جمعرات 12 ربیع الاول 1442 - 29 اکتوبر 2020
اردو

بالوں، بھنووں اور پلکوں کو پکے رنگ سے رنگنے کا حکم۔

سوال

میں بالوں، بھنووں اور پلکوں  کے رنگ کے بارے میں جاننا چاہتی ہوں کہ اگر یہ رنگ دائمی ہو کبھی بھی نہ اترے تو ان کا کیا حکم ہے؟کیا یہ اللہ تعالی کی تخلیق تبدیل کرنے کے زمرے میں آتا ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:
ایسے غیر مضر مادے سے بالوں اور بھنووں کو رنگنا جائز ہے جس  کا رنگ سیاہ نہ ہو جیسے کہ مہندی وغیرہ، اس بارے میں مزید جاننے کے لیے آپ سوال نمبر: (148664) کا جواب ملاحظہ کریں۔

جبکہ پلکوں کو سیاہ رنگ سے رنگنا جائز ہے، جیسے کہ اس کی وضاحت پہلے سوال نمبر: (148664) میں گزر چکی ہے۔

دوم:

اگر یہ رنگ دائمی اور پکے ہوتے ہیں  تو یہ اللہ تعالی کی تخلیق تبدیل کرنے کے زمرے میں آئیں گے، اس لیے یہ حرام ہوں گے۔

جیسے کہ قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:
"ان سب امور کے بارے میں احادیث گواہی دیتی ہیں کہ ایسے کام کرنے والے پر لعنت ہے، اور یہ کہ یہ عمل کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
تاہم اس بارے میں اختلاف ہے کہ کسی وجہ سے منع کیا گیا :
ایک موقف یہ ہے کہ: یہ دھوکا دہی میں شامل ہے۔
دوسرا موقف یہ ہے کہ: کیونکہ یہ اللہ تعالی کی تخلیق میں تبدیلی کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ موقف ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اور یہی موقف زیادہ صحیح  ہے، نیز اس موقف میں پہلا موقف بھی شامل ہے۔

پھر یہ بھی کہا گیا ہے کہ: یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب رنگ باقی رہے؛ کیونکہ رنگ دائمی ہونے کی وجہ سے  اللہ تعالی کی تخلیق میں تبدیلی شمار ہو گا، لیکن جو رنگ باقی نہ رہے جیسے کہ سرمہ اور دیگر بناؤ سنگھار میں استعمال کیے جانے والے رنگ تو علمائے کرام نے اس کی اجازت دی ہے" ختم شد
" تفسیر القرطبی " (5/393)

شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ:
"لوگوں میں یہ رواج پا چکا ہے خصوصاً خواتین میں کہ اپنی جلد کی رنگت تبدیل کرنے کے لیے کچھ کیمیائی   اور قدرتی جڑی بوٹیاں استعمال کرتی ہیں ، ان کیمیائی اور قدرتی جڑی بوٹیوں کے استعمال سے گندمی رنگت کی جلد بھی سفید ہو جاتی ہے، تو کیا اس میں کوئی شرعی ممانعت ہے؟ واضح رہے کہ بعض خاوند اپنی بیویوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ یہ کیمیائی اور قدرتی جڑی بوٹیاں استعمال کریں، اور وہ اس کے لیے دلیل یہ دیتے ہیں کہ بیوی پر اپنے خاوند کے لیے بناؤ سنگھار کرنا فرض ہے۔"

تو انہوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ:
"اگر جلد کی رنگت کی تبدیلی دائمی ہے تو یہ حرام ہے، بلکہ کبیرہ گناہوں میں شامل ہے؛ کیونکہ یہ گدوانے سے بھی زیادہ سنگین نوعیت کی اللہ تعالی کی تخلیق میں تبدیلی ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے صحیح ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے : بال ملانے والی اور بال ملوانے والی پر، گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔
جیسے کہ صحیح بخاری اور مسلم میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (اللہ تعالی نے گودنے والی اور گدوانے والی پر، بال اکھاڑنے والی اور اکھڑوانے والی پر، اور حسن  کے لیے دانتوں میں فاصلہ کروانے والی، نیز اللہ کی تخلیق میں تبدیلی پیدا کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ۔) ایک اور روایت میں ہے  کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: "مجھے کیا ہو گیا کہ اس کو لعنت نہیں کرتا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے لعنت نہیں فرمائی"
اس حدیث میں مذکور عربی لفظ: "الواصلة"سے مراد ایسی عورت ہے جس کے سر کے بال چھوٹے ہوں تو انہیں لمبے دکھانے کے لیے اس میں مزید بال شامل کرتی ہے یا بالوں جیسی کوئی چیز شامل کرتی ہے۔
"المستوصلة" مذکورہ بالا کام کرنے کا مطالبہ کرنے والی۔
"الواشمة" ایسی خاتون جو جلد گودنے کا کام کرے، یعنی سوئی وغیرہ سے جلد کرید کر اس میں سرمہ یا ایسی کوئی اور چیز بھر دے جس سے جلد کا رنگ کسی اور رنگ میں بدل جائے۔
"المستوشمة" اس سے مراد ایسی عورت جو جلد گودنے کا مطالبہ کرے۔

"والنامصة" ایسی خاتون جو بھنووں اور چہرے کے دیگر بال نوچ کر خود اتارے یا کسی سے اتروائے۔

"المتنمصة" ایسی خاتون جو اس کام کو کرنے کا کسی سے مطالبہ کرے۔

"المتفلجة" ایسی خاتون جو اپنے دانتوں کےد رمیان میں فاصلہ پیدا کرنے کا مطالبہ کرے، یعنی مطلب یہ ہے کہ: دانتوں کو گھسا کر دو دانتوں کے درمیانی فاصلے کو زیادہ کرے؛ [یہاں لعنت  اس لیے کی گئی ہے] کہ یہ اللہ تعالی کی تخلیق میں تبدیلی ہے۔

جبکہ سوال مذکور  میں چیز حدیث میں بیان کردہ چیزوں سے بھی بہت سنگین نوعیت کی ہے۔

تاہم اگر ان چیزوں کی رنگت میں تبدیلی عارضی ہو، دائمی نہ ہو تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے، جیسے کہ  مہندی وغیرہ تو اس کا حکم سرمہ لگانے اور گال یا ہونٹوں پر سرخی لگانے والا ہے۔

اس لیے اللہ تعالی کی تخلیق میں تبدیلی سے بالکل بچنا چاہیے، لوگوں کو بھی اس سے خبردار کرنا چاہیے تا کہ لوگوں میں ایسی چیزیں عام نہ ہوں اور پھر ان سے بچنا مشکل ہو جائے گا" ختم شد
" مجموع فتاوى شیخ ابن عثیمین" (17/ 20)

آپ رحمہ اللہ سے یہ بھی پوچھا گیا کہ:
"اب ایسی ادویات  بازار میں دستیاب ہیں کہ جن سے سانولی لڑکی کا رنگ بھی سفید ہو جاتا ہے، تو کیا ایسی ادویات استعمال کرنا، یا ان ادویات کو فروخت کرنا حرام ہے؟ کیا یہ اللہ تعالی کی تخلیق میں تبدیلی کے زمرے میں آئے گا؟"
تو انہوں نے جواب دیا:
"جی ہاں اگر ان ادویات سے رنگت میں دائمی تبدیلی آ جاتی ہے تو وہ حرام ہے؛ کیونکہ یہ گودنے کے حکم میں ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والی اور گودوانے  والی دونوں خواتین پر لعنت فرمائی ہے۔" ختم شد
"فتاوى نور على الدرب"

اس بارے میں مزید معلومات کے لیے آپ سوال نمبر: (99629) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب