بدھ 19 محرم 1441 - 18 ستمبر 2019
اردو

جلد کے نیچے دھاگوں سے گدائی کروانا، ان دھاگوں کو کسی بھی وقت نکالا جا سکتا ہے۔

سوال

میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ دھاگے سے جسم گدوانے کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کے زمرے میں آتا ہے جو کہ حرام بھی ہے اور ابلیس نے اللہ کے بندوں کو اس کی دھمکی بھی دی ہوئی ہے۔ اس کی مختصراً تفصیل یہ ہے کہ: یہ زیب و زینت کا ایک طریقہ ہے، اس میں ایک دھاگا ڈلی ہوئی سوئی کو صرف ہاتھ اور پاؤں کی شفاف اور مردہ جلد کے نیچے سے گزارا جا تا ہے، ہم سوئی کو زیادہ گہرائی میں نہیں لے کر جاتے تو اس طرح سوئی کے جلد کے نیچے گزرنے سے درد بھی نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی زخم بنتا ہے، نیز آپ اس دھاگے کو اسی دن بھی نکال سکتے ہیں دھاگا دائمی نہیں ہوتا، اس لیے میں تو اسے ممنوعہ گدوانے اور ابرو باریک کرنے کے زمرے میں شمار نہیں کرتی ، جیسے کہ پہلے اس کا ذکر گزرا ہے، آپ سے امید کرتی ہوں کہ اس مسئلے کی وضاحت کر دیں۔

جواب کا متن

الحمدللہ:

زیب و زینت کا یہ طریقہ کار ہمیں صرف درج ذیل لنک پر ہی ملا ہے:
https://www.youtube.com/watch?v=RQ3p490mHog

اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد اور آپ نے سوال میں جو تفصیلات ذکر کی ہیں ان سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں: دھاگا ڈلی ہوئی سوئی کو مردہ جلد کے نیچے سے گزارا جاتا ہے اور وقتی طور پر دھاگوں سے نقش و نگار بنائے جاتے ہیں، یہ دھاگے آپ ایک دو دن میں بھی نکال سکتے ہیں۔ تو ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ ممنوعہ گدائی میں شامل نہیں ہے، نیز اگر اس میں کوئی نقصان نہ ہو تو ہمیں اس میں کوئی ممانعت نظر آتی ہے۔

ہم پہلے وقتی طور پر جسم پر چسپاں کیے جانے والے ٹیٹو کو معتبر ضوابط کے ساتھ جائز قرار دے چکے ہیں ، اس بارے میں آپ سوال نمبر: (99629) کا جواب ملاحظہ کریں۔

اور آپ کے سوال میں ذکر شدہ امور بھی اسی جیسے ہیں۔

تاہم دھاگوں سے بنائے جانے والے ان نقش و نگار کے متعلق ایک اہم معاملے کو دیکھنا ضروری ہے کہ یہ نقش و نگار وضو اور طہارت کی جگہ پر بنائے جاتے ہیں، تو جو کچھ ہم نے ویڈیو میں دیکھا ہے اس سے ہمیں یہ محسوس ہوا ہے کہ ان دھاگوں کی وجہ سے پانی جلد تک نہیں پہنچ پائے گا اور اس طرح متعلقہ عضو غسل یا وضو میں دھونا مشکل ہو گا۔

چنانچہ اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو پھر ایسی جگہوں پر دھاگوں سے نقش و نگار بنانا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ ایسا عقل تسلیم نہیں کرتی کہ انسان ان دھاگوں سے نقش و نگار بنا کر ہر نماز کے وقت انہیں اتار بھی دے گا!

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں