منگل 17 جمادی اولی 1440 - 22 جنوری 2019
اردو

حكومتى قرض لينے سے تنازل كرنے كى بنا پر خريدار كے ليے زمين كى قيمت زيادہ كرنا

7835

تاریخ اشاعت : 02-09-2013

مشاہدات : 1949

سوال

كيا ترقياتى بنك سے حصول قرض كا حق ترك كرنے كے بدلے ميں خريدار كى مصلحت كے ليے زمين كى قيمت زيادہ كرنى جائز ہے؟ ( ترقياتى بنك ذاتى رہائش بنانے كے ليے حكومت كى جانب سے غير سودى قرض مہيا كرتا ہے ).
مسئلہ كى وضاحت كچھ اس طرح ہے كہ:
( اگر ترقياتى بنك ميں رجسٹر كروائے بغير زمين كى قيمت پانچ لاكھ ہے تو مالك جا كر ترقياتى بنك ميں قرضے كى درخواست جمع كرائے اور اپنا نمبر حاصل كرلے اور مثلا حصول قرض ميں اس كى بارى تين برس بعد ہو تو زمين كا مالك خريدار سے كہے كہ مجھے چھ لاكھ ادا كردو اور بنك سے قرض لينے كى بارى ميں تم لے لو ميں اپنى بارى چھوڑتا ہوں ) ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

ہم نے يہ سوال فضيلۃ الشيخ محمد بن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كے سامنے پيش كيا تو ان كا جواب تھا:

يہ ( يعنى زمين كى قيمت ميں زيادتى ) اس كے تنازل كے عوض ميں ہے.

سوال:؟

كيا يہ عوض كسى مجھول چيز سے تنازل ميں تو نہيں؟

جواب:

نہيں، يہ ايسى چيز كے عوض ميں جو اس كا حق ہے ( اور يہ كہ قرض ) ملے گا يا نہيں يہ سب خطرہ ميں ہے، وہ اور جس كے ليے تنازل كيا جارہا ہے يعنى اسے چھوڑا جا رہا ہے.

سوال: ؟

تو اس كا جواب كيا ہے؟

جواب:

مجھے تو جواب يہى ظاہر ہوتا ہے كہ:

اس ميں كوئي حرج نہيں، كہ جب حكومت ( ترقياتى بنك ) اس كى اجازت ديتى ہو. اھـ .

واللہ اعلم .

ماخذ: الشیخ محمد صالح المنجد

تاثرات بھیجیں