ہفتہ 3 ذو الحجہ 1443 - 2 جولائی 2022
اردو

کیا سعی کے بعد 2 رکعت پڑھنا مسنون ہے؟

314133

تاریخ اشاعت : 22-06-2022

مشاہدات : 121

سوال

حج یا عمرے کے دوران سعی کے بعد 2 رکعت نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب کا خلاصہ

سعی کے بعد دو رکعت نماز ادا کرنا مسنون نہیں ہے، نہ ہی اس حوالے سے سعی کو طواف پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

سعی کے بعد دو رکعت نماز ادا کرنا مسنون نہیں ہے، البتہ فقہائے احناف نے اسے مستحب قرار دیا ہے۔

چنانچہ ابن ہمام رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"سعی سے فراغت کے بعد مستحب ہے کہ حرم میں داخل ہو کر دو رکعت نماز ادا کرے تا کہ سعی کا اختتام بھی طواف کی طرح ہی ہو، بالکل ایسے ہی جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے کہ سعی کا آغاز بھی طواف کے آغاز کی طرح حجر اسود کے استلام سے ہوتا ہے۔
لیکن یہاں اس قیاس کی بھی ضرورت نہیں ہے؛ کیونکہ یہاں نص موجود ہے، جو کہ مطلب بن ابو وداعہ سے منقول ہے، وہ کہتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اس وقت دیکھا جب آپ سعی سے فارغ ہوئے تو آپ حرم میں تشریف لائے اور رکن یمانی کے سامنے پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مطاف کے کنارے پر دو رکعت نماز ادا کی آپ صلی اللہ علیہ و سلم اور طواف کرنے والوں کے درمیان کوئی بھی نہیں تھا۔ اس حدیث کو احمد، ابن ماجہ اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ " ختم شد
"فتح القدیر" (2/ 460)

 اس حدیث کو دلیل بنانا دو اعتبار سے غلط ہے:

پہلی وجہ: روایت کے الفاظ { حين فرغ من سُبُعه } ہیں، نا کہ { سعيه} اور {سُبُعه } کا مطلب ہے طواف کا ساتواں چکر۔

جیسے کہ سنن نسائی: (2959) اور ابن ماجہ: (2985) میں مطلب بن ابو وداعہ کہتے ہیں: (میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا جب آپ اپنے طواف کے ساتویں چکر سے فارغ ہوئے تو مطاف کے کنارے پر پہنچے اور دو رکعت نماز ادا کی، آپ کے اور طواف کرنے والوں کے درمیان کوئی بھی نہیں تھا۔)

پھر اسی روایت کے عربی الفاظ میں طواف کے الفاظ کی صراحت ابن خزیمہ: (815) اور ابن حبان: (2363) میں موجود ہے کہ مطلب بن ابو وداعہ کہتے ہیں: (میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا جب آپ اپنے طواف سے فارغ ہوئے تو مطاف کے کنارے پر پہنچے اور دو رکعت نماز ادا کی، آپ کے اور طواف کرنے والوں کے درمیان کوئی بھی نہیں تھا۔)

دوسری وجہ: یہ روایت ضعیف ہے۔

چنانچہ البانی رحمہ اللہ "تمام المنة" ، ص303 میں کہتے ہیں:
"مذکورہ حدیث ضعیف ہے؛ کیونکہ یہ کثیر بن کثیر بن مطلب کی روایت ہے، اور ان سے آگے سند میں اختلاف ہے، چنانچہ ابن عیینہ کہتے ہیں:
کثیر بن کثیر سے اور وہ اپنے گھر کے کسی فرد سے اور انہوں نے اس کے دادا مُطلِب سے سنا۔

جبکہ ابن جریج کہتے ہیں: مجھے یہ روایت کثیر بن کثیر نے وہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں۔" ختم شد

علامہ اعظمی ابن خزیمہ کی تحقیق میں لکھتے ہیں:
"اس کی سند ضعیف ہے؛ ساتھ ہی ابن جریج مدلس راوی ہیں اور انہوں نے یہ روایت عن سے بیان کی ہے، نیز اس کی سند میں بھی کافی اختلاف ہے جس کی تفصیل کے لیے یہاں جگہ نہیں ہے۔" ختم شد

تاہم اس حدیث کو شعیب ارنؤوط نے ابن حبان کی تحقیق میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ:

سعی کے بعد دو رکعت نماز ادا کرنا مسنون نہیں ہے، نہ ہی اس حوالے سے سعی کو طواف پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب