جمعرات 13 صفر 1442 - 1 اکتوبر 2020
اردو

اگر نمازوں کے اوقات کار کیلنڈر نماز فجر اور مغرب کا الگ الگ وقت متعین کرتے ہوں تو پھر نماز اور روزے کے لیے محتاط موقف اپنایا جائے گا۔

311727

تاریخ اشاعت : 17-04-2020

مشاہدات : 810

سوال

میں اس وقت فن لینڈ میں ہوں، یہاں پر نماز کے لیے متفقہ کیلنڈر موجود نہیں ہے، تو اس لیے مجھے ایک سے زیادہ اداروں کی جانب سے شائع کیے گئے نمازوں کے اوقات کار تلاش کرنے پڑے، اور پھر میں نے ایسے نمازوں کے اوقات کار کو ایک طرف کر دیا جو دیگر کیلنڈروں کے متفقہ وقت سے متصادم تھے،  یعنی میرا مطلب یہ ہے کہ جب کسی ایک ادارے کے شائع کردہ کیلنڈر میں نماز فجر کا وقت یہ بتلایا گیا کہ تین بجے کے بعد ہے، اور دیگر تمام  کیلنڈر اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ نماز فجر کا وقت تین بجے صبح سے پہلے ہوتا ہے؛ تو چونکہ معاملہ روزے کا ہے تو اس لیے میں نے محتاط وقت کو اپنایا، اور محتاط وقت کیلنڈر شائع کرنے والے اداروں میں سے کم نے بتلایا ہے،  اس کے ساتھ ساتھ میں نے مغرب کی اذان کے وقت کے بارے میں بھی خیال کیا ہے، چنانچہ جس کیلنڈر کو میں نے فجر کے وقت  کے لیے معتبر نہیں سمجھا مغرب کے وقت کے لیے وہ  دیگر کیلنڈروں سے تاخیر کے ساتھ مغرب کا وقت بتلاتا ہے، اس لیے مغرب کے لیے احتیاطی موقف کو اپناتے ہوئے میں ان شاء اللہ اسی پر اعتماد کروں گا۔

اب سوال یہ ہے کہ: جو احتیاطی تدابیر میں نے اختیار کی ہیں کیا  یہ قابل قبول ہیں؟ نیز اس سے بھی زیادہ اہم سوال وہ یہ ہے کہ  اگر فجر کی اذان کے لیے میں جلدی والا وقت معتبر سمجھتا ہوں  تو کیا میں اسی وقت میں نماز فجر پڑھ سکتا ہوں؟ یا پھر میں اس وقت کا انتظار کروں جسے میں نے سحری کے لیے غیر معتبر قرار دیا ہے،  واضح رہے کہ اگر میں انتظار کرتا ہوں تو پھر میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہو جاؤں گا کہ کیسے سحری کے لیے الگ وقت ہو اور نماز فجر کے لیے الگ وقت،  کیونکہ پھر میرے ذہن میں یہ احساس پیدا ہو گا کہ فجر کے متاخر وقت کے مطابق پہلے وقت پر سحری سے رک گیا ہوں تو اس میں غلطی کا امکان موجود ہے، یعنی مطلب یہ ہے کہ : میں آخر کار اس نتیجے پر پہنچوں گا کہ نماز کے معتبر وقت سے پہلے سحری سے رک جانا  جائز نہیں ہے۔!

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

نمازوں کے اوقات شریعت نے بالکل واضح طور پر بیان کر دئیے ہیں، لہذا ان اوقات کا تعلق حسی طور پر نظر آنے والے امور کے ساتھ ہے، ان چیزوں کو ہر انسان دیکھ کر یا غور و فکر کر کے پہچان سکتا ہے۔

لہذا شریعت کے مطابق نماز فجر کا وقت فجر صادق کے طلوع ہونے سے شروع ہوتا ہے، اور فجر صادق کی روشنی افق میں دائیں اور بائیں جانب  پھیل جاتی ہے۔

اسی طرح ظہر کا وقت زوال کے  بعد سے شروع ہو جاتا ہے، یعنی جس وقت سورج آسمان کے درمیان سے مغرب کی جانب ڈھل جائے، اس چیز کا اندازہ کسی بھی چیز کے سائے کے بڑھنے سے لگایا جا سکتا ہے؛ کیونکہ زوال سے پہلے سایہ گھٹتا ہے، اور زوال کے فوری بعد سایہ بڑھنے لگتا ہے۔

جب کہ عصر کا وقت اس وقت شروع ہو جاتا ہے جب ہر چیز کا سایہ زوال کا سایہ نکالنے کے بعد اس کی لمبائی کے برابر ہو جائے۔

اسی طرح مغرب کا وقت  سورج کی پوری ٹکیہ زمین سے غائب ہو جانے سے شروع ہوتا ہے۔

اس بارے میں امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"سورج کی مکمل ٹکیہ کا  غائب ہو جانا معتبر ہے۔۔۔، لہذا ٹکیہ جب مکمل طور پر غائب ہو جائے تو اس کی روشنی اور شعاعیں باقی رہنے  کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اس لیے اگر روشنی اور شعاعیں باقی بھی ہوں تو  مغرب کا وقت شروع ہو جائے گا۔ " ختم شد
" المجموع " (3/33)

اور عشا کی نماز کا وقت افق میں سرخی غائب ہونے سے شروع ہو گا۔

نماز کے اوقات کے متعلق مزید جاننے کے لیے آپ سوال نمبر: (9940) کا جواب ملاحظہ کریں۔

دوم:

جس شخص میں نمازوں کے اوقات پہچاننے کی استطاعت نہ ہو تو ایسا شخص وقت پہچاننے والے شخص کی بات پر عمل کرے گا، اسی میں کیلنڈروں پر عمل بھی شامل ہے۔

چنانچہ اگر کبھی کیلنڈروں میں بتلائے گئے اوقات  میں اختلاف نظر آئے تو پھر محتاط موقف پر عمل کیا جائے گا۔

جیسے کہ مالکی فقیہ شہاب الدین مکی  رحمہ اللہ "إرشاد السالك" (1/13) میں کہتے ہیں کہ:
"جس شخص کو نماز کا وقت شروع ہونے کے متعلق شک ہو تو وہ اس وقت تک نماز نہ پڑھے جب تک نماز کے وقت کے متعلق یقین نہیں ہو جاتا، یا اسے نماز کا وقت شروع ہونے کا غالب گمان نہیں ہو  جاتا۔" ختم شد

اس لیے آپ روزے کے متعلق بھی محتاط موقف اپنائیں کہ  سحری کے لیے پہلے وقت بتلانے والے کیلنڈر کو معتبر سمجھیں، اور نماز فجر کے لیے محتاط موقف اپناتے ہوئے تاخیر سے وقت بتلانے والے کیلنڈر کو معتبر سمجھیں، یا اس سے  بھی مزید تاخیر سے نماز پڑھیں، اس لیے طرح آپ کو اپنے روزے اور نماز کے صحیح  ہونے کا یقین ہو جائے گا۔

اسی طرح نماز مغرب کے لیے محتاط موقف اپناتے ہوئے سب سے تاخیر والے کیلنڈر کو معتبر سمجھیں۔

اور اگر آپ یہ کریں کہ کہیں کھلی اور برابر زمین پر چلے جائیں اور وہاں جا کر غروب آفتاب کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ سورج کی مکمل ٹکیہ کس وقت غروب ہو رہی ہے، تو اس سے آپ تمام تر کیلنڈروں کے بارے میں دیکھ سکتے ہیں کہ کون سا کیلنڈر صحیح ہے؛ کیونکہ نماز مغرب کا وقت پہچاننا فجر کا وقت پہچاننے کی بہ نسبت آسان ہے۔

اور اس میں کوئی اشکال والی بات نہیں ہے کہ آپ فجر کے لیے دو وقت معتبر سمجھیں، ایک سحری کے لیے اور ایک نماز فجر کے لیے؛ کیونکہ جس شخص کو صحیح وقت کا یقینی علم نہیں ہے اس  کے لیے یہی محتاط عمل ہے۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب