بدھ 9 ربیع الثانی 1442 - 25 نومبر 2020
اردو

احرام باندھ کر کچھ مدت بعد شرط لگانی صحیح نہيں

37055

تاریخ اشاعت : 27-11-2007

مشاہدات : 3190

سوال

میں احرام باندھتے وقت شرط کی دعا پڑھنا بھول گيا (إن حبسني حابس فمحلي حيث حبستني ) اگرمجھے کسی روکنے والے نے روک دیا تومیرے حلال ہونےکی وہی جگہ ہے جہاں تومجھے روک دے ، لیکن جب مکہ میں داخل ہونے لگے تومجھے یا دعا یاد آئي اورمیں نے اس وقت پڑھ لی توکیا یہ شرط صحیح ہوگي ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

الحمدللہ

یہ صحیح نہيں اس لیے کہ شرط تواحرام باندھتے وقت ہوتی ہے نہ کہ اس کے بعد ۔

شیخ بن بازرحمہ اللہ تعالی سے احرام باندھ کرکچھ مدت بعدمیں شرط لگانے کے بارہ میں پوچھا گيا توان کا جواب تھا :

وہ ایسا نہيں کرسکتا ، بلکہ یہ تواحرام باندھتے وقت کہا جاتا ہے ، اوراحرام باندھنے سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے دل سے جب احرام میں داخل ہونے کی نیت کرے ( اس وقت شرط لگانی چاہیے ) اھـ دیکھیں : فتاوی ابن بازرحمہ اللہ تعالی ( 17/ 73 ) ۔

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب