کیا نماز کا وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو تو پانی حاصل کرنے یا اسے طہارت کے قابل بنانے میں مشغول ہوا جائے، یا وقت کے اندر تیمم کر کے نماز پڑھ لی جائے؟

سوال 331783

تیمم کے احکام میں ایک بات مجھے مشکل لگتی ہے: اگر کسی شخص کو شدید سردی کا خوف ہو، اور وہ کسی بیابان میں ہو، اور پانی گرم کرنے کے لیے اسے لکڑیاں جمع کرنا پڑیں، جس میں کافی وقت لگ جاتا ہو، تو میری سمجھ کے مطابق اس کی دو صورتیں بنتی ہیں: یا تو وہ نماز کے وقت کے بالکل آغاز میں جاگے اور اسے وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو، تو ایسی صورت میں اس کے لیے تیمم کرنا جائز ہو گا۔ یا وہ نماز کے وقت کے اختتام سے کچھ پہلے جاگے، تو اس صورت میں اس پر پانی استعمال کرنا لازم ہو گا، چاہے نماز کا وقت نکل ہی کیوں نہ جائے؛ کیونکہ وہ اپنے جاگنے کے وقت سے نماز کا مکلف ہو چکا ہے۔ کیا میری یہ سمجھ درست ہے؟ یا دونوں صورتوں میں پانی موجود ہونے کی وجہ سے اس پر وضو ہی لازم ہو گا؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

جی ہاں؛ آپ کی سمجھ درست ہے، کیونکہ مذکورہ مسئلہ دو حالتوں پر مشتمل ہے:

اول:
وہ شخص جس پر نماز کا وقت داخل ہو چکا ہو، اور وہ پانی کے ساتھ طہارت کی شرط سے محروم ہو، اور اگر وہ پانی حاصل کرنے یا اسے گرم کرنے کے لیے لکڑیاں جمع کرنے وغیرہ میں مشغول ہو تو نماز کا وقت نکل جائے؛ تو وہ تیمم کر کے نماز ادا کرے گا، خواہ وہ وقت کے آغاز میں ہو یا آخر میں؛ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا
ترجمہ:’’یقیناً نماز اہلِ ایمان پر مقررہ اوقات میں فرض کی گئی ہے۔‘‘ سورۃ النساء، آیت: 103
اور اس لیے بھی کہ وہ پانی سے محروم ہے یا اسے استعمال کرنے پر قادر نہیں، اور اس کا غالب گمان یہ ہے کہ پانی حاصل کرنے سے پہلے ہی نماز کا وقت نکل جائے گا۔

دوم:
وہ شخص جو نماز کے وقت کے آخری حصے میں بیدار ہو، اور اس کے پاس پانی موجود ہو اور وہ اسے استعمال کرنے پر قادر بھی ہو، لیکن استعمال کی صورت میں وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو؛ تو ایسے شخص پر پانی سے طہارت کرنا لازم ہے، اور اس حالت میں نماز کے وقت کے فوت ہو جانے سے اسے کوئی نقصان نہیں ہو گا؛ کیونکہ وہ وقت کے آغاز میں معذور تھا، اس لیے کہ وہ سویا ہوا تھا، اور نماز کا خطاب اس کے ذمے اسی وقت سے متعلق ہوا ہے جب وہ بیدار ہوا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ’’مجموع الفتاویٰ‘‘ (21/471) میں فرماتے ہیں:
’’مسافر جب پانی تک پہنچے اور وقت بہت ہی تھوڑا رہ چکا ہو، تو جمہور اہلِ علم کے قول کے مطابق وہ تیمم کر کے نماز ادا کرے گا۔ اسی طرح اگر وہاں کنواں ہو، لیکن وقت نکل جانے سے پہلے رسی تیار کرنا ممکن نہ ہو، یا پانی کھود کر نکالنا ممکن ہو مگر اس کے نکالنے میں وقت نکل جائے؛ تو وہ تیمم کر کے نماز ادا کرے گا۔
جبکہ بعض شافعی اور حنبلی فقہاء نے کہا ہے کہ وہ غسل کرے اور وقت نکل جانے کے بعد نماز پڑھے، کیونکہ وہ نماز کی شرائط پوری کرنے میں مشغول تھا؛ لیکن یہ قول کمزور ہے، کیونکہ مسلمان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق وقت کے اندر نماز ادا کرے۔ پس مسافر اگر جانتا ہو کہ وقت نکلنے سے پہلے پانی نہیں ملے گا، تو ائمہ کے اتفاق سے اس پر لازم ہے کہ وہ وقت کے اندر تیمم کر کے نماز پڑھے، اور اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ نماز کو مؤخر کرے یہاں تک کہ پانی تک پہنچ جائے جبکہ وقت تنگ ہو چکا ہو، اس طرح کہ غسل اور نماز دونوں وقت کے اندر ممکن نہ ہوں؛ بلکہ اگر وہ ایسا کرے تو متفقہ طور پر گناہ گار ہو گا۔ پس ایسی صورت میں جب وہ پانی تک پہنچے اور وقت تنگ ہو، تو اس پر فرض صرف یہی ہے کہ وہ وقت کے اندر تیمم کے ساتھ نماز ادا کر لے، اور وہ اس محنت کا مکلف نہیں جس کی وجہ سے نماز کا وقت ہی نکل جائے۔
اس کے برخلاف وہ شخص جو وقت کے آخر میں بیدار ہو اور پانی موجود ہو؛ تو اس پر غسل کرنا اور نماز ادا کرنا لازم ہے، اس لیے کہ اس شخص کے حق میں نماز کا وقت اس کے بیدار ہونے سے شمار ہو گا، نہ کہ فجر کے طلوع ہونے سے؛ برخلاف اس شخص کے جو فجر کے طلوع یا زوالِ آفتاب کے وقت بیدار ہو، خواہ وہ مقیم ہو یا مسافر، کیونکہ اس کے حق میں نماز کا وقت اسی لمحے سے شروع ہو جاتا ہے۔‘‘ ختم شد

آپ رحمہ اللہ ’’مجموع الفتاویٰ‘‘ (22/35) میں مزید فرماتے ہیں:
’’جو شخص نماز کے وقت میں بیدار ہو اور پانی اس سے دور ہو، اور وہ وقت نکلنے کے بعد ہی اسے پا سکے؛ تو اہلِ علم کے اتفاق سے وہ وقت کے اندر تیمم کے ساتھ نماز ادا کرے گا۔
اسی طرح اگر سردی شدید ہو، اور ٹھنڈا پانی اس کے لیے ضرر رساں ہو، اور نہ تو وہ حمام جا سکتا ہو اور نہ ہی پانی کو اس طرح گرم کر سکتا ہو کہ وقت کے اندر غسل ممکن ہو؛ تو وہ وقت کے اندر تیمم کے ساتھ نماز ادا کرے گا۔
اس معاملے میں مرد اور عورت برابر ہیں؛ اگر دونوں جنابت کی حالت میں ہوں اور وقت نکلنے سے پہلے غسل ممکن نہ ہو، تو وہ دونوں وقت کے اندر تیمم کر کے نماز ادا کریں گے۔
اور حیض والی عورت اگر وقت کے اندر پاک ہو جائے، اور غسل وقت نکلنے کے بعد ہی ممکن ہو، تو وہ تیمم کرے گی اور وقت کے اندر نماز ادا کرے گی۔
اور جو شخص یہ گمان کرے کہ پانی کے ساتھ وقت نکلنے کے بعد نماز پڑھنا، وقت کے اندر تیمم کے ساتھ نماز پڑھنے سے بہتر ہے؛ تو وہ گمراہ اور جاہل ہے۔
اور اگر کوئی شخص فجر کے آخری وقت میں بیدار ہو، اور غسل کرنے کی صورت میں سورج طلوع ہو جائے، تو جمہور اہلِ علم کے نزدیک وہ غسل کرے گا اور سورج طلوع ہونے کے بعد نماز ادا کرے گا، اور یہی امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور امام احمد کا مذہب ہے، اور امام مالک کے دو اقوال میں سے ایک ہے۔
اور دوسرے قول میں کہا گیا ہے کہ وہ یہاں بھی تیمم کرے گا اور سورج طلوع ہونے سے پہلے نماز ادا کرے گا، جیسا کہ سابقہ مسائل میں ذکر ہوا؛ کیونکہ وقت کے اندر تیمم کے ساتھ نماز ادا کرنا، وقت نکلنے کے بعد غسل کے ساتھ نماز ادا کرنے سے بہتر ہے۔

اور صحیح بات جمہور اہلِ علم کا قول ہی ہے؛ کیونکہ سوئے ہوئے شخص کے حق میں نماز کا وقت اس کے بیدار ہونے ہی سے شمار ہوتا ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے: (جو شخص کسی نماز سے سو جائے یا اسے بھول جائے، تو جب یاد آئے اسی وقت اسے ادا کر لے، کیونکہ وہی اس نماز کا وقت ہے۔)

لہٰذا سوئے ہوئے شخص کے حق میں وقت اس کے بیدار ہونے سے ہی شروع ہوتا ہے، اور اس سے پہلے کا وقت اس کے حق میں وقت شمار ہی نہیں ہوتا۔

جب یہ بات واضح ہو گئی تو اگر وہ سورج طلوع ہونے سے پہلے بیدار ہوا، لیکن غسل اور نماز سورج طلوع ہونے کے بعد ہی ممکن ہو سکی، تو اس نے نماز اپنے وقت ہی میں ادا کی، اور اس سے نماز فوت نہیں ہوئی؛ برخلاف اس شخص کے جو وقت کے آغاز میں بیدار ہو، کیونکہ اس کے حق میں وقت سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے، اس لیے اسے یہ حق نہیں کہ نماز کو فوت کر دے۔

اسی طرح جو شخص کسی نماز کو بھول جائے اور بعد میں اسے یاد آئے، تو وہ اسی وقت غسل کرے گا اور نماز ادا کرے گا، خواہ وہ دن کا کوئی بھی وقت ہو؛ کیونکہ اس کے حق میں وہی وقت ہے۔ چنانچہ اگر وہ سورج طلوع ہونے کے بعد ہی بیدار ہوا، جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خیبر کے سال نماز سے سو گئے تھے، تو وہ مکمل طہارت کے ساتھ نماز ادا کرے گا، چاہے اسے زوالِ آفتاب تک مؤخر ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ ‘‘ ختم شد

اور شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے یہ سوال کیا گیا کہ: کیا انسان کے لیے نماز کو اس کی کسی شرط کے حاصل کرنے کی خاطر مؤخر کرنا جائز ہے، جیسے پانی نکالنے میں مشغول ہو جانا؟
تو انہوں نے جواب دیا: درست بات یہ ہے کہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرنا کسی حال میں جائز نہیں۔ جب انسان کو وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو تو وہ اپنی موجودہ حالت کے مطابق نماز ادا کرے، اگرچہ شرط کا حاصل ہونا قریب ہی کیوں نہ ہو؛ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا
ترجمہ:’’یقیناً نماز اہلِ ایمان پر مقررہ اوقات میں فرض کی گئی ہے۔‘‘ سورۃ النساء، آیت: 103۔

اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے نمازوں کے اوقات مقرر فرمائے ہیں، اور یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ نماز اپنے وقت ہی میں واجب ہے۔

اور اس لیے بھی کہ اگر شروط کے انتظار کی اجازت دے دی جائے، تو تیمم کا مشروع ہونا درست نہ رہے؛ کیونکہ انسان کے لیے وقت نکلنے کے بعد پانی حاصل کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔ اور اس میں کوئی فرق نہیں کہ نماز کو زیادہ دیر تک مؤخر کیا جائے یا تھوڑی دیر تک؛ کیونکہ دونوں صورتوں میں نماز کو اس کے وقت سے باہر نکالا جا رہا ہے۔ اور یہی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا اختیار ہے۔
یہ اقتباس ’’مجموع فتاویٰ ورسائل العثیمین‘‘ (12/20) سے ہے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

تیمم

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android