ہفتہ 7 ربیع الثانی 1440 - 15 دسمبر 2018
اردو

بيٹا اسلامى ملك كى طرف ہجرت كرنا چاہتا ہے اور والدين نہيں مانتے

5046

تاریخ اشاعت : 08-06-2008

مشاہدات : 2798

سوال

كفريہ ملك سے اسلامى ملك كىطرف ہجرت كرنے كا شوق ركھنے والے شخص پر كيا واجب ہوتا ہے، ليكن اس كے والدين ہجرت نہيں كرنا چاہتے اور اسے بھى منع كرتے ہيں؟
كيا وہ اكيلا ہى ہجرت كر جائے، اس كا مطلب يہ ہوا كہ وہ والدين كو وہيں چھوڑ دے، اس ميں كم نقصان ہے، اور پھر اللہ تعالى كى اطاعت ميں مخلوق كى معصيت ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

ہم نے يہ سوال فضيلۃ الشيخ محمد بن صالح بن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كے سامنے پيش كيا تو ان كا جواب تھا:

اگر بيٹا اپنے والدين كا محتاج اور ضرورتمند ہے، اور كفار كے ملك ميں اپنے دين كے اظہار كى استطاعت بھى ركھتا ہے تو اس صورت ميں اس كا وہاں رہنا جائز ہے.

ماخذ: الشيخ محمد بن صالح العثيمين

تاثرات بھیجیں