ہفتہ 23 ذو الحجہ 1440 - 24 اگست 2019
اردو

حاملہ عورت كو رمضان ميں خون آنے لگے تو كيا وہ روزے نہ ركھے؟

82920

تاریخ اشاعت : 17-08-2010

مشاہدات : 5388

سوال

ميں حاملہ عورت ہوں اور رمضان المبارك ميں دن كے وقت مجھے خون آنا شروع ہو گيا تو ميں ليڈى ڈاكٹر كے پاس گئى اس نے ميرا اندرونى چيك اپ كيا اور مجھے انجيكشن لگايا تا كہ حمل قائم رہے، اور ليبارٹرى ٹيسٹ كے ليے خون بھى ليا، تو كيا ميرا روزہ صحيح ہے، يا كہ ان امور ميں سے كسى ايك كى بنا پر ٹوٹ گيا ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

رحم كا اندرونى چيك اپ، اور حمل قائم ركھنے كے ليے ٹيكہ لگانا، اور ٹيسٹ كے ليے خون كا نمونہ لينا يہ مذكورہ امور ايسے ہيں جن سے روزہ نہيں ٹوٹتا؛ كيونكہ يہ روزہ توڑنے والے ان امور ميں شامل نہيں جن كو نص ميں بيان كيا گيا، اور نہ ہى اس كے معنى ميں آتے ہيں كہ انہيں اس كے ساتھ ملحق كيا جا ئے.

رہا خون آنے كا مسئلہ تو علماء كرام كا اس ميں اختلاف ہے كہ جب حاملہ عورت كو خون آئے تو كيا اسے حيض شمار كيا جائيگا يا نہيں ؟

سوال نمبر ( 23400 ) كے جواب ميں بيان ہو چكا ہے كہ اسے ايك شرط كے ساتھ حيض شمار كيا جائيگا كہ جب خون حيض كے وقت اور مہينہ ميں جارى رہے، يعنى وہ مہينہ ميں حيض كے وقت اور اتنے ہى ايام آئے تو حيض شمار ہو گا.

اور اگر خون حيض كے مقررہ وقت كے علاوہ كسى اور ايام ميں آئے،يا حيض ايك ماہ نہ آئے اور پھر دوسرے ماہ خون آئے تو يہ حيض شمار نہيں ہو گا، اور يہ روزے پر اثرانداز نہيں ہو گا، ان شاء اللہ آپ كا روزہ صحيح ہے.

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں