ذوالنون (یونس علیہ السلام) کی دعا کے ذریعے دعا کرنا

2

سوال 318430

ذوالنون علیہ السلام کی دعا کے ذریعے کیسے دعا کی جائے؟ یعنی کیا میں پہلے ’’ لا إله إلا أنت ۔۔۔ ‘‘ پڑھوں، پھر اپنی حاجت ذکر کروں، یا صرف یہی دعا اپنی حاجت کی نیت سے پڑھ لینا کافی ہے؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (ذوالنون کی دعا، جب انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں دعا کی تھی: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ’’ تیرے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں، تو پاک ہے؛ یقیناً میں ہی ظالموں میں سے تھا۔‘‘کوئی مسلمان اس کے ذریعے کسی بھی معاملے میں دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا لازمی قبول فرماتا ہے۔)
اسے سنن الترمذی (3505) اور امام احمد نے ’’المسند‘‘ (3/65) میں روایت کیا ہے، اور مسند احمد کے محققین نے اسے حسن کہا ہے، جبکہ شیخ البانی نے ’’صحیح الترغیب والترہیب‘‘ (2/282) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

یہ دعا قرآن مجید میں بھی وارد ہوئی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
’’اور ذوالنون (یونس علیہ السلام) کو یاد کیجیے جب وہ غصے کی حالت میں چلے گئے اور انہوں نے گمان کیا کہ ہم ان پر گرفت نہیں کریں گے، پھر انہوں نے اندھیروں میں پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا‘‘
فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ
’’تو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں غم سے نجات دی، اور ہم اسی طرح مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔‘‘ (الأنبیاء: 87-88)

شیخ عبد الرحمن السعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’پس انہوں نے ان اندھیروں میں پکارا: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ، اس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کامل الوہیت کا اقرار کیا، اسے ہر نقص، عیب اور آفت سے پاک قرار دیا، اور اپنے نفس کے ظلم اور گناہ کا اعتراف کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فَلَوْلا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ ، لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ ’’اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو اٹھائے جانے کے دن قیامت تک اسی کے پیٹ میں رہتے‘‘، اسی لیے یہاں فرمایا: فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ یعنی ہم نے اس کی دعا قبول کرتے ہوئے اس سختی سے نجات دی جس میں وہ مبتلا ہوئے تھے۔ پھر فرمایا: وَكَذَلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔ یہ ہر اس مومن کے لیے وعدہ اور خوشخبری ہے جو کسی تنگی اور غم میں مبتلا ہو، کہ اللہ تعالیٰ اسے اس سے نجات دے گا، اس کی تکلیف دور کرے گا اور اس میں آسانی فرمائے گا، اس کے ایمان کی وجہ سے، جیسے اللہ تعالی نے یونس علیہ السلام کے ساتھ کیا‘‘ ختم شد
ماخوذ از: تفسیر سعدی، ص :(529)

حدیث کے ظاہر سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس دعا کو خشوع اور دل کی عاجزی کے ساتھ مسلسل پڑھتے رہنا، اور یہ نیت رکھنا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کی حاجت پوری فرمائے گا، یہی کافی ہے، اور اپنی حاجت کا الگ سے ذکر کرنا ضروری نہیں؛ کیونکہ اسے ’’دعا‘‘ کہا گیا ہے، نیز اس دعا کے کرنے والے کو اپنی حاجت ذکر کرنے کی کوئی خاص ہدایت نہیں دی گئی۔

امام قرطبی رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں:
’’اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے:  لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ، وَرَبُّ الْأَرْضِ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ’’اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، جو نہایت عظمت والا، بڑا بردبار ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، جو عرشِ عظیم کا رب ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، جو آسمانوں کا رب، زمین کا رب، اور عرشِ کریم کا رب ہے۔‘‘)
امام طبری کہتے ہیں: سلف صالحین اس دعا کے ساتھ دعا کیا کرتے تھے اور اسے ’’دعاء الکرب‘‘ (تکلیف کے وقت کی دعا) کہتے تھے۔
اگر یہ کہا جائے کہ اسے دعا کیوں کہا جاتا ہے، حالانکہ اس میں دعا کا معنی (یعنی طلب) موجود نہیں، بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس کی حمد و ثنا ہے؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسے دو وجہوں سے دعا کہا جاتا ہے:
پہلی وجہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ دعا کی ابتدا کی جاتی ہے، پھر اس کے بعد آدمی دعا کرتا ہے۔ اور بعض روایات میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں: (پھر وہ دعا کرتا ہے)۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ سفیان بن عیینہ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (جب میرا بندہ میری تعریف میں مشغول ہو کر مجھ سے سوال نہ کرے تو میں اسے سوال کرنے والوں سے بھی بہتر عطا کرتا ہوں!)
اور امیہ بن ابی الصلت نے کہا ہے:
’’اگر کوئی شخص کسی دن تیری تعریف کرے … تو پھر اسے تجھ سے الگ سے کچھ مانگنے کی ضرورت نہیں رہتی۔‘‘
میں کہتا ہوں: یہ بہت عمدہ توجیہ ہے، اور اس کی تکمیل یہ ہے کہ ایسا دو نکتوں کی بنا پر ہوتا ہے:
پہلا یہ کہ جس کی تعریف کی جا رہی ہو اس کا کرم؛ کیونکہ جب وہ صرف تعریف پر اکتفا کر لے اور سوال نہ کرے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے لیے عطا کرنا آسان ہے اور یہ اس کے کرم کی انتہا ہے۔
دوسرا یہ کہ تعریف کرنے والے نے اپنی ضرورت (یعنی سوال) پر اس ذات کے حق (یعنی اس کی حمد و ثنا) کو ترجیح دی، تو اس کے بدلے میں اس کی حاجت فوراً پوری کر دی جاتی ہے، بغیر اس کے کہ اسے سوال کی ذلت ظاہر کرنے کی ضرورت پڑے؛ یہ اس کے اس ایثار کا بدلہ ہوتا ہے۔ واللہ اعلم
اور وہ چیزیں جنہیں صراحت کے ساتھ دعا کہا گیا ہے، حالانکہ ان میں نہ دعا (طلب) ہے اور نہ کوئی سوال، وہ روایت ہے جسے نسائی نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ذوالنون کی دعا …)‘‘ [تو اس حدیث میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان الفاظ کو دعا کہا ہے۔ مترجم] ختم شد
یہ اقتباس ’’المفهم‘‘ (7/56-57) سے مکمل ہوا

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ : مچھلی والے (یونس علیہ السلام) اور ان جیسے لوگوں کے لیے خبر اور وصف کے انداز میں دعا کرنا (یعنی ’’لا إله إلا أنت…‘‘) واضح لفظوں میں دعا کرنے پر کیوں مناسب ہوا؟
اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ: یہ مقام اس بات کے اعتراف کا تھا کہ مجھے جو تکلیف پہنچی، وہ میرے اپنے گناہ کی وجہ سے پہنچی؛ کیونکہ ہر شر اور مصیبت کی جڑ گناہ ہی ہوتا ہے۔ یہاں مقصود تکلیف کو دور کروانا تھا، اور استغفار اس مقصد کے حصول کا ثانوی ذریعہ تھا۔ اسی لیے سیدنا یونس علیہ السلام نے صراحت کے ساتھ یہ نہیں کہا کہ: ’’میری تکلیف دور فرما‘‘ کیونکہ انہیں اپنے اس حال کا احساس تھا کہ وہ خود خطاکار اور اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں، اور اسی وجہ سے یہ مصیبت ان پر آئی ہے۔ لہٰذا ان کے حال کے زیادہ مناسب یہی تھا کہ وہ اپنے ظلم اور قصور کا اعتراف کریں، کیونکہ یہی چیز اس مصیبت کے سبب کو ختم کرنے والی تھی۔

اسی طرح انہوں نے مغفرت طلب کرنے کے الفاظ بھی صراحتاً ذکر نہیں کیے؛ کیونکہ مصیبت زدہ انسان کے لیے مغفرت کا مقصود ثانوی درجے میں ہوتا ہے، جبکہ تکلیف کا دور ہونا اس وقت اس کی پہلی ضرورت اور فوری مطلوب ہوتی ہے۔ انسان کی طبیعت یہی ہے کہ جب وہ کسی موجودہ تکلیف میں مبتلا ہو تو سب سے پہلے اسی کے دور ہونے کا خواہش مند ہوتا ہے، پھر بعد میں اس چیز سے بچاؤ چاہتا ہے جس کے آئندہ نقصان پہنچانے کا اندیشہ ہو۔

چنانچہ اس مقام میں اگرچہ بندے کی فوری خواہش اپنی تکلیف کا دور ہونا ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں اصل مطلوب مغفرت اور اس سبب کا خاتمہ ہے جس سے یہ مصیبت پیدا ہوئی۔ اور چونکہ تکلیف دور کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ اس کے سبب کو مٹا دینا ہے، اس لیے سیدنا یونس علیہ السلام نے اپنے ظلم اور قصور کا اعتراف کیا، اور یہی ان کے مقصود کے حصول کا بہترین ذریعہ بنا۔۔۔ ‘‘
یہ اقتباس ’’مجموع الفتاویٰ‘‘ (10/247-248) سے مکمل ہوا۔

اگر کوئی شخص اس ذکر کے ساتھ دعا کی ابتدا کرے اور پھر اپنی حاجت کے لیے دعا بھی کرے تو یہ بھی اچھا ہے؛ کیونکہ حاجت کا نام لے کر دعا کرنا مشروع ہے، اور زیادہ دعائیں کرنا اور مختلف دعاؤں کو جمع کرنا بھی اصل میں مشروع ہی ہے۔

اور اہل علم کے نزدیک اس ذکر میں وارد ’’دعا‘‘ کے مفہوم کو سمجھنے کے دو پہلوؤں میں سے یہ بھی ایک پہلو ہے۔

چنانچہ امیر صنعانی رحمہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں:
’’اگر کہا جائے کہ یہ تو ذکر ہے، دعا نہیں! تو ہم کہیں گے: یہ ایسا ذکر ہے جس کے ساتھ دعا کی ابتدا کی جاتی ہے، اس کے بعد آدمی جو چاہے دعا کر لے۔‘‘
یہ اقتباس ’’التنویر‘‘ (6/98) سے مکمل ہوا۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

احادیث کی شرح
دعا کرنا

ماخذ: 

الشیخ محمد صالح المنجد

Previous
آگے

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

App StoreGoogle Play