جمعرات 21 ذو الحجہ 1440 - 22 اگست 2019
اردو

کیا یہ صحیح ہے کہ میاں بیوی قربانی کے جانور کی قیمت میں شریک ہوں؟

296398

تاریخ اشاعت : 04-08-2019

مشاہدات : 619

سوال

کیا یہ صحیح ہے کہ میاں بیوی عید کی قربانی کے لئے مینڈھا خریدنے کی قیمت میں شریک ہوں؟

جواب کا متن

الحمدللہ:

اول:

عید کی قربانی میں بکری یا مینڈھا صرف ایک آدمی کی طرف سے ذبح کیا جا سکتا ہے، اس لیے دو افراد ایک بکری یا مینڈھے میں شریک نہیں ہو سکتے، نہ ہی گائے یا اونٹ کے ایک حصے میں دو افراد شامل ہو سکتے ہیں، یہ شراکت منع ہے۔

جائز شراکت یہ ہے کہ : ثواب میں شریک ہو جائیں، مثلاً: ایک آدمی قربانی کرتا ہے تو وہ اپنی بیوی کو ثواب میں شریک بنا لے ، یا بیوی قربانی کرے تو وہ اپنے خاوند کو ثواب میں شریک بنا لے۔

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (112264) اور (36387) کا جواب ملاحظہ کریں۔

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ یہ تھا کہ ایک بکری گھر کے سربراہ مرد اور اس کے اہل خانہ کی طرف سے کافی ہو جائے ؛چاہے اس کے اہل خانہ کی تعداد کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، جیسے کہ عطا بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں : میں نے ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں قربانیاں کیسے ہوتی تھیں؟" تو انہوں نے جواب میں کہا: "ایک آدمی اپنی طرف سے اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرتا تھا تو وہ اس میں سے خود بھی کھاتے اور دوسروں کو بھی کھلاتے تھے" امام ترمذی نے اس حدیث کے بعد کہا ہے کہ : یہ حدیث حسن اور صحیح ہے۔" ختم شد
ماخوذ از: "زاد المعاد" (2/ 295)

ایسے ہی ابن رشد رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"سب علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بکرا صرف ایک شخص کی طرف سے ہی قربان ہو سکتا ہے، صرف امام مالک روایت کرتے ہیں کہ بکرا مرد اور اس کے اہل خانہ کی طرف سے قربان ہو سکتا ہے۔ یہاں پر خریداری میں شراکت مراد نہیں ہے، یہاں پر مرد خود اکیلا ہی جانور خریدے گا[لیکن قربانی سب کی طرف سے ہو جائے گی]، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: (ہم منی میں تھے تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، اس پر ہم نے کہا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے بتلایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے قربانی کی ہے) " ختم شد
"بدایۃ المجتہد" (2/196)

اسی طرح "تحفة المحتاج"(9/ 349) میں ہے کہ:
"بکری یا بھیڑ صرف ایک شخص کی طرف سے قربانی میں کفایت کر سکتی ہے زیادہ کی طرف سے نہیں، اس پر سب کا اتفاق ہے۔ بلکہ اگر دو افراد دو عدد مشترکہ بکریاں بھی ذبح کریں تو یہ جائز نہیں ہو گا؛ کیونکہ دونوں میں سے کسی نے بھی مکمل جانور ذبح نہیں کیا۔

چنانچہ وہ حدیث جس میں ہے کہ: (یا اللہ! یہ قربانی محمد اور امت محمد کی طرف سے ہے) اس کا مطلب یہ ہے کہ امت محمد کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ثواب میں شریک بنایا ہے، اور ثواب میں شریک بنانا جائز ہے، اسی لیے اہل علم کہتے ہیں کہ قربانی کرنے والا شخص دیگر افراد کو اپنی قربانی کے ثواب میں شریک بنا سکتا ہے۔۔۔" ختم شد

دوم:

بیوی کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنا مال خاوند کو تحفہ دے تو خاوند اس سے قربانی کا جانور خرید سکتا ہے، اس طرح قربانی خاوند کی طرف سے ہوگی اور خاوند اپنی بیوی کو ثواب میں شریک بنا لے گا۔

یا اس کے بر عکس کر لیا جائے کہ خاوند بیوی کو اپنا مال تحفہ دے اور بیوی کی طرف سے قربانی ہو تو پھر بیوی اپنے خاوند کو قربانی کے ثواب میں شریک بنا لے، اس صورت میں ثواب بنیادی طور پر قربانی کرنے والے کے لئے ہو گا اور شریک حیات ضمنی طور پر ثواب میں شریک ہو گا۔

تو اگر بیوی قربانی کی قیمت میں شراکت اس لیے کرتی ہے کہ خاوند کی معاونت ہو جائے کیونکہ اس کے پاس مطلوبہ رقم نہیں ہے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ۔

شیخ عبد الکریم خضیر حفظہ اللہ سے سوال پوچھا گیا کہ:
"میں اپنی بیوی کے ساتھ قربانی میں شراکت دار بنوں تو اس کا کیا حکم ہے؟ اور اس پر کیا احکام مرتب ہوتے ہیں؟"
تو انہوں نے جواب دیا:
"اگر گھر کا سربراہ قربانی کرے تو یہ قربانی سربراہ اور اس کے اہل خانہ کی جانب سے کافی ہو جائے گی، لہذا اگر خاوند قربانی کر رہا ہے تو یہ قربانی مرد اور اس کی بیوی کی طرف سے بھی کافی ہو جائے گی، اس صورت میں عورت پر یہ لازمی نہیں ہے کہ وہ اپنی الگ سے قربانی کرے۔

ہاں اگر یہاں مراد یہ ہو کہ قربانی کی آدھی قیمت خاوند ادا کرے اور آدھی قیمت بیوی ادا کر کے شریک بن جائیں: تو ایسی صورت میں یہ ہے کہ بنیادی طور پر گھر کے سربراہ یعنی خاوند پر قربانی کی ذمہ داری ہے اور اس کے ماتحت بیوی اور بچے بھی شامل ہو جاتے ہیں۔

تاہم اگر بیوی اپنے خاوند کا ہاتھ بٹانے کی غرض سے آدھی قیمت دے کہ خاوند اکیلا قربانی کی قیمت ادا نہیں کر سکتا ، اور بیوی یہ چاہتی ہے کہ وہ اپنے خاوند کی مدد کرے تو اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔" ختم شد
ماخوذ از آفیشل ویب سائٹ برائے شیخ عبد الکریم خضیر :
http://shkhudheir.com/fatawa/1952583216

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں