جمعرات 14 ذو الحجہ 1445 - 20 جون 2024
اردو

روزے کی حالت میں کام کرنے کی رفتار تیز کرنے کے لیے ترکی قہوہ سونگھنے کا حکم

سوال

رمضان المبارک میں دن کے وقت ترکی قہوہ سونگھنے کے متعلق شریعت کیا کہتی ہے؟ اس طرح مجھے اپنے کام کو انجام دینے کے لیے توانائی ملتی ہے، لہذا جب میں ترکی قہوہ سونگھتا ہوں تو مجھے اپنے جسم میں توانائی محسوس ہوتی ہے، اور اگر ایسا نہ کروں تو میں سستی محسوس کرتا ہوں، نیند آنے لگتی ہے، اور میں کوئی کام نہیں کر پاتا۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

اگر سونگھنے سے مراد قہوے کے ذرات کو سانس کے ذریعے اندر لے جانا ہے، اور آپ یہ عمداً کرتے ہیں تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا؛ کیونکہ یہ دماغ تک پہنچتا ہے اور یہ بہت سے فقہائے کرام کے ہاں ناقض روزہ ہے، اور ویسے بھی عام طور پر اس طرح سونگھنے سے معدے تک اس کے ذرات پہنچتے ہیں ، اور اس سے کھانے کی طرح ہی جسم میں طاقت آتی ہے جیسے کہ سوال میں بھی ذکر کیا گیا ہے اس لیے اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔

جیسے کہ "كشاف القناع" (2/ 318) میں ہے کہ:
"اگر کوئی ناک کے ذریعے روغن یا کوئی اور چیز لے اور وہ اس کے حلق یا دماغ تک پہنچ جائے ۔ کتاب الکافی میں یہ بھی ہے کہ نتھنوں کے اندرونی حصے تک پہنچ جائے تو تب بھی روزہ فاسد ہو جائے گا؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے روزے دار کو وضو میں مبالغے کے ساتھ استنشاق سے منع کیا ہے؛ ویسے بھی دماغ بھی [پیٹ کی مانند] جوف ہے اور دماغ تک پہنچنے والی چیز اسے غذا فراہم کرتی ہے اس لیے روزہ ٹوٹ جائے گا جیسے پیٹ میں جا کر جسم کو غذا فراہم کرنے والی چیز سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔" ختم شد

اور سوال میں مقصود یہ ہو کہ ترکی قہوے کے ذرات نہیں بلکہ صرف خوشبو سے ہی جسم میں توانائی آتی ہے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا؛ کیونکہ خوشبو کا کوئی جسم نہیں ہوتا۔

دائمی فتوی کمیٹی کے فتاوی: (10/271)میں ہے:
"جو شخص رمضان میں دن کے وقت روزے کی حالت میں کسی بھی قسم کی خوشبو استعمال کرے تو اس کا روزہ فاسد نہیں ہو گا؛ تاہم خوشبو دار دھواں ، خوشبو دار پاؤڈر، اور کستوری پاؤڈر کو اتنا سانس کے ذریعے نہ کھینچے کہ ان کے ذرات اندر چلے جائیں۔" ختم شد

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
رمضان میں دن کے وقت روزے دار کے لیے عطر وغیرہ استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟

تو انہوں نے جواب دیا:
"عطر رمضان میں دن کے وقت استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اسے سونگھنے میں بھی کوئی حرج نہیں، تاہم بخور [یعنی خوشبو دار دھوئیں] کو مت سونگھے؛ کیونکہ اس میں دھوئیں کے ذرات ہوتے ہیں جو کہ معدے تک پہنچ جاتے ہیں۔" ختم شد
"فتاوى رمضان" (ص 499)

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب