اکثر اہلِ علم کا موقف یہ ہے کہ استجمار یعنی پانی کے بغیر صفائی گندگی نکلنے کے مقام کے حوالے سے رخصت ہے، اور اس کے ساتھ وہ حصہ بھی شامل ہو جاتا ہے جو مخرج سے معمولی طور پر تجاوز کر جائے۔ البتہ اس معمولی زیادتی کی مقدار کے تعین میں اہلِ علم کا اختلاف ہے۔ رہی بات زیادہ پھیل جانے کی، تو اس صورت میں پانی سے دھونا ضروری ہو جاتا ہے اور پانی کے بغیر صفائی کافی نہیں ہوتی۔
ان کی دلیل یہ ہے کہ ڈھیلوں سے صفائی مخرجِ بول وغائط میں اس وجہ سے رخصت ہے کہ یہ عموم بلویٰ میں شامل ہے، جبکہ اس کے علاوہ حصوں میں اصل حکم یہ ہے کہ انہیں دھو کر پاک کیا جائے اور یہ واجب ہے۔
جیسے کہ ’’الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ‘‘ (4 / 121) میں ہے:
’’چاروں مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ اگر نجاست مخرج سے باہر نکل کر زیادہ پھیل جائے تو پانی بغیر اس جگہ کی صفائی کافی نہیں ہو گی، بلکہ اسے دھونا ضروری ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ پانی کے بغیر صفائی عمومِ بلوٰی کی وجہ سے رخصت تھی، لہٰذا یہ صرف اسی مقام تک خاص ہے جہاں تک عمومِ بلوٰی پایا جاتا ہے، اور اس سے زائد حصہ اصل حکم یعنی دھو کر نجاست زائل کرنے پر باقی رہتا ہے۔‘‘ ختم شد۔
ابن قدامہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’مخرج کے علاوہ حصے میں پانی کے سوا کوئی طریقہ کافی نہیں ہوتا۔
اسی موقف کو امام شافعی، اسحاق اور ابن المنذر نے بھی اختیار کیا ہے۔ یعنی جب نجاست اس حد تک بڑھ جائے جو معمول کے مطابق نہ ہو، جیسے دونوں کولہوں تک پھیل جائے یا حشفہ تک پہنچ جائے، تو اس میں صرف پانی ہی کفایت کرے گا؛ اس لیے کہ مخرجِ معتاد میں ڈھیلوں وغیرہ سے صفائی ایک رخصت ہے، اس وجہ سے کہ وہاں نجاست بار بار لگتی ہے اور اسے بار بار دھونا مشقت کا باعث بنتا ہے۔ لہٰذا وہ جگہ جہاں نجاست بار بار نہیں لگتی، وہاں صفائی کے لیے پانی ہی لازمی ہو گا، جیسے پنڈلی یا ران وغیرہ۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’المغنی‘‘ (1 / 217)
البتہ یہ مسئلہ محلِّ اجماع نہیں ہے؛ بعض اہلِ علم نے اس سے اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ ڈھیلوں سے صفائی مطلقا جائز ہے، چاہے نجاست مخرج سے آگے بڑھ جائے ؛ اس لیے کہ ڈھیلوں سے صفائی کے متعلق نصوص مطلق ہیں اور کسی حد بندی کے ساتھ نہیں آئیں۔ نیز صاف کرنے کے بعد جو معمولی اثر باقی رہ جاتا ہے وہ عام حالات میں معاف ہوتا ہے، جیسے جوتے کے نیچے لگی نجاست زمین پر رگڑنے سے پاک ہو جاتی ہے، اور اسی طرح عورت کے کپڑے کا دامن زمین سے لگنے کے باعث پاک ہو جاتا ہے۔
اس کی وضاحت سوال نمبر (145695) میں گزر چکی ہے۔
لہٰذا اصل اعتبار عینِ نجاست کے زائل ہونے کا ہے، چاہے جس طریقے سے بھی زائل ہو۔
چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’پانی کے بغیر صفائی کافی ہے، چاہے نجاست دونوں کولہوں، حشفہ یا دیگر حصوں تک پھیل جائے؛ کیونکہ پانی کے بغیر صفائی کے جواز پر دلائل عام ہیں، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مقدار مقرر نہیں کی گئی۔‘‘
’’الاختیارات العلمیۃ‘‘ (ص 17)
یہ قول قوی ہے اور نظر و استدلال کے اعتبار سے مضبوط بھی؛ لیکن احتیاط اسی میں ہے کہ جب نجاست اس حد سے آگے بڑھ جائے جس حد تک عادتاً پہنچتی ہے تو پانی استعمال کیا جائے، تاکہ مسلمان کا بدن تمام اہلِ علم کے اتفاق کے مطابق پاک ہو جائے۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’علماء اس بات پر متفق ہیں کہ جہاں ممکن ہو، وہاں اختلاف سے نکلنے کی ترغیب دی جائے، بشرطیکہ اس سے کوئی سنت فوت نہ ہو یا کسی دوسرے اختلاف میں پڑنا لازم نہ آئے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’ شرح صحیح مسلم ‘‘(2 / 23)
واللہ اعلم