جمعہ 16 رجب 1440 - 22 مارچ 2019
اردو

اگر غسل ميں دونوں حدث ختم كرنے كى نيت ہو تو كلى كب كرے اور ناك ميں پانى كب چڑھائے ؟

88066

تاریخ اشاعت : 25-03-2007

مشاہدات : 3120

سوال

جب انسان غسل كرے اور اس سے وضوء كى بھى نيت ہو تو كلى كرنا اور ناك ميں پانى چڑھانا واجب ہے، ليكن ميرا سوال يہ ہے كہ كلى اور ناك ميں پانى كب چڑھايا جائيگا ؟
يعنى غسل كرنے سے قبل يا كہ غسل كے بعد ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

غسل وضوء سے كفائت اس وقت كرتا ہے جب غسل حدث اكبر ( يعنى حيض يا نفاس يا غسل جنابت ) سے كيا جائے.

شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" جب غسل جنابت كيا جائے اور اس سے دونوں حدث يعنى حديث اصغر اور حدث اكبر دونوں سے پاك ہونے كى نيت كى جائے تو يہ كفائت كرے گا.

ليكن اگر غسل اس كے علاوہ كوئى اور غسل ہو مثلا جمعہ كا غسل يا گرمى دور كرنے كے ليے، يا صفائى كے ليے تو يہ غسل وضوء سے كفائت نہيں كريگا، چاہے اس كى نيت بھى كر لى جائے، كيونكہ ترتيب نہيں ہے، جو كہ وضوء كے فرائض ميں شامل ہے، اور اس ليے بھى كہ طہارت كبرى كا وجود نہيں جو كہ نيت كى بنا پر طہارت صغرى كى جانب جاتى ہے، جيسا كہ غسل جنابت ميں ہے" انتہى.

ديكھيں: مجموع فتاوى الكبرى ابن باز ( 10 / 173 ).

مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 82759 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

دوم:

احناف اور حنابلہ كے مسلك كے مطابق غسل ميں كلى اور ناك ميں پانى چڑھانا ضرورى ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

بعض اہل علم كا كہنا ہے كہ: وضوء كى طرح ان كے بغير غسل بھى صحيح نہيں ہوتا.

اور ايك قول يہ بھى ہے كہ: ان كے بغير بھى غسل صحيح ہے.

ليكن پہلا قول صحيح ہے؛ كيونكہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

تو تم غسل كرو المآئدۃ ( 6 ).

اور يہ سارے بدن كو مشتمل ہے، اور ناك اور منہ بدن ميں شامل ہے جس كى طہارت اور غسل كرنا ضرورى ہے، اسى ليے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے وضوء ميں ان دونوں كا حكم ديا ہے، كيونكہ يہ اس فرمان بارى تعالى ميں داخل ہيں:

چنانچہ اپنے چہرے دھوؤ المآئدۃ ( 6 ).

جب يہ چہرہ دھونے ميں شامل ہيں جو كہ وضوء ميں دھونا واجب ہے تو اس طرح يہ دونوں غسل ميں بھى داخل ہيں كيونكہ يہاں تو ان كى طہارت زيادہ يقينى ہے. انتہى.

ماخوذ از: الشرح الممتع.

سوم:

غسل كرنے والے كے ليے غسل كى ابتدا ميں وضوء كرنا مستحب ہے، اگر وہ وضوء نہيں كرتا بلكہ اپنے سارے جسم پر پانى بہا ليتا ہے تو يہ اس كے ليے كافى ہے اور اس كا غسل صحيح ہے، اسے يہ حق ہے كہ چاہے وہ كلى اور ناك ميں پانى غسل كے شروع ميں چڑھا لے يا پھر درميان ميں يا آخر ميں؛ كيونكہ غس ميں ترتيب واجب نہيں.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 1 / 140 ).

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں