرا:
اور یہ قفال کا اختیار کردہ قول ہے کہ صرف وہ حصہ دیکھنا جائز ہے جو عام کام کاج کے دوران ظاہر ہوتا ہے؛ کیونکہ اس سے زیادہ دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں‘‘ ختم شد
ماخوذ از: البيان (9/129)

اور خطیب شربینی کہتے ہیں:

’’محرم عورت کے ناف اور گھٹنے کے درمیان کے حصے کو دیکھنا جائز نہیں؛ یعنی اس حصے کو دیکھنا بالاتفاق حرام ہے۔

اور اس کے علاوہ حصے کو بغیر شہوت کے دیکھنا جائز ہے، یعنی ناف اور گھٹنے کے درمیان کے علاوہ؛ کیونکہ محرم ہونا ایسا وصف ہے جو نکاح کو حرام کر دیتا ہے، اس لیے وہ دونوں مردوں یا دونوں عورتوں کی طرح ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا ناف اور گھٹنے کو دیکھنا جائز ہے، کیونکہ یہ محرم کے لیے ستر نہیں ہیں۔۔۔

اور ایک قول یہ بھی ہے کہ صرف وہی حصہ دیکھنا جائز ہے جو کام کاج کرتے ہوئے ظاہر ہو جاتا ہے؛ کیونکہ اس کے علاوہ دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی ، نیز کام کاج کے دوران نظر آ جانے والے حصے سے مراد مراد چہرہ، سر، گردن، کہنی تک ہاتھ، اور گھٹنے تک پاؤں ہیں‘‘ ختم شد
ماخوذ از: مغنی المحتاج (4/210)

دوم:

جہاں تک آیت سے استدلال کا تعلق ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ آیت میں صرف اس چیز کے ظاہر کرنے کی اجازت دی گئی ہے جو عموماً ظاہر ہو جاتی ہے ؛ کیونکہ اسے چھپانے میں مشقت ہوتی ہے، اس لیے کہ محارم کے ساتھ میل جول اور آمد و رفت بکثرت ہوتی رہتی ہے۔ لہٰذا اس آیت سے اس سے زیادہ کا استدلال کرنا درست نہیں کہ انسان پیٹ، پشت اور دیگر پوشیدہ اعضاء کو ظاہر کرنے لگے۔

چنانچہ آیت دراصل باطنی زینت کے اظہار سے منع کرتی ہے، سوائے محارم کے؛ اور یہاں "زینت" سے مراد خود زیورات نہیں بلکہ ان کے مقامات ہیں۔ چنانچہ عورتیں اپنی گردنیں، سر، کلائیاں اور بازو وغیرہ ظاہر نہ کریں، چنانچہ جب غیر لوگ سامنے ہوں تو ذاتی حفاظت و پردے کا بھر پور خیال رکھیں ، جبکہ محرم رشتہ داروں کے سامنے شدت کے ساتھ پردے کی ضرورت نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جو شخص آیت کے سیاق و سباق اور اس کے احکام پر غور کرے، وہ یہ بات سمجھ لے گا کہ یہ رخصت صرف اس لیے دی گئی ہے کہ گھر کے ماحول میں عورت سے جو چیزیں عموماً ظاہر ہو جاتی ہیں، ان میں عورت سے حرج اور تنگی کو دور کیا جائے۔

لہذا ابن عطیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ عورتیں اپنی باطنی زینت (جیسے پازیب، بالیاں وغیرہ) کو ظاہر کرنے کے لیے پردے کو چھوڑنے کا قصد نہ کریں اور حفاظت کی مشقت کو ترک نہ کریں، مگر ان لوگوں کے سامنے جن کا ذکر کیا گیا ہے۔ ‘‘ ختم شد
ماخوذ از: "المحرر الوجيز" (4/179)

اور ابن عاشور رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’اس لیے کہ بہت سے اوقات میں غیر ظاہر زینت کو چھپانا سخت دشوار ہوتا ہے، کیونکہ عورت اور اس کے قریبی رشتہ داروں اور سسرالی محارم کے درمیان مسلسل میل جول رہتا ہے؛ لہٰذا اگر ہر وقت اس زینت کو چھپانا لازم کر دیا جاتا تو یہ اس کے لیے باعثِ مشقت ہو جاتا۔‘‘

اور ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’مرد کے لیے اپنی محرم عورتوں کے جسم کے ان حصوں کو دیکھنا جائز ہے جو عموماً ظاہر ہوتے ہیں، جیسے گردن، سر، دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں وغیرہ؛ لیکن اسے ان حصوں کو دیکھنے کی اجازت نہیں جو عموماً چھپے رہتے ہیں، جیسے سینہ، پشت اور ان جیسے دیگر اعضاء۔

اثرم کہتے ہیں: میں نے ابو عبد اللہ (یعنی امام احمد) سے پوچھا کہ کیا آدمی اپنے باپ کی بیوی یا اپنے بیٹے کی بیوی کے بال دیکھ سکتا ہے؟

تو انہوں نے فرمایا: اس کا ذکر قرآن میں ہے: وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ یعنی اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر فلاں فلاں کے لیے۔

میں نے کہا: کیا وہ اپنے باپ کی بیوی کی پنڈلی اور سینہ دیکھ سکتا ہے؟

انہوں نے فرمایا: نہیں، مجھے یہ پسند نہیں۔

پھر فرمایا: میں تو یہ بھی ناپسند کرتا ہوں کہ آدمی اپنی ماں اور بہن کے جسم سے ایسی جگہ کو دیکھے، اور ہر وہ چیز (بھی) جو شہوت کے ساتھ دیکھی جاتی ہو۔‘‘ ختم شد

ماخوذ از: المغنی(7/98)

مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر (82994) کا جواب بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

اور جہاں تک اس قیاس کا تعلق ہے کہ محرم کو دیکھنا مرد کے مرد کو دیکھنے پر قیاس کیا جائے، اس بنیاد پر کہ دونوں میں نکاح حرام ہے، تو یہ قیاس درست نہیں؛ کیونکہ دونوں میں بڑا فرق ہے۔ عورت کے معاملے میں فتنہ اور حرام میں پڑنے کا اندیشہ کہیں زیادہ ہوتا ہے، اور عورت کے یہ اعضاء عام طور پر ظاہر بھی نہیں ہوتے، جبکہ مردوں کے بارے میں ایسا نہیں۔

اسی لیے ابن قدامہ رحمہ اللہ اس کی علت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’جو چیز عموماً ظاہر نہیں ہوتی، اسے دیکھنا جائز نہیں؛ کیونکہ اسے دیکھنے کی ضرورت پیش نہیں آتی، اور پھر اسے دیکھنے پر شہوت اور حرام میں پڑنے کا اندیشہ بھی ہوتا ہے، اس لیے اسے دیکھنا حرام قرار دیا گیا۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: المغنی(7/98)

اور اگر یہ کہا جائے کہ ناف کے اوپر کا حصہ دیکھنا جائز ہے، مرد کے مرد پر قیاس کرتے ہوئے، تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ محرم عورت کے تقریباً تمام جسم کو دیکھنا جائز ہو جائے گا (سوائے شرمگاہ کے)، خاص طور پر ان لوگوں کے نزدیک جو ران کو ستر نہیں سمجھتے؛ اور اس قول کا باطل ہونا اور اس میں موجود خرابی اور فساد بالکل واضح ہے۔

اور ہر سلیم الفطرت انسان جانتا ہے کہ مرد کے سینے اور پیٹ کے ظاہر ہونے اور عورت کے ان اعضاء کے ظاہر ہونے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

عورت کا لباس

ماخذ: 

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android