كفار يا شيطان كے كردار كى اداكارى كرنے كا حكم

7,195

سوال 8926

بہت سارے دينى ڈراموں كا ہم مشاہدہ كرتے ہيں كہ اس ميں مشركين كا كردار پيش كيا جاتا ہے، اور ان كى زبان بولى جاتى ہے، تو مشركوں كى زبان بولنے والے كا حكم كيا ہے ؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

كسى بھى حال ميں جائز نہيں، اور نہ ہى كسى مسلمان شخص كے جائز ہے كہ وہ اللہ تعالى اور اس كے رسول اور دين اسلام كے دشمن كافر يا مشرك ميں سے كسى كى مشابہت كرے، اور نہ ہى اس كے لائق ہے كہ وہ اپنے آپ كو شيطان يا ابليس كى مشابہت دے جو كہ پورى انسانيت كا دشمن ہے.

تو كسى بھى مسلمان شخص كے ليے جائز نہيں كہ وہ اس طرح كا فعل سرانجام دے، اور وہ ابو جہل يا عتبہ يا ربيعہ وغيرہ بن كر كفريہ كلام كرے، يا اس طرح كا كوئى اور كردار.

اللہ تعالى ہى زيادہ علم ركھنے والا ہے.

حوالہ جات

ڈرامے اورفنون کے احکام

ماخذ

ديكھيں: فتاوى الشيخ عبد اللہ بن حميد صفحہ ( 20 )

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android