سلام کی اہمیت اور جواب دینے کا طریقہ

سوال 4596

کیا آپ سلام کرنے اور سلام کا جواب دینے کی اہمیت بیان کر سکتے ہیں؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

لوگوں کے درمیان یہ معمول تھا کہ وہ ایک دوسرے کو مختلف انداز میں سلام کرتے تھے، اور ہر قوم کی اپنی مخصوص تحیت (سلام کے الفاظ) ہوا کرتی تھی جو دوسری قوموں سے مختلف ہوتی تھی۔

عرب لوگ اپنی تحیت میں کہتے تھے: ’’أنعم صباحاً‘‘ یا ’’أنعموا صباحاً‘‘ یعنی تمہاری صبح خوشگوار ہو۔ وہ اس میں لفظ ’’نعمت‘‘ (یعنی اچھے حال اور خوش گوار زندگی ) کو صبح کے ساتھ ملا دیتے تھے، کیونکہ صبح دن کی ابتدا ہے، اور اگر دن کا آغاز خیر و برکت سے ہو جائے تو وہ سارا دن اسی حالت پر گزرتا ہے۔

جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے درمیان ایک خاص تحیت (سلام) مقرر فرمائی، جو ان کا امتیازی شعار بن گئی: ’’السلام علیکم‘‘۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے دوسری قوموں سے ہٹ کر صرف خاص مسلمانوں کے لیے بنایا۔ ’’سلام‘‘ کے معنی ہیں: شر و عیب سے براءت، خلاصی اور نجات۔ مزید برآں یہ بھی ہے کہ ’’السلام‘‘ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک عظیم نام بھی ہے۔ اس لیے جب کوئی کہتا ہے ’’السلام علیکم‘‘ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دیکھ رہا ہے اور تمہارے حالات سے باخبر ہے، اس میں نصیحت بھی ہے اور اس میں یہ معنی بھی شامل ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نام کی برکت تم پر نازل ہواور تمہیں حاصل ہو۔

ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ اللہ تعالیٰ، جو بادشاہ، قدوس اور سلام ہے، نے اہلِ اسلام کے لیے ’السلام علیکم‘ کو تحیہ (سلام) کے طور پر مشروع فرمایا، اور یہ تمام قوموں کی تحیتوں سے بہتر ٹھہری۔ کیونکہ بعض قوموں کی تحیتیں محض جھوٹ یا ناممکن باتوں پر مشتمل تھیں، جیسے یہ کہنا: ’تعيش ألف سنة‘ (یعنی تم زندہ رہو ہزار سال۔)، بعض کی تحیتوں کے معنی محدود اور کمزور تھے، جیسے: ’أنعم صباحاً‘ (صبح بخیر)، اور بعض نازیبا تھیں، جیسے سجدہ کرنا۔ پس سلام کو ان سب پر ترجیح حاصل ہوئی، کیونکہ اس میں اصلِ مقصود یعنی سلامتی شامل ہے، اور زندگی و کامیابی اسی پر قائم ہے۔ بندے کا مقصدِ حیات دو چیزوں پر مبنی ہے: برائی سے سلامتی اور بھلائی کا حصول، اور ظاہر ہے کہ برائی سے بچاؤ خیر کے حصول سے مقدم ہوتا ہے۔ ‘‘ ختم شد

ماخوذ از: ’’ بدائع الفوائد ‘‘ از ابن قیم رحمہ اللہ ، صفحہ: (144)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کو عام کرنا ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری (12، 28، 6236)، مسلم (39)، احمد (2/169)، ابوداؤد (5494)، نسائی (8/107) اور ابن حبان (505) میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا: "کون سا اسلام سب سے بہتر ہے؟" آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "تم کھانا کھلاؤ، اور جسے جانتے ہو اور جسے نہیں جانتے سب کو سلام کرو۔"

ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری (1/56) میں فرماتے ہیں: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو تکبر یا تکلف کی وجہ سے خصوصی طور پر سلام مت کرو، بلکہ یہ عمل اسلام کے شعار کی تعظیم اور مسلمان بھائی کی اخوت کے لحاظ سے سب کے لیے عام رکھو۔

ابن رجب رحمہ اللہ فتح الباری (1/43) میں کہتے ہیں: اس حدیث میں کھانا کھلانے اور سلام کو عام کرنے کو ایک جگہ اکٹھا بیان کیا گیا ہے، کیونکہ ایک میں زبان سے احسان ہے اور دوسرے میں عمل سے، اور یہی کامل ترین نیکی ہے۔ اور یہ اسلام کی بہترین خوبی ہے، نیز یہ اس وقت ہے جب انسان فرائض اور واجبات ادا کر چکے۔

