ہفتہ 7 ربیع الاول 1442 - 24 اکتوبر 2020
اردو

عام لباس میں مکہ کے اندر سے عمرہ کیا پھر بال منڈوائے اور نہ ہی نہ ہی کٹوائے، پھر شادی کر لی، تو کیا اس کی شادی صحیح ہے؟

294650

تاریخ اشاعت : 13-10-2020

مشاہدات : 96

سوال

عرصہ پہلے میں اور میرے دو رشتہ داروں نے عمرہ کیا، جب ہم نے پہلا عمرہ کر لیا تو اپنے سر کے بال منڈوا لیے اور ہوٹل میں جا کر آرام کیا، اس کے بعد ہم واپس آئے اور پھر عام لباس میں دوسرا عمرہ کرنے چلے گئے، اس کے لیے ہم ہوٹل سے حرم شریف کی طرف نکلے، اور جب ہم عمرے سے فارغ ہو گئے تو ہم نے نہ تو بال منڈوائے اور نہ ہی کتروائے، تو کیا ہم پر کچھ لازم آتا ہے؟ واضح رہے کہ میں اور میرے رشتے دارنے یہ عمرہ پہلے عمرے کے کچھ عرصے بعد کیا تھا اور یہ عمرہ پہلے عمرے کی میقات سے بھی نہیں تھا، اس کے بعد میرے عزیز کی شادی ہو گئی، جبکہ میری ابھی تک شادی نہیں ہوئی ہے، اور تیسرے رشتے دار کے بارےمیں مجھے معلوم نہیں ہے کہ اس نے ہمارے عام لباس والے عمرے کے بعد ایک اور عمرہ کیا ہے یا نہیں، تاہم اس نے بھی بعد میں شادی کر لی ، تو اس ساری صورت حال میں ہم پر کیا واجب ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

میقات سے احرام باندھنا عمرے کے واجبات میں شامل ہے، تاہم جو شخص مکہ میں ہو اور عمرہ کرنا چاہے تو اس کی میقات حدود حرم سے باہر حِل کا علاقہ ہے، لہذا حدود حرم سے کہیں بھی باہر چلا جائے چاہے تنعیم یا کسی اور جگہ تو وہ وہاں سے احرام باندھے گا۔

اور اگر وہ مکہ سے ہی احرام باندھتا ہے تو اس نے ایک واجب عمل ترک کر دیا، اس بنا پر اس پر ایک دم ہو گا، اور اگر دم دینے کی استطاعت نہ ہو تو حج تمتع کرنے والے پر قیاس کرتے ہوئے دس روزے رکھے گا۔

جیسے کہ "شرح منتهى الإرادات" (1/ 525) میں ہے کہ:
"عمرہ کرنے کے لیے مکہ کی حدود حرم سے باہر نکل کر حِل سے احرام باندھے گا؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عبد الرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہما کو حکم تھا کہ: (عائشہ کو تنعیم سے عمرہ کروا ئے۔) متفق علیہ

اور ویسے بھی عمرے کے تمام تر افعال حدود حرم میں ہوتے ہیں، اس لیے حِل کی طرف جانا ضروری ٹھہرا تا کہ احرام حل اور حرم دونوں میں واقع ہو، لیکن حج میں ایسا نہیں ہوتا؛ کیونکہ میدان عرفات حدود حرم میں نہیں ہے، بلکہ حِل میں ہے اس طرح حج کے احرام میں حِل اور حرم دونوں جمع ہو جاتے ہیں۔

مکہ سے احرام باندھ کر عمرہ کرنے والے کا عمرہ صحیح ہو گا، لیکن اس پر دم لازم ہو گا کیونکہ اس نے مکہ سے ہی احرام باندھا ہے، اور اس نے ترک واجب کا ارتکاب کیا، ایسے شخص کا حکم اسی شخص جیسا ہے جو بغیر احرام کے میقات سے تجاوز کر جائے۔" ختم شد

اس بنا پر: آپ مکہ میں ایک جانور ذبح کر کے اسے مکہ کے فقرا میں تقسیم کر دیں۔

دوم:

احرام باندھنے والے شخص کے لیے سلا ہوا لباس ترک کرنا ضروری ہوتا ہے، لہذا اگر کوئی شخص عام لباس میں عمرہ کر لے تو اس نے ایک غلط کام کا ارتکاب کیا، اس پر توبہ کرنا لازمی ہے، اور وہ فدیہ بھی ادا کرے گا۔

اس فدیے میں تین اختیارات ہیں: بکری ذبح کرے، یا چھ مساکین کو کھانا کھلائے، یا تین روزے رکھے۔

سوم:

بال منڈوانا یا کتروانا عمرے کے افعال میں شامل ہیں، اس عمل کے بغیر محرم شخص حلال نہیں ہوتا۔

جیسے کہ "الانصاف" (4/ 56) میں ہے کہ:
"پھر طواف کرے اور سعی کرے، اس کے بعد سر کے بال منڈوا لے یا کتروا لے، تو اس طرح وہ حلال ہو جائے گا، لیکن کیا وہ بال منڈوانے یا کتروانے سے پہلے حلال ہو گیا تھا یا نہیں؟ اس بارے میں د و روایتیں ہیں، اس مسئلے میں دو روایتوں کی وجہ حج کے متعلق روایت ہے کہ: کیا بال منڈوانے یا کتروانے کا تعلق افعال حج سے ہے یا یہ پابندی ختم ہونے کی علامت ہے؟ اس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے، نیز شارح اور ابن منجا نے بھی اس کو ذکر کیا ہے۔

یہ بات پہلے گزرچکی ہے کہ صحیح فقہی مذہب یہی ہے کہ: یہ افعال حج میں شامل ہے، اس لیے یہاں صحیح موقف یہ ہو گا کہ بال منڈوانا یا کتروانا بھی افعال عمرہ میں شامل ہے، اس لیے ان دونوں میں سے کوئی ایک کام کیے بغیر حلال نہیں ہوگا، اور یہی صحیح موقف ہے، اور "تصحیح" وغیرہ میں اسی کو صحیح قرار دیا ہے، جبکہ "الوجیز" کے مصنف نے اسی کو صیغہ جزم کے ساتھ "الوجیز" وغیرہ میں بیان کیا ہے۔

دوسری روایت یہ ہے کہ: یہ پابندی ختم ہونے کی علامت ہے، تو اس صورت میں بال منڈوانے یا کتروانے سے پہلے ہی محرم حلال ہو جاتا ہے، یہی موقف "الھدایۃ" ، "المذھب" ، اور "التلخیص" میں اپنایا گیا ہے۔ " ختم شد

اس بنا پر: جو شخص عمرے کے دوران نہ تو سر کے بال منڈوائے اور نہ ہی کتروائے تو اس کا احرام ابھی باقی ہے، اور اس پر لازمی ہے کہ سلے ہوئے لباس کو اتار کر بال کٹوائے یا منڈوائے، اور اگر اس کو اس حکم کا علم نہیں تھا تو جو بھی لاعلمی کی بنا پر اس نے احرام کے ممنوعہ کام کیے ہیں ان کا کوئی جرمانہ نہیں ہے۔

چہارم:
جیسے کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ جس نے بال منڈوائے یا کتروائے نہیں تو اس کا احرام ابھی باقی ہے، چنانچہ اگر وہ ایک اور عمرہ کر لیتا ہے اور اس میں سر کے بال منڈوا یا کتروا لیتا ہے تو اس عمل سے وہ پہلے عمرے کے احرام سے حلال ہو جائے گا، اور اس کا دوسرا عمرہ کالعدم ہو گا؛ کیونکہ اس نے پہلے عمرے کے ارکان پورے کرنے سے پہلے ہی دوسرے عمرے کا احرام باندھ لیا تھا، حالانکہ وہ ابھی پہلے عمرے کے احرام میں ہی تھا۔

عز بن عبد السلام رحمہ اللہ"قواعد الأحكام" ص: ( 252) میں کہتے ہیں کہ:
"اگر کوئی شخص دو حج یا دو عمرے کی نیت سے یا سابقہ حج کے احرام پر نیے حج یا سابقہ عمرے کے احرام پر نیے عمرے کا احرام باندھ لیتا ہے، یا ایک ہی نماز ظہر اور عصر دونوں کی نیت سے پڑھتا ہے تو اس کا ایک ہی حج ہو گا، اور اسی طرح عمرہ بھی ایک ہی ہوگا، جبکہ اس کی نماز کوئی بھی نہیں ہو گی۔" ختم شد

ہم نے یہ سوال الشیخ عبد الرحمن البراک حفظہ اللہ سے پوچھا کہ ایک عورت نے عمرہ کیا اور اپنے بال کتروانا بھول گئی، پھر اس نے ایک اور عمرے کا احرام باندھا پھر طواف اور سعی کرنے کے بعد اس نے بال کتروا لیے تو اس کے پہلے عمرے کا کیا حکم ہے؟

تو انہوں نے جواب دیا:
"مسلمان فقہائے کرام کے ہاں ایک عمرے کا احرام باقی ہوتے ہوئے دوسرے عمرے کی نیت کا تصور بھی نہیں ہے؛ اس لیے دوسرا عمرہ کالعدم ہو گا اور دوسرے عمرے میں جو بال کتروائے ہیں وہ پہلے والے عمرے کے ہی شمار ہوں گے۔"

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (128712) اور (95860) کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔

پنجم:

جس شخص نے پہلے عمرے کے احرام سے حلال ہونے سے قبل ہی نکاح کر لیا، اور اس کے بعد اس نے نیا عمرہ نہیں کیا تو اس شخص نے احرام کی حالت میں نکاح کیا، لہذا وہ نکاح صحیح نہیں ہوگا۔

امام نووی رحمہ اللہ "شرح مسلم" (9/ 193) میں کہتے ہیں کہ :
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: (محرم شخص نہ خود نکاح کرے، نہ اس کا کوئی نکاح کرے اور نہ ہی وہ خود منگنی کا پیغام بھیجے) اس کے بعد امام مسلم نےایک اختلاف کا ذکر کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ سے نکاح احرام کی حالت میں کیا تھا یا آپ اس وقت حلال تھے؟

اس وجہ سے علمائے کرام نے محرم شخص کے نکاح کے بارے میں اختلاف کیا ہے، چنانچہ امام مالک، شافعی، احمد اور صحابہ و تابعین سمیت جمہور علمائے کرام اس بات کے قائل ہیں کہ محرم شخص کا نکاح صحیح نہیں ہے، ان کےد لائل اس موضوع پر منقول احادیث ہیں۔

جبکہ امام ابو حنیفہ اور کوفی علمائے کرام کہتے ہیں کہ: محرم کا نکاح صحیح ہے، ان کی دلیل سیدہ میمونہ کا واقعہ ہے۔

جبکہ جمہور حدیث میمونہ کے متعدد جواب دیتے ہیں، جن میں سے صحیح ترین یہ ہے کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ سے حلال ہونے کی حالت میں ہی نکاح کیا تھا، یہی بات اکثر صحابہ کرام بیان کرتے ہیں۔

جیسے کہ قاضی وغیرہ کہتے ہیں کہ: سوائے ابن عباس کے کسی صحابی نے بھی یہ نہیں بیان کیا کہ آپ نے میمونہ سے شادی احرام کی حالت میں کی تھی، جبکہ خود میمونہ اور ابو رافع وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ سے شادی حلال ہونے کی حالت میں کی تھی، ابو رافع اور میمونہ کو اس کا علم زیادہ تھا؛ کیونکہ یہ خود اس واقعے میں شامل تھے، جبکہ ابن عباس اس میں شامل نہیں تھے، نیز ان کا حافظہ اور تعداد ابن عباس سے زیادہ بھی ہیں۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ: ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تاویل کی جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے میمونہ سے شادی حدود حرم میں لیکن حلال ہونے کی حالت میں کی تھی، اور جو شخص حدود حرم میں ہو اس کو بھی محرم کہہ دیتے ہیں اگرچہ اس نے احرام نہ بھی باندھا ہو، یہ مشہور و معروف لغوی بات ہے۔" ختم شد

آپ کا تیسرا قریبی رشتہ دار اگر دوسرا عمرہ کرنے سے پہلے ہی شادی کر چکا ہے، جس میں اس نے بال منڈوائے ہیں یا کترائے ہیں تو وہ نکاح دوبارہ کرے، اور یہ آسان ہے، وہ اس طرح کہ لڑکی کا ولی دو گواہوں کی موجودگی میں اس کا عقد کر دے، اور کہے کہ: میں نے تمہاری شادی فلاں سے کر دی ہے، اور آپ کا رشتے دار کہے کہ: میں نے فلاں کو اپنی بیوی قبول کیا۔

اور آپ میں سے ہر ایک پر دم بھی لازم آتا ہے؛ کیونکہ آپ نے حِل سے احرام نہیں باندھا، اور عام لباس میں عمرہ کرنے کی وجہ سے تم پر فدیہ بھی لازمی ہے جس میں آپ کو تین اختیارات ہیں۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب