سب انبیائے کرام بشر ہیں۔

سوال: 311269

اللہ تعالی کی حکمت ہے کہ اللہ تعالی نے تمام انبیائے کرام کو کھانے اور پینے والے بشر بنایا، نیز ان کی ذات کو کسی بھی قسم کے عیب سے پاک رکھا جیسے کہ برص اور جذام وغیرہ تا کہ وہ ساری انسانیت کے لیے عملی نمونہ بن سکیں، اور احکامات کی صحیح انداز سے وضاحت کر سکیں، لیکن کیا یہ درست ہے کہ انبیائے کرام کی بشر ہونے کے ناتے ہوا بھی خارج ہوتی ہو، یہ بھی اس لیے ہو کہ ان جیسے امور کے لیے بھی شرعی حکم واضح ہو سکے؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:

تمام انبیائے کرام کی بشریت، اور نبیوں کو بھوک اور بیماری سمیت بے وضگی کا معاملہ ایسا ہے کہ اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے، اور ان مسائل پر قرآن کریم کی واضح صراحت موجود ہے، چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے:
مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ كَانَا يَأْكُلَانِ الطَّعَامَ انْظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْآيَاتِ ثُمَّ انْظُرْ أَنَّى يُؤْفَكُونَ
ترجمہ: مسیح بن مریم صرف رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں، ان کی والدہ سچی ہیں، وہ دونوں ہی کھانا کھاتے تھے۔ آپ دیکھیں کہ ہم ان کے لیے کس طرح آیات واضح کھول کر بیان کرتے ہیں، پھر بھی دیکھیں وہ کہا بہکائے جاتے ہیں۔ [المائدۃ: 75]

اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے:
قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِنْ نَحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَمَا كَانَ لَنَا أَنْ نَأْتِيَكُمْ بِسُلْطَانٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
ترجمہ: ان سے ان کے رسولوں نے کہا: ہم تمہارے جیسے بشر ہی ہیں، البتہ اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنا احسان فرماتا ہے، لیکن ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ ہم تمہارے پاس کوئی معجزہ لے آئیں، الا کہ اللہ کے اذن سے۔ اہل ایمان کو اللہ تعالی پر ہی بھروسا کرنا چاہیے۔ [ابراہیم: 11]

ایک اور مقام پر فرمایا:
قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ وَوَيْلٌ لِلْمُشْرِكِينَ
ترجمہ: کہہ دیجیے میں تمہارے جیسا بشر ہی ہوں ، میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ یقیناً تمہارا الٰہ ایک ہی معبود ہے، لہذا اسی کی جانب استقامت اختیار کرو، اور اسی سے بخشش طلب کرو، اور مشرکوں کے لیے ہلاکت ہے۔ [فصلت: 6]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"انبیائے کرام کو بیماری، بھوک اور بھول وغیرہ جیسے انسانی عارضے لاحق ہو سکتے ہیں، یہ بالاجماع موقف ہے۔" ختم شد
"الرد على البكري" (1/ 306)

"سب کے سب انبیائے کرام دیگر انسانوں کی طرح بشر ہیں، انہیں وہ تمام عوارض کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو بشر کو لاحق ہوتے ہیں، چنانچہ انہیں بیماری، بھوک، اور بھول جیسے انسانی عوارض لاحق ہوتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِنْ نَحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ
ترجمہ: ان سے ان کے رسولوں نے کہا: ہم تمہارے جیسے بشر ہی ہیں، البتہ اللہ تعالی اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنا احسان فرماتا ہے ۔ [ابراہیم: 11]

ایسے ہی اللہ تعالی نے سیدنا ایوب علیہ السلام کے متعلق فرمایا: وَاذْكُرْ عَبْدَنَا أَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ ترجمہ: اور ہمارے بندے ایوب کا تذکر کر، جب اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ: مجھے شیطان نے بہت دکھ اور تکلیف پہنچائی ہے۔ [ص: 41]

ایک اور مقام پر سیدنا ایوب علیہ السلام کی بیماری کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ترجمہ: اور ایوب کا تذکرہ کر، جب اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تیری ذات ارحم الراحمین ہے۔[الانبیاء: 83]

ایسے ہی اللہ تعالی نے انبیائے کرام کے بارے میں بتلایا کہ ان کی بیویاں بھی ہیں اور اولاد بھی ہے، چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے:
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلاً مِّن قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً
ترجمہ: اور یقیناً ہم نے آپ سے پہلے رسولوں کو بھیجا اور ہم نے ان کی بیویاں اور اولاد بھی بنائی۔ [الرعد: 38]

بلکہ یہ بھی بتلایا کہ انبیائے کرام اور رسول کھانا بھی کھاتے تھے اور تلاش معاش کرے لیے بازار میں بھی نکلتے تھے، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے:
وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ المُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الأَسْوَاقِ
ترجمہ: اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے وہ سب کے سب کھانا بھی کھاتے تھے اور تلاش معاش کے لیے بازاروں میں بھی چلتے تھے۔[الفرقان: 20]

ایسی ہی آدم علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ انہیں بھول لگ گئی تھی، چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے:
وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آَدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا ترجمہ: اور یقیناً ہم نے آدم علیہ السلام سے پہلے وعدہ لیا ، لیکن آدم کو بھول لگ گئی، ہم نے اس میں غلطی کا عزم نہ پایا۔ [طہ: 115]

ایسے ہی اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام اور ان کے خادم کے متعلق فرمایا:
فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا ترجمہ: پس جب وہ دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچے تو دونوں ہی اپنی مچھلی بھول گئے۔ [الکھف: 61]

تو ان تمام صفات سے انبیائے کرام کی بشریت کی صفات واضح ہوتی ہیں، نیز اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ انہیں وہ کچھ ہو سکتا ہے جو دیگر بشر کو ہوتا ہے، البتہ یہ فرق ہے کہ ان کی طرف وحی کی جاتی ہے، جیسے کہ اللہ تعالی نے اپنے نبی کی زبانی ہمارے سامنے تذکرہ کروایا کہ: قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ ترجمہ: کہہ دیجیے کہ میں تمہارے جیسا بشر ہو، میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ [الکھف: 110]

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے بارے میں فرمایا: (یقیناً میں تمہارے جیسا بشر ہوں، جیسے تمہیں چیزیں یاد رہتی ہیں مجھے بھی یاد ہوتی ہیں، اور جس طرح تمہیں بھول لگ جاتی ہے اسی طرح مجھے بھی بھول لگ جاتی ہے۔) اسے مسلم: (572) نے روایت کیا ہے۔ " ختم شد
"الموسوعة العقدية" (4/ 39)

دوم:
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ جب سارے رسول بشر ہیں تو ان میں بھی وہ صفات پائی جائیں جو بشر سے کسی صورت الگ نہیں ہوتیں، جو کہ درج ذیل ہیں: کھانا، پینا، سونا، نکاح کرنا، اولاد پیدا ہونا وغیرہ، نیز انہیں بھی کھانے پینے کی ان تمام چیزوں کی ضرورت رہتی ہے جو ایک انسان کے لیے ضروری ہیں، اسی طرح وہ بھی انسانوں کی طرح چھوٹی بڑی ناپاکی کا شکار ہوتے ہیں؛ کیونکہ یہ کھانے اور پینے کے لازمی نتائج سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالی کا فرمان ہے: وَمَآ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلاّ رِجَالاً نّوحِيَ إِلَيْهِمْ فَاسْئَلُوَاْ أَهْلَ الذّكْرِ إِن كُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَداً لاّ يَأْكُلُونَ الطّعَامَ وَمَا كَانُواْ خَالِدِينَ ترجمہ: اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے سب ہی مرد تھے ہم نے ان کی طرف وحی کی ، اگر تمہیں علم نہ ہو تو اہل ذکر سے پوچھ لو۔ اور ہم نے انہیں ایسے جسم نہیں بنایا تھا کہ وہ کھاتے نہ ہوں اور نہ ہی وہ ہمیشہ رہنے والے تھے۔ [الانبیاء: 7 - 8]

اسی طرح انبیائے کرام کے ہاں بھی اولاد ہوئی جیسے کہ انسانوں کے ہاں اولاد ہوتی ہے، ان کے باپ اور مائیں، چچا اور پھوپھیاں ، ماموں اور خالائیں بھی تھیں، ان کی شادیاں بھی ہوئیں اور اولاد بھی ہوئی، اسی لیے فرمایا: وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلاً مّن قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجاً وَذُرّيّةً ترجمہ: یقیناً ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے اور ہم نے ان کی بیویاں اور اولاد بھی بنائی ۔[الرعد: 38]

تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انہیں بول و براز سمیت دیگر انسانی ضروریات کی حاجت بھی ہو۔

پھر طہارت اور وضو سے متعلق مسائل پر مشتمل احادیث کی شہرت اتنی ہے کہ انہیں ذکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔

ویسے چند ایک ذکر کرتے ہیں: صحیح مسلم: (271) میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قضائے حاجت کے لیے جاتے تو میں پانی لے کر آتا، اور آپ اس سے اپنا جسم دھوتے۔

اسی طرح صحیح بخاری: (156) میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، تو مجھے تین پتھر لانے کا کہا، تو مجھے دو پتھر ملے، میں نے تیسرے کی تلاش کی تو مجھے نہیں ملا، تو میں لید لے آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پتھر پکڑ لیے، اور لید پھینک دی۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android