جمعہ 18 ربیع الاول 1441 - 15 نومبر 2019
اردو

ایک کمپنی میں بطور پروگرامر کام کیا، لیکن کمپنی نے ادائیگی نہ کی، تو کیا ان کے پروگرام فروخت کر کے اپنا حق لے سکتا ہے؟

سوال

میں نے ایک کمپنی میں سافٹ وئیر ڈویلپر کی حیثیت سے ماہانہ تنخواہ پر کام کیا، چار سال بعد میں نے ان کے ساتھ کام کرنا چھوڑ دیا، اور مجھے میرے مکمل حقوق نہ ملے، حالانکہ وہ مجھ سے حقوق کی ادائیگی کا کئی بار وعدہ بھی کر چکے ہیں، اس کے بعد کمپنی کی جانب سے مجھے کہا گیا کہ جو پروگرامنگ میں نے پہلے کی تھی ان میں مزید کچھ اضافے کرنے ہیں اور اس کام کا الگ سے معاوضہ دیا جائے گا، اور سابقہ تمام تر مالی لین دین کا تصفیہ بھی کر دیا جائے گا۔ اور فطری بات ہے کہ ان مصنوعات اور سافٹ وئیرز کی ملکیت انہی کے پاس رہے گی۔ تو میں نے اپنی ڈوبی ہوئی رقوم بچانے کے لئے ان کی اس آفر کو قبول کر لیا ، پھر دس ماہ بعد میں نے انہیں کام بالکل اچھی طرح مکمل کر کے دے دیا تو انہوں نے میری کال کا جواب دینا ہی چھوڑ دیا! اس کے بعد مجھے علم ہوا کہ جس سافٹ وئیر کو میں نے تیار کیا تھا اور پھر اسے اپڈیٹ کیا تھا وہ فروخت ہو گیا ہے، اور اسے بہت سے پرائیویٹ اور سرکاری صارفین کے پاس نصب بھی کر دیا گیا ہے، اب تک بھی وہ اس سافٹوئیر کو فروخت کر رہے ہیں۔

میرا سوال یہ ہے کہ: انہوں نے معاہدے کی پاسداری نہیں کی، مزید یہ کہ انہوں نے میرے پیسے بھی نہیں دئیے، تو کیا ان سافٹوئیرز کی ملکیت میری ہو سکتی ہے؟ کہ دوران ملازمت میں نے جو کام بھی کیا تھا اسے بیچنا شروع کر دوں اور منافع کماؤں، کیا یہ میرے لیے حلال ہو گا؟

جواب کا متن

الحمدللہ:

جب کوئی ملازم کسی کمپنی میں بطور سافٹ وئیر ڈویلپر کام کرے تو اس کے تیار کر دہ سافٹ وئیرز کی ملکیت کمپنی کی ہو گی، تاہم ملازم اپنا معنوی حق اس طرح سے طلب کر سکتا ہے کہ سافٹ وئیر کی تیاری میں اپنا نام اور کام ذکر کرنے کی شرط لگا لے۔

اگر کمپنی آپ کو مکمل حقوق دینے کا وعدہ نہیں نبھاتی ، اس کے بعد اضافی معاوضے کے بدلے آپ نے سافٹ وئیر کو اپڈیٹ بھی کیا، لیکن کمپنی نے آپ کو پھر بھی کچھ نہ دیا تو یہ سب کچھ کمپنی کے ذمہ قرض ہو گا، اس لیے آپ شرعی اور جائز طریقوں سے اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے کوشش کر سکتے ہیں، انہی میں یہ بھی شامل ہے کہ آپ ان پر دعوی دائر کر دیں۔

جبکہ ان پروگراموں کی ملکیت اس کمپنی کے نام ہی رہے گی، کمپنی کی جانب سے حقوق کی ادائیگی میں ٹال مٹول کی بنا پر ملکیت آپ کی طرف منتقل نہیں ہو سکتی۔

تاہم اگر آپ شرعی طور پر جائز طریقوں سے اپنے حقوق حاصل نہیں کر پاتے تو آپ کے لئے اتنی مقدار میں پروگرام بیچنا جائز ہے جن سے آپ کے حقوق آپ کو مل جائیں، اس سے زیادہ نہیں بیچ سکتے، اس طریقہ کار کو اہل علم کے ہاں "مسألة الظفر" کہتے ہیں۔ ساتھ میں یہ بھی شرط ہے کہ آپ اپنے آپ کو چوری کا الزام لگنے سے بھی محفوظ رکھیں۔

ابن ملقن رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"جس کا کسی پر کوئی حق ہو، اور اس میں اتنی استطاعت نہ ہو کہ وہ اپنا حق وصول کر سکے، تو مدعی کے لئے جائز ہے کہ اپنے حق کے برابر مال اس [مماطل] کے مال میں سے بغیر اجازت اور پوچھے رکھ لے۔ یہ امام شافعی اور ان کے شاگردوں کا موقف ہے، اس کو "مسألة الظفر" کہتے ہیں ۔ "

جبکہ امام مالک اور امام ابو حنیفہ دونوں نے اس سے منع کیا ہے، امام نووی نے ان دونوں کا موقف شرح صحیح مسلم میں ذکر کیا ہے۔

قرطبی کہتے ہیں کہ: امام مالک کا مشہور موقف یہی ہے۔

امام نووی کے علاوہ دیگر نے امام ابو حنیفہ کا یہ موقف ذکر کیا ہے کہ:
"وہ [مدعی ] شخص اپنے حق کی جنس ہی لے کوئی اور چیز نہ لے، ہاں البتہ درہم کی جگہ دینار لے سکتا ہے اور دینار کی جگہ درہم لے سکتا ہے۔"

امام احمد سے یہ منقول ہے کہ: وہ نہ تو اپنے حق والی جنس لے سکتا ہے اور نہ کوئی اور چیز۔

امام مالک سے یہ منقول ہے کہ: اگر اس مقروض شخص پر کسی اور مدعی کا حق نہ ہو تو وہ کوئی بھی جنس لے سکتا ہے، اور اگر اس مقروض پر اِس مدعی کے علاوہ کسی اور شخص کا بھی حق ہے تو صرف وہی لے جو اس کا حصہ بنتا ہے۔

مازری رحمہ اللہ نے امام مالک سے تین موقف ذکر کئے ہیں:

تیسرا موقف یہ ہے کہ: [مدعی]شخص اپنے حق کی جنس کے مطابق کوئی چیز پا لے تو وہ لے لے، بصورت دیگر نہ لے" ختم شد
"الإعلام بفوائد عمدة الأحكام" (10/ 17)

اس مسئلے کی تفصیلات بمع شرائط پر سوال نمبر: (171676) کے جواب میں پہلے گزر چکی ہیں۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں