جمعرات 18 ربیع الثانی 1442 - 3 دسمبر 2020
اردو

حج کی فضيلت

سوال

کیا حج مبرورسے کبیرہ گناہ بھی معاف ہوجاتے ہيں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

صحیحین میں ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ سے ثابت ہے وہ بیان کرتے ہيں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا :

( جس نے بھی حج کیا اوراس میں فسق وفجور نہ کیا تووہ اس طرح واپس لوٹتا ہے جس طرح کہ اسے اس کی ماں نے آج ہی جنم دیا ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1521 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1350 ) ۔

اورایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کچھ اس طرح ہے :

( عمرہ سے عمرہ تک ان دونوں کے مابین ( گناہوں کا ) کفارہ ہے ، اورحج مبرور یعنی خالص حج کا بدلہ جنت کے علاوہ کچھ نہيں ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1773 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1349 ) ۔

لھذا حج اوراس اس کےعلاوہ دسرے اعمال صالحہ برائيوں اورگناہوں کے کفارہ کا سبب ہیں ، لیکن شرط یہ ہے کہ جب انہيں شرعی طریقہ پرکیا جائے تویہ کفارہ بنتے ہیں ، اورجمہور اہل علم کا کہنا ہے کہ اعمال صالحہ صرف صغیرہ گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں ، لیکن گناہ کبیرہ کے لیے توبہ واستغفار ضروری ہے اوراس پرانہوں نےمسلم شریف کی مندرجہ ذيل حدیث سے استدلال کیا ہے:

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( پانچوں نمازیں ، اورجمعہ جمعہ تک ، اوررمضان رمضان تک جب کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے توان کے مابین گناہوں کا کفارہ ہے ) صحیح مسلم ( 1 / 209 ) ۔

امام ابن المنذر اوراہل علم کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ : مذکورہ دونوں احادیث کے ظاہر کی بنا پرحج مبرور سب گناہوں کا کفارہ بنتا ہے ۔

واللہ تعالی اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب