منگل 5 ربیع الاول 1440 - 13 نومبر 2018
اردو

جمرات [عرف شیطان]کو کنکریاں مارنے کا وقت

سوال

جمرات کو کنکریاں مارنے کا وقت کون سا وقت ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

جمرہ عقبہ

جمرہ عقبہ سے مراد وہ جمرہ ہے جسے سب سے پہلے کنکریاں ماری جاتی ہیں، اس کو کنکریاں مارنے کا وقت عید کے دن طلوع آفتاب کے بعد ہوتا ہے۔

تاہم بچوں اور خواتین جیسے کمزور افراد کیلیے عید کی رات [9 اور 10 تاریخ کی درمیانی رات]کے آخری حصے میں  کنکریاں مار سکتے ہیں؛ کیونکہ اسما بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا  عید کی رات چاند غروب ہونے کا انتظار کرتیں ، چنانچہ جب چاند غروب ہو جاتا تو آپ مزدلفہ سے منی کی جانب روانہ ہو جاتیں اور جمرات کو کنکریاں مار دیتی تھیں۔

جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے کا آخری وقت :

جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے کا آخری وقت عید کے دن غروب آفتاب تک پھیلا ہوا ہے۔

تاہم شدید اژدحام یا جمرات سے دوری  کی وجہ سے اگر کوئی کنکریاں [10 اور گیارہ کی درمیانی]رات کے آخری حصے  تک مؤخر کرتا ہے  تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، تاہم گیارہویں تاریخ کی فجر تک مؤخر نہ کرے۔

دوم:

ایام تشریق (11، 12، 13)میں کنکریاں مارنا

آغاز:

ایام تشریق میں رمی کی ابتدا زوال آفتاب سے ہوتی ہے، یعنی ظہر کا وقت شروع ہوتے ہی رمی کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔

آخری وقت:

ایام تشریق میں کنکریاں مارنے کا آخری وقت رات کے آخری حصے تک ہے، تاہم مشقت اور بھیڑ وغیرہ کے باعث رات کو طلوع فجر تک کنکریاں مارنے کو مؤخر کیا جا سکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ فجر کے بعد تک رمی کو مؤخر کرنا جائز نہیں ہے۔

11، 12 اور  13تاریخ کو زوال سے قبل رمی کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  ان دنوں میں زوال کے بعد ہی کنکریاں ماری ہیں، نیز آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ حکم دیا تھا کہ: "مجھ سے مناسک کا طریقہ سیکھ لو" نیز اس چیز کی تائید اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے رمی کے آغاز کو اس وقت تک کیلیے مؤخر کیا حالانکہ یہ وقت شدید گرمی کا تھا اور صبح کے وقت میں قدرے ٹھنڈ بھی ہوتی ہے ، لیکن پھر بھی آپ نے ایسا نہیں کیا تو  یہ اس چیز کی دلیل ہے کہ زوال کے وقت سے پہلے رمی کرنا جائز نہیں ہے۔

اس کی ایک اور دلیل یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم زوال آفتاب کے فوری بعد  اور ظہر کی نماز ادا کرنے سے پہلے رمی کرتے تھے، تو یہ بھی دلیل ہے کہ  زوال سے پہلے رمی کرنا جائز ہی نہیں، اگر جائز ہوتا تو زوال سے پہلے رمی کرنا افضل ہوتا کیونکہ اس طرح سے ظہر کی نماز اول وقت میں ادا کی جا سکتی تھی، اور اول وقت میں نماز ادا کرنا افضل ہے، لیکن پھر بھی آپ نے زوال سے پہلے رمی نہیں فرمائی۔

خلاصہ یہ ہوا کہ دلائل اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ایام تشریق میں زوال سے پہلے رمی کرنا جائز نہیں ہے۔

مزید کیلیے دیکھیں: فتاوی ارکان الاسلام : (560)

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں