سوموار 2 ربیع الثانی 1440 - 10 دسمبر 2018
اردو

عمرہ کرنے سے پہلے خاتون کو حیض آ گیا۔

سوال

میں اور میری اہلیہ دو دن پہلے عمرہ کرنے کے لیے مکہ گئے تھے، دوران پرواز جہاز میں ہم نے عمرے کی نیت کر لی، پھر جب ہم مکہ پہنچے تو اپنا سفری سامان  وہاں ہوٹل میں رکھنے کے لئےگئے،  ہوٹل پہنچ کر میری اہلیہ کو علم ہوا کہ انہیں ماہواری شروع ہو گئی ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ کیا اس پر کوئی فدیہ ہے؟ اور فدیے کے مقدار کیا ہو گی؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

حیض عورت کو حج یا عمرے کی نیت کرنے سے مانع نہیں ہے، تاہم عورت پر  پاک صاف ہونے تک بیت اللہ کا طواف کرنا حرام ہو گا؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مکہ میں داخل ہونے سے پہلے حیض آنے پر فرمایا تھا: (تم ویسے ہی کرو جیسے حاجی کرتا ہے، تاہم تم بیت اللہ کا طواف اسی وقت کرنا جب تم پاک ہو جاؤ) متفق علیہ

اور صحیح بخاری میں ثابت  ہے کہ انہوں نے اسی وقت بیت اللہ کا طواف  اور سعی کی تھی جب وہ پاک صاف ہو گئیں ۔ تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب عورت کو طواف سے پہلے حیض آ جائے تو وہ پاک صاف ہونے تک طواف اور سعی نہ کرے۔

اس لیے آپ کی بیوی پر یہ واجب ہے کہ وہ پاک صاف ہونے تک انتظار کرے، اور پھر بیت اللہ کا طواف کرے اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرے اور سر کے بال ترشوا لے، اس طرح وہ اپنا عمرہ پورا کر لے گی،  نیز احرام کی حالت میں حیض آنے پر عورت کے ذمے کوئی فدیہ واجب نہیں ہوتا۔

مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (40608) کا جواب ملاحظہ کریں

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں