ہفتہ 18 جمادی ثانیہ 1440 - 23 فروری 2019
اردو

كيا سگرٹ نوشى سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے ؟

36301

تاریخ اشاعت : 12-06-2007

مشاہدات : 3058

سوال

سگرٹ اور ہر قسم كا تمباكو فروخت كرنے كا شريعت ميں كيا حكم ہے ؟
ميں سگرٹ نوشى كرتا ہوں اور جب مؤذن اذان دے تو ميں مسجد چلا جاتا ہوں، آيا مجھے وضوء دوبارہ كرنا ہوگا، يا كہ ميرے ليے صرف كلى كرنا ہى كافى ہے، مجھے علم ہے كہ سگرٹ نوشى كئى ايك بيماريوں كا باعث ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

خبيث چيز ہونے اور بہت سے ضرر و نقصانات كا باعث ہونے كى بنا پر سگرٹ اور تمباكو فروخت كرنا حرام ہے، اور ايسا كرنے والا فاسق و گنہگار ہے.

سگرٹ نوشى كر كے دوبارہ وضوء كرنا واجب نہيں، ليكن اس كے حق ميں مشروع ہے كہ وہ اس كى گندى اور كريہہ بو كو اپنے منہ سے زائل كرے اور اس كے ساتھ ساتھ اس گندے كام سے اجتناب كرتا ہوا اللہ تعالى كے ہاں توبہ كرے.

ماخذ: ماخوذ از: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 13 / 57 )

تاثرات بھیجیں