ہفتہ 14 جمادی اولی 1440 - 19 جنوری 2019
اردو

سود ختم كرنے كے ليے بنك كو ادائيگى ميں ٹال مٹول سے كام لينا

7840

تاریخ اشاعت : 10-06-2005

مشاہدات : 3792

سوال

سود پر قرض حاصل كردہ قرض ميں سے اگر سات برس تك كچھ بھى ادا نہ كيا جائے تو قرض ( يعنى بنك كا نظام ہے كہ اسے مايوس قرضوں ميں شامل كرتے ہوئے ) كى واپسى كا مطالبہ ترك كرديا جاتا ہے، اور اگر اب اس كى ادايئگى شروع كردى جائے تو وہ سود كا مطالبہ بھى كرينگے، ليكن اگر سات برس تك انتظار كرے تو وہ اس قرض پر سود كے مطالبہ كو ترك كرتے ہوئے صرف اصل مال كا مطالبہ ہى كرينگے، تو كيا كسى شخص كے ليے ايسا كرنا جائز ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

مندرجہ بالا سوال فضيلۃ الشيخ جناب محمد بن صالح عثيمين رحمہ اللہ تعالى كے سامنے پيش كيا گيا تو ان كا جواب تھا:

اگر سات برس تك اس كى ادائيگى ميں ان كے ساتھ ٹال مٹول سے كام ليتا رہے، كہ وہ اس سے صرف اصل مال ہى واپس ليں گے تو ايسا كرنے ميں كوئى حرج نہيں .

ماخذ: الشيخ محمد بن صالح العثيمين

تاثرات بھیجیں