اول:
مقروض لوگوں کو مہلت دینے کی ترغیب شریعت میں بہت واضح ہے، اور ادائیگی کا وقت آنے تک قرض خواہ کو قرض کی رقم کے برابر روزانہ صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا، اور وقت مقررہ کے بعد مزید مہلت دینے پر دگنا ثواب ملے گا۔
دوم:
اب اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ قرض کی ادائیگی میں مہلت دینا قرض معاف کرنے سے بہتر ہے، بلکہ سارا قرض معاف کر دینا یا کچھ حصہ معاف کر دینا مہلت دینے سے افضل ہے۔
کیونکہ معاف کر دینا در حقیقت مہلت بھی ہے اور اضافی عمل بھی ۔
آیت کریمہ سے یہی بات سمجھ میں آتی ہے، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ترجمہ: اور اگر وہ تنگ دست ہو تو آسانی تک مہلت دو، اور اگر تم مکمل ہی معاف کر دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ [البقرۃ: 280]
علامہ قرطبی رحمہ اللہ اپنی تفسیر (3/374)میں کہتے ہیں:
"اللہ تعالی نے ان الفا ظ کے ساتھ تنگ دست کو قرض معاف کرنے کی ترغیب دلائی ہے، نیز اسے مہلت سے زیادہ افضل قرار دیا ہے، یہی موقف سدی، ابن زید، اور ضحاک رحمہم اللہ کا ہے۔" ختم شد
الشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سورت البقرۃ کی تفسیر میں کہتے ہیں:
" آیت کے کشیدہ چند فوائد: قرض معاف کرنے کی فضیلت اور یہ کہ قرض معاف کرنا بھی صدقہ ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی نے اس عمل کو وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ کہہ کر صدقہ قرار دیا ہے۔ قرض معاف کر دینا سنت ہے جبکہ مہلت دینا واجب عمل ہے، تو یہاں قرآن کریم کی نص کے مطابق سنت ، واجب سے افضل ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالی نے فرمایا: وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ تو یہاں سنت کے افضل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ واجب عمل سنت کے ضمن میں موجود ہے؛ کیونکہ مقروض شخص کو قرض معاف کر دینا مہلت کے ساتھ ساتھ اضافی احسان بھی ہے؛ چنانچہ اس لیے اس مسئلے کو بطور پہیلی پوچھنے والے کی پہیلی بھی کالعدم ہو جائے گی کہ : ایسا مسئلہ بتلاؤ جس میں سنت بھی واجب سے افضل ہوتی ہو۔ تو اسے کہا جائے گا کہ: آپ کی یہ پہیلی ہی غلط ہے؛ کیونکہ یہاں پر سنت عمل میں واجب بھی موجود ہے، اس لیے یہ سنت واجب اور اضافی عمل پر مشتمل ہے، اس لیے واجب ہمیشہ افضل ہی ہو گا؛ کیونکہ اللہ تعالی کا حدیث قدسی میں فرمان ہے کہ: (میرا قرب پانے کے لیے میرا بندہ جو بھی کام کرے ان میں سے مجھے فرائض ہی سب سے زیادہ محبوب ہیں۔)" ختم شد
ابن کثیر رحمہ اللہ مذکورہ آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں:
"اللہ تعالی نے تنگ دست مقروض کہ جس کے پاس قرض چکانے کے لیے کچھ نہیں ہے اس کے متعلق صبر کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ ترجمہ: اور اگر وہ تنگ دست ہو تو آسانی تک مہلت دو۔ [البقرۃ: 280] پھر اللہ تعالی نے تنگ دست مقروض کو قرضہ معاف کرنے کی ترغیب دلائی ، اس کے بعد اس عمل پر ڈھیروں خیر اور ثواب کا وعدہ فرمایا اور کہا: وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ترجمہ: اور اگر تم مکمل ہی معاف کر دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ [البقرۃ: 280] یعنی مطلب یہ ہے کہ قرض کی ساری رقم ہی مکمل طور پر معاف کر دو۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے متعدد احادیث اس بابت منقول ہیں۔" ختم شد
اس بنا پر: افضل یہ ہے کہ آپ مقروض شخص کو سارا قرض معاف کر دیں ، یا کچھ حصہ معاف کر دیں۔
سوم:
ایسا قرضہ جس کی ادائیگی کا وقت مقرر نہیں کیا گیا اس کے بارے میں اصل یہ ہے کہ اسے فوری ادا کیا جائے اور قرض خواہ اسے فوری واپس کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: "ہر قرض فوری ادا کرنا ہوتا ہے۔" یعنی مطلب یہ ہے کہ قرض میں اصل یہ ہے کہ فوری ادا کیا جائے، الا کہ باہمی رضا مندی سے بعد میں ادا کرنے پر اتفاق کر لیا جائے۔
مزید کے لیے دیکھیں: (9/101)
تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ -واللہ اعلم -قرض خواہ کو ہر دن کے گزرنے پر قرض کی مقدار کے برابر صدقہ کرنے کا ثواب ہو گا، یعنی یہ ایسے قرض والا حکم رکھے گا جس کے ادا کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
نیز اس قرض پر یہ حکم بھی لاگو ہو گا کہ مقروض شخص کو سارا قرض معاف کر دیا جائے یا کچھ حصہ معاف کیا جائے مہلت دینے سے افضل ہے۔ جبکہ دونوں چیزوں میں قرض خواہ کے لیے بھلائی ہے۔
واللہ اعلم