كيا انٹرنيٹ كى دوكان سے كمائى حرام ہے يا حلال؟

6,863

سوال 39903

انٹرنيٹ كيفے كى كمائى حلال ہے يا حرام، يہ علم ميں ہونا چاہيے كہ ايك مسلمان خاندان كا صرف يہى واحد ذريعہ آمدن ہے ؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

انٹر نيٹ حلال اشياء ميں بھى استعمال ہوتا ہے اور حرام ميں بھى اور خير و شر دونوں كے ليے، لہذا اگر كيفے كو كنٹرول كرنا ممكن ہو اور حرام كام كے ليے استعمال نہ ہونے ديا جائے تو اس وقت اس سے حاصل شدہ كمائى حلال ہو گى.

اور اگر كيفے كا مالك اپنے گاہكوں پر انكار اور انہيں حرام كام سے روكنے ميں سستى اور كاہلى سے كام لے تو برائى كا انكار نہ كرنے اور گناہ اور معصيت ميں ان كا تعاون كرنے كى بنا پر وہ گنہگار ہو گا، اور اس سے حاصل كردہ كمائى حرام اور خبيث ہو گى.

مزيد تفصيل كے ليے سوال نمبر ( 34672 ) كا جواب ضرور ديكھيں.

واللہ اعلم.

حوالہ جات

حرام لین دین
سرمایہ کاری

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android