سنوسی رحمہ اللہ إکمال المعلم (1/244) میں فرماتے ہیں: ’’ سلام سے مراد لوگوں کے درمیان تحیت ہے، جو دلوں میں محبت اور الفت پیدا کرتی ہے، جیسے کھانا محبت بڑھاتا ہے۔ کبھی دلوں میں محبت کمزور ہو جاتی ہے تو سلام اسے تازہ کر دیتا ہے، اور کبھی دشمنی کو دوستی میں بدل دیتا ہے۔ ‘‘ ختم شد

قاضی رحمہ اللہ إکمال المعلم (1/276) میں فرماتے ہیں: ’’ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے اہل ایمان کے دلوں میں اُلفت اور محبت پیدا کرنے کی ترغیب ہے۔ اسلام کی اعلیٰ خصلتوں میں سے ایک یہ ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ محبت، تحیت اور خیر خواہی کے تعلقات قائم کریں، اور گفتار و کردار کے ذریعے بھائی چارہ مضبوط بنائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مسلمانوں کو آپس میں محبت اور اُنسیت کی دعوت دی، اور ان کے ذرائع اپنانے کی ترغیب دلائی ہے جیسے  کہ تحفے دینا، کھانا کھلانا اور سلام کرنا ، جبکہ ان کے برعکس عادات مثلاً قطع تعلقی، پیٹھ پھیرنا، جاسوسی کرنا ، اور ٹوہ لگانا، چغلی اور دو رُخے پن سے منع فرمایا۔

مسلمانوں کی آپس میں باہمی اُلفت دینی فریضہ، شریعت کا ستون اور اسلام کے نظام کا ایک اہم جزو ہے۔ جو شخص سلام کو صرف جان پہچان والوں تک محدود نہیں رکھتا بلکہ ہر مسلمان کو سلام کرتا ہے، وہ خالص اللہ کے لیے عمل کرتا ہے، نہ کسی دکھاوے کے لیے، نہ چاپلوسی کے لیے۔ اس میں تواضع بھی ہے اور امت کے شعار یعنی سلام کو عام کرنے کی کوشش بھی۔‘‘ ختم شد

اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بیان فرمایا کہ سلام کے ذریعے دلوں میں محبت، اُلفت اور بھائی چارہ پیدا ہوتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
"تم جنت میں داخل نہیں ہو گے جب تک ایمان نہ لاؤ، اور ایمان مکمل نہیں ہو گا جب تک تم آپس میں محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے اپناؤ تو تمہارے درمیان محبت پیدا ہو جائے؟ سلام کو عام کرو۔" اس حدیث کو  مسلم (54)، احمد (2/391)،  اور ترمذی: (2513)نے روایت کیا ہے۔

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سلام کہنے والے کے اجر و ثواب کو بھی بیان فرمایا۔ چنانچہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس سے گزرا اور کہا: "السلام علیکم"، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "دس نیکیاں۔" پھر دوسرا گزرا اور کہا: "السلام علیکم ورحمۃ الله"، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "بیس نیکیاں۔" پھر تیسرا گزرا اور کہا: "السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ"، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "تیس نیکیاں۔" اس حدیث کو  امام  نسائی  نے (عمل الیوم واللیلة: 368)، امام بخاری  نے (الأدب المفرد: 586)،  اور ابن حبان (493)نے روایت کیا ہے۔

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سلام کا جواب دینے کا حکم دیا اور اسے مسلمان کا حق قرار دیا۔ چنانچہ  مسند احمد (2/540)، بخاری (1240)، مسلم (2792)، نسائی (عمل الیوم واللیلة: 221) اور ابوداؤد (5031) میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں: سلام کا جواب دینا، مریض کی عیادت کرنا، جنازے کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا، اور چھینک لینے والے کے الحمدللہ کہنے پر اسے یرحمک اللہ کہنا۔"

حدیث کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ سلام کا جواب دینا واجب ہے، کیونکہ سلام کرنے والا دراصل آپ کو امن و امان کی ضمانت دیتا ہے، اس لیے لازم ہے کہ آپ بھی اس کے جواب میں اسے امن کا پیغام لوٹائیں، تاکہ دلوں میں بد گمانی یا قطع تعلقی کا احساس پیدا نہ ہو۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ دو مسلمانوں کے درمیان قطع تعلقی کو ختم کرنے کا ذریعہ سلام ہے۔
صحیح بخاری (6233) میں سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی رکھے۔ جب وہ دونوں ملیں تو یہ ایک طرف ہو جائے اور وہ دوسری طرف، اور دونوں منہ پھیر لیں۔ ان میں سے بہتر وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔"
سلام کرنے اور سلام کا جواب دینے کے متعلق یہ خلاصہ ہے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

سلام کرنے کے آداب

ماخذ

الشیخ محمد صالح المنجد

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android