قربانی کی نیت رکھنے والے پرچاندنظر آنےکے بعد بال مونڈنے کی وجہ سے کفارہ لازم نہیں آتا

10,245

سوال 33760

ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد میں نے بھول کراپنے بال مونڈ لیے حالانکہ میں نے قربانی کی نیت کررکھی تھی توکیا مجھ پرکفارہ ہے ؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

شیخ عبدالعزيز بن باز رحمہ اللہ تعالی کاکہنا ہے :

جوقربانی کرنا چاہے اس کے لیے ذوالحجہ کا چاند نظرآنے کے بعد قربانی کرنے تک اپنے بال اورناخن اورجلدمیں سے کوئي بھی چيز کاٹنی جائز نہيں ، کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے :

ام سلمہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( جب عشرہ ( ذی الحجہ ) شروع ہوجائے اورتم میں کسی ایک کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تووہ اپنے بال اورجلد میں سےکچھ بھی نہ کاٹے ) صحیح مسلم ۔

اورجوکوئي قربانی کرنے کا عزم رکھتا ہواوربھول کریا غلطی اورجہالت سے اپنے بال یا ناخن اورجلد وغیرہ میں سے کچھ کاٹ لے تواس پرکچھ نہيں ، اس لیے کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے بندوں سے اس اوردوسرے معاملات میں بھول چوک اورخطاء معاف کردی ہے ۔

لیکن جوشخص عمدا اورجان بوجھ کرایسا کرتا ہےاسےاللہ تعالی کےہاں توبہ واستغفارکرنی چاہیے اوراس کے علاوہ اس پرکچھ نہیں ( یعنی اس پرفدیہ اورکفارہ نہیں ہوگا )

واللہ اعلم .

حوالہ جات

قربانی

ماخذ

دیکھیں : فتاوی اسلامیۃ ( 2 / 316 ) ۔

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android