علماء یہ بات واضح طور پر بیان کرتے ہیں کہ بیت الخلا میں داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے کی حکمت یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ سے اُن شیطانوں کے شر سے حفاظت مانگے جو نجاست کی جگہوں اور ستر کھلنے کے مقامات میں حاضر رہتے ہیں، اور احادیث میں اس کی دلیل موجود ہے۔
چنانچہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہ بیت الخلا شیطانوں کی موجودگی کی جگہیں ہیں، لہٰذا جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت کے لیے جائے تو وہ یہ دعا پڑھے: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ یا اللہ! میں خبیث جنوں اور جننیوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔) اسے ابو داود (6) نے روایت کیا ہے، اور علامہ البانی نے صحیح ابو داود میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
موسوعہ فقہیہ (4/10) میں آتا ہے:
’’ حطّاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس جگہ خصوصی طور پر اللہ تعالی کی پناہ حاصل کرنے کی دو وجوہات ہیں:
- یہ خلوت کی جگہ ہے، اور اللہ کے حکم سے شیاطین کو خلوت گاہوں میں وہ تسلط حاصل ہوتا ہے جو عام جگہوں میں نہیں ہوتا۔
- بیت الخلا گندگی کی جگہ ہے، اور وہاں اللہ کا ذکر زبان پر جاری نہیں کرنا چاہیے، اس موقعے پر شیطان ذکر نہ ہونے کا فائدہ اٹھاتا ہے، کیونکہ ذکرِ الٰہی اسے بھگاتا ہے۔ اس لیے وہاں داخل ہونے سے پہلے استعاذہ کا حکم دیا گیا تاکہ ذکر کی عدم موجودگی کے باوجود انسان اور شیطان کے درمیان حفاظت قائم رہے، یہاں تک کہ انسان باہر نکل آئے۔ ‘‘ ختم شد
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ ’’ الشرح الممتع ‘‘(1/83) میں فرماتے ہیں:
’’بیت الخلاء میں داخل ہونے کی دعا کا فائدہ یہ ہے کہ انسان نر اور مادہ جنات سے اللہ عزوجل کی پناہ مانگتا ہے ، کیونکہ یہ جگہ ناپاک ہوتی ہے، اور ناپاک جگہ ناپاکوں کا ٹھکانا ہوتی ہے، یعنی شیطانوں کی رہائش گاہ۔ اس لیے مناسب ہے کہ جب انسان بیت الخلا میں داخل ہونا چاہے تو کہے: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ تاکہ نہ اسے خبث یعنی شر پہنچے اور نہ خبائث یعنی بدروحیں (شیطان وغیرہ)۔‘‘ ختم شد
یہ علت واضح طور پر اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر مرتبہ بیت الخلا میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھے، خواہ اس کا مقصد قضائے حاجت ہو، یا آجکل کے استعمال کے مطابق صفائی ستھرائی کے دیگر امور ہوں۔ اس طرح مسلمان اپنے آپ کو شیطانوں کے شر سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
جیسے کہ المغنی (1/190) میں آتا ہے:
’’امام احمد سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے: جب بیت الخلا میں داخل ہو تو کہے: ’اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ‘۔
میری عادت ہے کہ میں جب بھی وضو کی جگہ میں داخل ہوتا ہوں تو یہ دعا پڑھ لیتا ہوں، لیکن جب کبھی بھول گیا تو مجھے اس کا نقصان ہی ہوا۔‘‘ ختم شد
بعض فقہاء نے اپنی کتابوں میں اس پر مزید مثالیں بھی بیان کی ہیں۔ چنانچہ ’’حاشیۃ نھایۃ المحتاج‘‘ (فقہ شافعی) میں (1/142) لکھا ہے:
’’اگر کوئی شخص بچے کو قضائے حاجت کے لیے بیت الخلا میں لے جائے تو کیا اس کے لیے مستحب ہے کہ بچے کی طرف سے (نیابتاً) یہ دعا پڑھے یا نہیں؟ اس میں نظر ہے، لیکن اس بات کا امکان قریب ہے کہ وہ یہ دعا پڑھے گا۔
اسی طرح جب کوئی ماں اپنے بچے کو اس کے قضائے حاجت کے لیے مخصوص چیز (پاٹ وغیرہ)پر بٹھانے کا ارادہ کرے، تب بھی یہی حکم ہے۔‘‘ ختم شد مختصراً
شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے ’’ مجموع الفتاویٰ ‘‘(10/29) میں پوچھا گیا:
’’کیا دعا صرف اس وقت پڑھی جائے جب انسان قضائے حاجت کے لیے جائے، یا محض غسل خانے میں داخل ہونے پر بھی؟‘‘
تو انہوں نے جواب دیا:
’’بیت الخلا میں داخل ہونے کی دعا مطلقاً مستحب ہے، صرف قضائے حاجت سے خاص نہیں۔‘‘
اسی طرح بیت الخلا سے باہر نکلتے وقت کی دعا بھی یہی حکم رکھتی ہے۔
چنانچہ سنن ترمذی (7) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلا سے باہر آتے تھے تو فرماتے: ’’غُفْرَانَکَ‘‘ یعنی ’’اے اللہ! میں تیری بخشش مانگتا ہوں۔‘‘
علماء نے اس استغفار کی حکمت یہ بیان کی ہے کہ انسان بیت الخلا میں رہتے ہوئے اللہ کا ذکر نہیں کرتا، اور مسلمان اپنے اس حال کو کمی محسوس کرتا ہے، تو باہر نکل کر اس کمی کو استغفار کے ذریعے پورا کرتا ہے۔
دیکھیں: ’’ النہایۃ فی غریب الحدیث ‘‘(3/703)
یہ حکمت اس شخص کے لیے بھی موجود ہے جو قضائے حاجت کے بغیر کسی اور مقصد سے غسل خانے میں داخل ہوا ہو، اور استغفار تو مسلمان کا روزمرہ عمل ہے، اس لیے بیت الخلا سے نکلتے وقت ’’غفرانک‘‘ کہنا ان شاء اللہ بالکل درست ہے ۔
اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (26816) کا جواب ملاحظہ کریں۔
واللہ اعلم