منگل 13 ربیع الاول 1443 - 19 اکتوبر 2021
اردو

کسی دوسرے کی جانب سےرمی کرنے کا حکم

سوال

میں نے ایک بوڑھے شخص کی جانب سےکنکریاں ماریں لھذا مجھ پرکیا لازم آتا ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اگرتویہ شخص ازدھام اورمشقت کی وجہ سے خود رمی نہيں کرسکتا تھا اوراس نے آپ کورمی کرنے کا وکیل بنایا توآپ کےلیے اس کی جانب سے رمی کرنا جائزہے ، اورآپ نے یہ ذکر بھی کیا ہے کہ وہ بوڑھا شخص تھا توغالبا یہی ہے کہ وہ شخص خود رمی نہيں کرسکتا تھا ۔

فتاوی اللجنۃ الدائمۃ میں ہے کہ :

جوکوئي بھی رمی کرنے سے عاجز ہووہ کسی دوسرے کواپنی جانب سے رمی کرنے کا وکیل بنائے ، اس معاملہ میں جمرہ عقبہ اوردوسرے جمرات سب برابر ہيں ، اورکسی ثقہ شخص کوکنکریاں مارنے میں وکیل اسی برس بنانا چاہیے ۔۔۔ اھـ

دیکھیں : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء ( 11 / 286 ) ۔

تواس بنا پرآپ کوبوڑھے شخص کی جانب سے رمی کرنا صحیح ہے اوراس کی رمی ہوگئي ہے اورآپ کے ذمہ کچھ لازم نہيں آتا ۔

اورآپ کویہ چاہیے کہ پہلے آپ اپنی جانب سے رمی کریں اورپھراس دوسرے شخص کی جانب سے ، آپ کوہرجمرہ ( ستون ) پراسی طرح کرنا چاہیے کہ پہلے اپنی کنکریاں ماریں اورپھراس شخص کی جانب سے ، آپ کےلیے یہ لازم نہيں کہ پہلے آپ اپنی جانب سے تینوں جمرات کوکنکریاں ماریں اورپھر اس دوسرے شخص کی جانب سے ۔

بلکہ آپ کےلیے یہ ممکن ہے کہ آپ ایک جگہ کھڑے ہوکرآپ اپنی اوراس شخص کی جانب سے ہرجمرہ کرکنکریاں مارسکتے ہیں ، لیکن صرف اتنا ہے کہ آپ اپنی کنکریاں پہلے ماریں ۔

آپ مزید تفصیل کےلیے سوال نمبر ( 36853 ) کے جواب کا مطالعہ ضرور کریں ۔

واللہ اعلم  .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب