کیا یہ بچوں سے کہا جا سکتا ہے کہ جھوٹا آگ میں جائے گا اور گدھے کی طرح گھسیٹا جائے گا۔

سوال 352792

میری بیٹیاں ہیں، ایک چار سالہ تو دوسری 7 سالہ ہے، جب کسی کو جھوٹ بولتے دیکھتی ہیں تو عربی میں گنگنا کر کہتی ہیں: { الكذاب بيروح النار، ويشدوه زي الحمار } " جھوٹا آگ میں جائے گا اور گدھے کی طرح گھسیٹا جائے گا " ایسے کلمات کہنے کا کیا حکم ہے، کیا میں انہیں ایسی بات کرنے سے منع کروں؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:

بلا شبہ جھوٹ کبیرہ ترین اور بد ترین گناہ ہے:

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چار عادتیں جس کسی میں ہوں تو وہ خالص منافق ہے اور جس کسی میں چاروں میں سے ایک عادت ہو تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے، جب تک اسے نہ چھوڑ دے۔ ( وہ یہ ہیں ) جب اسے امین بنایا جائے تو ( امانت میں ) خیانت کرے اور بات کرتے وقت جھوٹ بولے اور جب ( کسی سے ) عہد کرے تو اسے پورا نہ کرے اور جب ( کسی سے ) لڑے تو گالیوں پر اتر آئے۔
اس حدیث کو امام بخاری: (34) اور مسلم : (58) نے روایت کیا ہے۔

اسی طرح سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلا شبہ سچ آدمی کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور ایک شخص سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق کا لقب اور مرتبہ حاصل کر لیتا ہے اور بلا شبہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں بہت جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے ۔
اس حدیث کو امام بخاری: (6094) اور مسلم : (2607) نے روایت کیا ہے۔

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک صبح کو فرمایا کہ: ( رات میرے پاس دو آنے والے آئے اور انہوں نے مجھے اٹھا یا اور مجھ سے کہا کہ ہمارے ساتھ چلو میں ان کے ساتھ چل دیا ۔۔۔) پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرشتوں کے ہمراہ جو کچھ دیکھا اس میں یہ بھی تھا کہ: (فرمایا کہ پھر ہم آگے بڑھے اور ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے جو پیٹھ کے بل لیٹا ہوا تھا اور ایک دوسرا شخص اس کے پاس لوہے کا آنکڑا لیے کھڑا تھا اور یہ اس کے چہرہ کے ایک طرف آتا اور اس کے ایک جبڑے کو گدی تک چیر تا اور اس کی ناک کو گدی تک چیر تا اور اس کی آنکھ کو گدی تک چیرتا ۔ ۔۔۔ پھر وہ دوسری جانب جاتا ادھر بھی اسی طرح چیرتا جس طرح اس نے پہلی جانب کیا تھا ۔ و ہ ابھی دوسری جانب سے فارغ بھی نہ ہوتا تھا کہ پہلی جانب اپنی پہلی صحیح حالت میں لوٹ آتی ۔ پھر دوبارہ وہ اسی طرح کرتا جس طرح اس نے پہلی مرتبہ کیا تھا ۔ !!!
فرمایا کہ : میں نے کہا سبحان اللہ ! یہ دونوں کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ آگے چلو، آگے چلو۔۔۔) پھر اس حدیث کے آخر میں فرشتوں نے دیکھے ہوئے تمام مناظر کی وضاحت کی اور اس کے بارے میں کہا: (وہ شخص جس کے پاس آپ گئے اور جس کا جبڑا گدی تک اور ناک گدی تک اور آنکھ گدی تک چیری جا رہی تھی ۔ یہ وہ شخص ہے جو صبح اپنے گھر سے نکلتا اور جھوٹی خبر تراشتا ‘ جو دنیا میں پھیل جاتی۔) صحیح بخاری: (7047)

اور یہ بھی ثابت ہے کہ آگ میں زنجیریں اور بیڑیاں تیار کی گئیں ہیں جو ان کے مستحقین کو باندھی جائیں گی۔

فرمانِ باری تعالی ہے:
إِنَّ لَدَيْنَا أَنْكَالًا وَجَحِيمًا، وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا
ترجمہ: یقیناً ہمارے پاس بیڑیاں اور آگ سمیت گلے میں اٹکنے والا کھانا اور درد ناک عذاب ہے۔ [المزمل: 12 - 13]

ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"فرمانِ باری تعالی: إِنَّ لَدَيْنَا أَنْكَالًا وَجَحِيمًا کا مطلب بیڑیاں ہیں، یہ موقف ابن عباس، عکرمہ، طاوس، محمد بن کعب، عبد اللہ بن بریدہ، ابو عمران الجونی، ابو مجلز، الضحاک، حماد بن ابی سلمان، قتادہ، سدی، ابن مبارک، ثوری اور دیگر اہل علم کا ہے۔ " ختم شد
تفسیر ابن کثیر: (8/256)

اسی طرح فرمانِ باری تعالی ہے:
الَّذِينَ كَذَّبُوا بِالْكِتَابِ وَبِمَا أَرْسَلْنَا بِهِ رُسُلَنَا فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ، إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ، فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ
ترجمہ: جن لوگوں نے کتاب کو جھٹلایا اور ان چیزوں کو جھٹلایا جو ہم نے پیغمبروں کو دے کی بھیجی تھیں وہ عنقریب ہی جان لیں ، جب بیڑیاں ان کی گردنوں میں ہوں گی اور زنجیریں بھی ، انہیں گرم پانی میں گھسیٹا جائے گا، اور پھر انہیں آگ میں بھڑکا دیا جائے گا۔[غافر: 70 - 72]

دنیا و آخرت میں جھوٹے لوگوں کو گدھوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے:
مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
ترجمہ: جن لوگوں کو تورات کا حامل بنایا گیا پھر انہوں نے یہ بار نہ اٹھایا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو کتابیں اٹھائے ہوئے ہو۔ (اس سے بھی) بری مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔[الجمعہ: 5]

یہ بھی احادیث میں آتا ہے کہ اس امت میں سے جس کا کردار بھی قول سے متضاد ہو گا، تو جہنم میں ایسے ہو گا جیسے گدھا ہوتا ہے۔

جیسے کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ: (قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ آگ میں اس کی آنتیں باہر نکل آئیں گی اور وہ شخص اس طرح چکر لگانے لگے گا جیسے گدھا اپنی چکی پر گردش کیا کرتا ہے ۔ جہنم میں ڈالے جانے والے اس کے قریب آ کر جمع ہو جائیں گے اور اس سے کہیں گے ، اے فلاں ! آج یہ تمہاری کیا حالت ہے ؟ کیا تم ہمیں اچھے کام کرنے کے لیے نہیں کہتے تھے ، اور کیا تم برے کاموں سے ہمیں منع نہیں کیا کرتے تھے ؟ وہ شخص کہے گا جی ہاں ، میں تمہیں تو اچھے کاموں کا حکم دیتا تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا ۔ برے کاموں سے تمہیں منع بھی کرتا تھا ، لیکن میں اسے خود کیا کرتا تھا۔) اس حدیث کو امام بخاری: (3267) اور مسلم : (2989) نے روایت کیا ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ: اجمالی طور پر اس جملے کے معنی اور مفہوم کی تائید ملتی ہے، اس لیے یہ جملہ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور اس میں کوئی ایسی بات بھی نہیں ہے کہ جسے شریعت کے مخالف قرار دیا ہے، بلکہ اس میں تو جھوٹ اور جھوٹے لوگوں سے نفرت ہے، اور بچوں میں جھوٹ بولنے سے دور رہنے کی تربیت بھی ہے۔ لیکن یہ سب کچھ کسی ایک شخص کو متعین کر کے نہیں کہا جاتا، کیونکہ یہ بات تو سب کو معلوم ہوتی ہے کہ بچوں کو ایسی باتیں سچ بولنے کی عادت ڈالنے کے لیے سکھائی جاتی ہیں کہ سچ بولیں اور جھو ٹ کی مذمت کریں، لیکن کسی شخص کو متعین کر کے جہنمی ہونے کا فتوی نہ لگائیں۔

اگر کوئی اپنی اولاد کو شریعت میں وارد وعیدیں سکھائے، اور بچوں کو کتاب و سنت میں موجود الفاظ یاد کروائے تو یہ بہت اچھا ہو گا، نیز اس طرح ان کی تربیت بھی بہت اچھی ہو گی، ایسے ہی بچوں میں سنجیدگی بھی آئے گی، بچے ہر چیز کو اس کی حقیقی روح اور رنگت میں دیکھیں گے، کیونکہ اسے بچے گانے کی طرح نہیں گائیں گے کہ اسے گانے کے بعد عملی طور پر کچھ نہ ہو۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

اولاد کی تربیت
ممنوعہ الفاظ

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android