نمازِ جماعت چھوڑ کر کمپنی کی بس پکڑنے کا حکم

سوال 303280

ہم کام سے مغرب کی نماز کے بعد کمپنی کی بس میں نکلتے ہیں۔ عشاء کی اذان راستے میں بس کے اندر سنائی دیتی ہے اور راستے میں مساجد بھی آتی ہیں۔ تو کیا ایسی صورت میں بس سے اتر کر جماعت سے نماز پڑھنا لازم ہے، جبکہ بس انتظار نہیں کرے گی بلکہ چلتی رہے گی، اور پھر ہمیں گھر جانے کے لیے دوسری سواری کا انتظام کرنا پڑے گا؟ یہ بھی معلوم رہے کہ اگر ہم بس میں ہی بیٹھے رہیں تو نماز کا وقت ختم نہیں ہو گا، لیکن جماعت فوت ہو جائے گی۔ تو کیا جماعت ایسی حالت میں واجب ہے کہ مجھے لازمی اترنا چاہیے یا پھر میں آگے بڑھ کر گھر جا کر اکیلا نماز ادا کر سکتا ہوں؟

جواب کا متن

اول: نماز کو وقت سے تاخیر کے ساتھ ادا کرنا حرام ہے

نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرنا حرام ہے، اور نماز کو اپنے وقت پر ادا کرنا واجب ہے، سوائے ان کے جنہیں دو نمازیں جمع کرنے کی اجازت ہو۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا (النساء: 103)
ترجمہ: ’’بے شک نماز اہلِ ایمان پر وقت مقررہ کے ساتھ فرض کی گئی ہے۔‘‘

اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے:
حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ (البقرة: 238)
ترجمہ: ’’نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیانی نماز کی، اور اللہ کے سامنے ادب و اطاعت سے کھڑے ہو۔‘‘

اور فرمایا:
فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا (مريم: 59)
ترجمہ: ’’پھر ان کے بعد ایسے ناخلف آئے جنہوں نے نماز ضائع کی اور خواہشات کے پیچھے پڑ گئے، سو وہ عنقریب گمراہی سے دوچار ہوں گے۔‘‘

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ’’غی‘‘ کے بارے میں کہا: یہ جہنم کی ایک وادی ہے جو بہت گہری اور بد بو دار ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا اگرچہ تمہیں کاٹ دیا جائے یا جلا دیا جائے، اور فرض نماز قصداً نہ چھوڑنا، کیونکہ جس نے قصداً نماز چھوڑی تو اللہ کی ذمہ داری سے بری ہو گیا، اور شراب نہ پینا، کیونکہ یہ ہر برائی کی کنجی ہے۔‘‘ (ابن ماجہ 4034، البانی نے اسے صحیح ابن ماجہ میں حسن کہا ہے)

پس اگر عشاء کی اذان تمہیں بس کے اندر سنائی دے رہی ہے -جیسے کہ آپ نے سوال میں ذکر کیا ہے-تو لازم ہے کہ سب سے پہلے مغرب کی نماز بس میں بیٹھنے سے پہلے ادا کر لو، یا پھر بس سے اتر کر وقت کے اندر نماز پڑھو۔ اور مغرب کی نماز کو مؤخر کرنے یا بس میں بیٹھ کر چھوڑنے سے  بچنا چاہیے، کیونکہ مغرب کا وقت بہت مختصر ہوتا ہے، اور راستے میں رکاوٹیں پیش آنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

لہٰذا ہر حال میں احتیاط اور سنجیدگی سے کام لینا ضروری ہے، اور مغرب کی نماز بس میں سوار ہونے سے پہلے ادا کرنی چاہیے، خواہ بظاہر یہ امید ہو کہ بس منزل پر عشاء کی اذان سے پہلے پہنچ جائے گی۔
تو پھر جب تمہارا حال یہ ہے کہ عشاء کی اذان ہو رہی ہے اور تم ابھی تک بس میں ہو، تو اس صورت میں نماز مؤخر کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے؟

دوم:نماز با جماعت ترک کرنے کے قابل قبول عذر

صحیح قول کے مطابق مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ہر اس شخص پر واجب ہے جو بالغ، عاقل اور اذان سننے کی استطاعت رکھتا ہو؛ اس موقف کے بہت سے دلائل ہیں جن میں سے کچھ  سوال نمبر: (120) اور (8918) میں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔

البتہ شریعت نے بعض عذر کی صورت میں جماعت ترک کرنے کی اجازت دی ہے، جیسے مال ضائع ہونے یا معیشت میں سخت نقصان کا اندیشہ ہو۔

’’الروض الندي، شرح كافي المبتدي‘‘ (ص 107) میں ہے:
’’جمعہ یا جماعت کو ترک کرنے کا عذر یہ ہے کہ کوئی اپنے مال کے ضائع ہونے یا تلف ہونے کا اندیشہ رکھتا ہو، یا رزق کے اسباب کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو، مثلاً پکی ہوئی روٹی یا سالن جلنے کا خدشہ، جانور بھاگ جانے کا خوف، یا اجرت پر مال کی حفاظت کا معاملہ۔‘‘ ختم شد

چنانچہ اگر کمپنی کی بس چھوڑنے کی صورت میں آپ کو مالی نقصان اٹھانا پڑے گا یا دوسری سواری کے لیے خرچ کرنا ہو گا تو یہ جماعت ترک کرنے کے لیے عذر ہے۔ لیکن اگر ممکن ہو تو بہتر ہے کہ بس میں بیٹھنے سے پہلے ہی جماعت سے نماز ادا کی جائے۔

البتہ نماز کو وقت کے بعد پڑھنا ہرگز جائز نہیں۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

نماز با جماعت

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android