جو شخص کافروں کے کفر کا قائل نہ ہو، وہ خود کافر ہے۔

سوال 6688

کیا یہ بات درست ہے کہ اگر کوئی شخص اس بات پر قائل نہ ہو کہ کافر، کافر ہے، تو وہ خود کافر ہو جاتا ہے؟ اگرچہ وہ نماز پڑھتا ہو اور قرآن و سنت پر ایمان رکھتا ہو۔
اگر اس کا جواب ہاں میں ہے، تو اس کی دلیل کیا ہے؟
کیا کوئی شخص یہ عقیدہ رکھتے ہوئے مسلمان ہو سکتا ہے کہ یہودی اور عیسائی مؤمن ہیں اور ان پر حقیقت واضح کیے جانے کے بعد بھی وہ جنت میں داخل ہوں گے ؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

1۔ جی ہاں، یہ بات درست ہے۔ جو شخص ایسے کافر کے کفر کا قائل نہ ہو جس کے کفر پر دینِ اسلام میں اجماع ہے، اس نے در حقیقت اللہ تعالیٰ کی اس خبر کی تصدیق نہیں کی جو اللہ تعالی نے ان کے کفر کے بارے میں دی ہے، اور نہ ہی اس بات کا عقیدہ رکھا کہ دینِ اسلام اپنے سے پہلے تمام ادیان کو منسوخ کر چکا ہے، اور یہ کہ تمام انسانوں پر لازم ہے کہ وہ صرف دین اسلام کی پیروی کریں، چاہے اس سے پہلے ان کا کوئی بھی دین رہا ہو۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ
ترجمہ:’’اور جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا۔‘‘ سورۃ آلِ عمران، آیت: 85۔

اور اللہ تعالیٰ کا یہ بھی فرمان ہے:
قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا
ترجمہ:’’کہہ دیجیے: اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔‘‘ سورۃ الأعراف، آیت: 158۔

2۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اسی بنا پر ہم ہر اس شخص کو کافر قرار دیتے ہیں جو مسلمانوں کے دین کے سوا کسی اور ملت کو اختیار کرے، یا ان (غیر مسلم ادیان کے ماننے والوں) کے بارے میں توقف کرے، یا شک میں پڑ جائے، یا ان کے مذہب کو درست قرار دے؛ اگرچہ وہ بظاہر اسلام کا اظہار بھی کرے، اور اس پر ایمان کا دعویٰ کرے، اور یہ عقیدہ بھی رکھے کہ اسلام کے سوا ہر مذہب باطل ہے، تو بھی وہ اس کے اپنے ظاہری موقف کی وجہ سے کافر ہے جو اس کے اس دعوے کے خلاف ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ‘‘ (2/1071)

3۔ شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’جان لو کہ اسلام کے نواقض میں سے سب سے بڑے دس ہیں:
اوّل: اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اس کے ساتھ شرک کرنا، حالانکہ وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ
ترجمہ:’’یقیناً اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اور اس کے علاوہ جسے چاہے بخش دیتا ہے۔‘‘ سورۃ النساء، آیت: 48۔
اور اس میں غیر اللہ کے لیے ذبح کرنا بھی شامل ہے، جیسے جنات یا قبروں کے لیے ذبح کرنا۔

دوم: جو شخص اللہ تعالیٰ اور اپنے درمیان واسطے مقرر کرے، انہیں پکارے اور ان سے شفاعت طلب کرے، تو وہ اجماعاً کافر ہے۔

سوم: جو شخص مشرکین کو کافر نہ سمجھے، یا ان کے کفر میں شک کرے، یا ان کے مذہب کو درست قرار دے، تو وہ اجماعاً کافر ہے۔

اور ان نواقض کو شمار کرنے کے بعد آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ان تمام نواقض میں ہنسی مذاق کرنے والے اور سنجیدہ، اور ڈرپوک بن جانے والے میں کوئی فرق نہیں، سوائے اس شخص کے جس پر جبر کیا جا رہا ہو۔ یہ سب انتہائی خطرناک امور میں سے ہیں، اور بکثرت واقع ہونے والے ہیں، لہٰذا مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ان سے بچے اور اپنے آپ کو ایسی صورت حال سے یقینی طور پر دور رکھے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس کے غضب اور درد ناک عذاب کے اسباب سے پناہ مانگتے ہیں۔ اور سلامتی ہو رسول اللہ پر۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’مؤلفات الشیخ محمد بن عبد الوہاب‘‘ (212، 213)

4۔ حکم کے اعتبار سے شرک اور کفر دونوں برابر ہیں۔
چنانچہ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’کفر اور شرک حکم میں برابر ہیں؛ ہر کافر مشرک ہے اور ہر مشرک کافر ہے، اور یہی امام شافعی اور دیگر اہلِ علم کا موقف ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’الِفصَل‘‘ (3/124)

5۔ اور یہود و نصاریٰ کافر اور مشرک ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ … سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ
ترجمہ:’’اور یہود نے کہا: عزیر اللہ کا بیٹا ہے، اور نصاریٰ نے کہا: مسیح اللہ کا بیٹا ہے، یہ ان کی زبانی باتیں ہیں، وہ ان لوگوں کی باتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں جنہوں نے ان سے پہلے کفر کیا تھا، اللہ انہیں ہلاک کرے، کہاں بہکے جا رہے ہیں ۔۔۔ وہ پاک ہے اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں۔‘‘ سورۃ التوبہ، آیات: 30، 31۔

اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اس امت میں سے جو بھی یہودی یا نصرانی میرے بارے میں سنے، پھر اس حال میں مر جائے کہ وہ اس وحی پر ایمان نہ لایا ہو جو مجھے دے کر بھیجا گیا ہے، تو وہ ضرور جہنم والوں میں سے ہو گا۔) اسے مسلم (153) نے روایت کیا ہے۔

لہٰذا جو شخص یہ کہے کہ یہود کافر نہیں ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو جھٹلاتا ہے ، فرمانِ باری تعالی ہے:
وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ
ترجمہ:’’اور ان کے کافر ہونے کی وجہ سے ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت رچا دی گئی۔‘‘ سورۃ البقرۃ، آیت: 93۔

اور وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو بھی جھٹلاتا ہے:
مِنَ الَّذِينَ هَادُوا يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ وَيَقُولُونَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَرَاعِنَا لَيًّا بِأَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًا فِي الدِّينِ وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ وَأَقْوَمَ وَلَكِنْ لَعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ
ترجمہ:’’یہود میں سے کچھ لوگ کلمات کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں، اور کہتے ہیں: ’’ ہم نے سنا اور نافرمانی کی، اور سنو کہ تو سن نہ سکے ، اور (کہتے ہیں) راعِنَا‘‘، اپنی زبانیں مروڑتے ہوئے اور دین میں قدغن لگاتے ہوئے؛ اور اگر وہ کہتے:’’ ہم نے سنا اور اطاعت کی، اور سنیں اور ہمیں مہلت دیں۔ ‘‘ تو یہ ان کے لیے بہتر اور زیادہ درست ہوتا، لیکن اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کی۔‘‘ سورۃ النساء، آیت: 46۔

اور وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو بھی جھٹلاتا ہے:
فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِمْ بِآيَاتِ اللَّهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا * وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا * وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ
ترجمہ:’’پس ان کے عہد توڑنے، اللہ کی آیات کا انکار کرنے، ناحق انبیاء کو قتل کرنے، اور یہ کہنے کی وجہ سے کہ ہمارے دل پردوں میں ہیں؛ بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی، پس وہ بہت تھوڑے ہی ایمان لاتے ہیں۔ اور ان کے کفر کی وجہ سے، اور مریم پر عظیم بہتان باندھنے کی وجہ سے، اور ان کے اس قول کی وجہ سے کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا؛ حالانکہ نہ انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ سولی دی، بلکہ معاملہ ان پر مشتبہ کر دیا گیا۔‘‘ سورۃ النساء، آیات: 155 تا 157۔

اور وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو بھی جھٹلاتا ہے:
إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَنْ يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا * أُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُهِينًا
ترجمہ:’’بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کریں، اور کہتے ہیں: ہم بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں، اور اس کے درمیان کوئی راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں؛ یہی لوگ حقیقی کافر ہیں، اور ہم نے کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘ سورۃ النساء، آیات: 150، 151۔

اور جو شخص یہ کہے کہ نصاریٰ کافر نہیں ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو جھٹلاتا ہے:
لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ
ترجمہ:’’یقیناً وہ لوگ کافر ہو گئے جنہوں نے کہا کہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے۔‘‘ سورۃ المائدۃ، آیت: 17۔

اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو بھی جھٹلاتا ہے:
لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا إِلَٰهٌ وَاحِدٌ وَإِنْ لَمْ يَنْتَهُوا عَمَّا يَقُولُونَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
ترجمہ:’’یقیناً وہ لوگ کافر ہو گئے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا تیسرا ہے، حالانکہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اگر وہ اس بات سے باز نہ آئے جو وہ کہتے ہیں تو ان میں سے جو کافر ہیں انہیں ضرور درد ناک عذاب پہنچے گا۔‘‘ سورۃ المائدۃ، آیت: 73۔

اور وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو بھی جھٹلاتا ہے جو ان یہود و نصاریٰ کے بارے میں ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان نہیں لاتے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی نہیں کرتے:
إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَنْ يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا * أُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُهِينًا
ترجمہ:’’ بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کریں، اور کہتے ہیں: ہم بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں، اور اس کے درمیان کوئی راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں؛ یہی لوگ حقیقی کافر ہیں، اور ہم نے کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ‘‘ سورۃ النساء، آیات: 150، 151۔

تو اللہ عزوجل کی طرف سے اس واضح بیان کے بعد آخر کیا چیز باقی رہ جاتی ہے؟! ہم اللہ تعالیٰ سے ہدایت کا سوال کرتے ہیں، اور درود و سلام ہوں ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر۔

حوالہ جات

دوستی اور لاتعلقی

ماخذ

الشیخ محمد صالح المنجد

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android