اول:
پہلے سوال نمبر (6714) کے جواب میں یہ بات گزر چکی ہے کہ مسلمان کے لیے کافر پر قرآن یا دیگر اذکار و دعاؤں کے ساتھ دم کرنا جائز ہے، اور اس پر فقہا کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔
اور بچھو کے ڈسے‘‘ والے واقعے کی روایات کے ظاہر الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ لوگ کافر تھے۔ (فتح الباری 4/456)
دوم:
یہ بات فرمانِ باری تعالی: وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا (الإسراء: 82)ترجمہ: ’’اور ہم قرآن وہ اتارتے ہیں جو مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے، اور ظالموں کو یہ اور نقصان ہی دیتا ہے۔‘‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَئِكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ (فصلت: 44)ترجمہ: ’’کہہ دو: یہ ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے، اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور یہ ان پر اندھا پن ہے۔ وہ ایسے ہیں جیسے کسی دور جگہ سے پکارے جائیں۔‘‘ کے خلاف نہیں، کیونکہ قرآن کا شفا ہونا دو طرح پر ہے:
الف: دل کا شفا پانا: یعنی دل کو خواہشات اور شبہات کی بیماریوں سے پاک کرنا۔ اس سے وہ کافر فائدہ نہیں اٹھا سکتا جو اپنے کفر پر قائم ہے۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ (یونس: 57)
ترجمہ: ’’اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی ہے اور وہ دلوں کے امراض کے لیے شفا ہے اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔‘‘
ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ یعنی شبہات اور شکوں کو دور کرتا ہے اور ان کے دلوں سے میل کچیل صاف کرتا ہے۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر 4/274)
شیخ عبدالرحمن السعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’یہ قرآن وہی ہے جو دلوں کے امراض کے لیے شفا ہے، ان بیماریوں کے لیے بھی جو شہوات کی وجہ سے انسان کو شریعت کے تابع ہونے سے روکتی ہیں، اور ان بیماریوں کے لیے بھی جو شبہات کی صورت میں یقینی علم کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ بے شک اس قرآن میں جو نصیحتیں، ترغیب و ترہیب، وعدہ و وعید موجود ہیں، وہ بندے کے دل میں خیر کی رغبت اور شر سے ڈر پیدا کرتے ہیں۔ جب قرآن کے معانی دل پر بار بار وارد ہوتے ہیں، تو اس کے نتیجے میں بندے کے اندر خیر کی طرف رغبت اور برائی سے ڈر و خوف بڑھتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنی خواہشات پر مقدم کر دیتا ہے، اور جو چیز اللہ تعالیٰ کو پسند ہو وہی اس کے لیے اپنی نفس کی خواہش سے زیادہ محبوب بن جاتی ہے۔ اسی طرح قرآن میں جو دلائل اور مضبوط براہین ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے نہایت عمدگی سے بیان فرمایا اور پوری وضاحت کے ساتھ پیش کیا، وہ دل میں پیدا ہونے والے شبہات کو زائل کر دیتے ہیں، اور انسان کے دل کو یقین کے بلند ترین مرتبے تک پہنچا دیتے ہیں۔ چنانچہ جب دل اپنے امراض سے پاک ہو جائے اور روحانی صحت و عافیت سے آراستہ ہو جائے، تو اس کے اثر سے سارا جسم درست ہو جاتا ہے، کیونکہ اعضاء کی اصلاح دل کی اصلاح پر موقوف ہے، اور جب دل بگڑ جائے تو اعضاء بھی بگڑ جاتے ہیں۔ ‘‘ختم شد
تفسیر السعدی (ص 367)
ب: جسم کا شفا پانا: یعنی قرآن سے دم کرنا اور علاج کرنا۔ اس سے مسلمان بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور کافر بھی، جیسا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے جس میں انہوں نے ایک کافر قبیلے کے بچھو کے ڈسے ہوئے شخص پر سورۃ الفاتحہ پڑھ کر دم کیا تھا اور وہ صحت یاب ہو گیا۔
البتہ یہ بات یقینی ہے کہ اس سے مومن کا فائدہ کافر کے فائدے سے زیادہ اور مکمل ہوتا ہے۔
واللہ اعلم