جمعہ 6 ربیع الثانی 1440 - 14 دسمبر 2018
اردو

دل میں ایمان بہت کمزور ہو چکا ہے تو کیا کرنا چاہیے؟

سوال

ہم ایک عرب اسلامی ملک میں رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم نے ایمان کا ذائقہ اور لذت محسوس نہیں کی، ہمیں اس بات کی شکایت ہےکہ  اللہ کی یاد دلانے  والے اہل خیر نا پید ہیں جو ہمیں اللہ کی یاد کروائیں، تو اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر سے نوازے، ہمیں کوئی مفید نصیحت کریں۔

جواب کا متن

الحمد للہ :

  1. آپ کثرت کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کریں اور تلاوت سنیں، اور اس دوران حسب استطاعت قرآن مجید کے معنی اور مفہوم پر غور و فکر کریں، جس چیز کو سمجھنے میں آپ کو دقت ہو تو اپنے علاقے کے اہل علم سے ان کے متعلق معلومات لیں، یا پھر بذریعہ خطوط دیگر اہل سنت علمائے کرام سے رہنمائی لیں۔

قرآن کریم کی تدبر کے ساتھ تلاوت کیلیے  تفسیر سعدی مختصر اور بہترین تفسیر ہے۔

  1. آپ صحیح احادیث میں وارد اذکار کثرت سے کریں، مثلاً: "لا الہ الَّا اللَّہ" [اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔]ایسے ہی "سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ" [اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، اور اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے۔]اور دیگر ثابت شدہ صحیح اذکار کثرت سے کریں، اس کیلیے آپ امام نووی کی کتاب: "الاذکار" یا دیگر اس موضوع پر لکھی گئی کتابوں سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

کیونکہ اللہ کا ذکر دل میں ایمان اور اطمینان پیدا کرتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: ( أَلا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ) خبردار! اللہ کے ذکر سے دل مطمئن ہوتے ہیں۔ [الرعد:28]

نماز روزے سمیت تمام ارکان اسلام کی خصوصی طور پر پابندی کریں، اور اللہ تعالی سے رحمت کی امید بھی رکھیں، اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالی پر توکل کریں، فرمانِ باری تعالی ہے:
( إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَاناً وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ * الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ * أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقّاً لَهُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ)
ترجمہ:بیشک مومن تو وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل پگھل جاتے ہیں اور جب ان پر اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ ایمان میں زیادہ ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں ٭ جو لوگ نماز قائم کرتے ہیں اور ہم نے انہیں جو کچھ دیا ہوا ہے اس سے خرچ کرتے ہیں ٭ یہی لوگ کما حقہ مومن ہیں ان کیلیے ان کے پروردگار کے ہاں درجات ، مغفرت اور عزت والا رزق ہے۔ [الأنفال:2-4]

یہ بات ذہن نشین رہے کہ ایمان اللہ تعالی کی اطاعت سے زیادہ ہوتا ہے اور اللہ کی نافرمانی کرنے سے کم ہوتا ہے، اس لیے آپ  اللہ تعالی کی جانب سے مقرر کردہ فرائض کو پابندی سے ادا کریں، مثلاً: مسجد میں با جماعت نماز کا اہتمام کریں، خوش دلی کے ساتھ اپنے مال کی زکاۃ ادا کریں، یہ آپ کو گناہوں سے پاک کرے گی اور ساتھ میں غریب  و مساکین کے ساتھ ہمدردی بھی ہو گی۔

نیز آپ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں ، ان کی صحبت شریعت پر عمل پیرا ہونے میں معاون ثابت ہو گی، وہ آپ کو دنیا و آخرت کی کامیابی کی جانب رہنمائی کریں گے۔

بدعتی اور فاسق قسم کے لوگوں سے اجتناب کریں؛ مبادا آپ کو کسی اور جانب نہ ڈال دیں اور آپ کے اندر موجود خیر کے جذبے کو ماند نہ کر دیں۔

نفلی عبادات کثرت سے کریں، اللہ تعالی سے گڑگڑا کر دعائیں مانگیں اور کامیابی کیلیے اپنے ہاتھ اٹھائیں۔

اگر آپ ان تمام امور کی پابندی کرتی ہیں تو اللہ تعالی آپ کا ایمان زیادہ فرما دے گا، جو نیکیاں آپ سے پہلے رہ گئی تھیں وہ بھی آپ حاصل کر لیں گے، نیز اللہ تعالی آپ کو اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے  اور استقامت کی توفیق دے گا، آپ کی کارکردگی دن بہ دن بڑھتی چلی جائے گی۔

واللہ اعلم

ماخذ: دائمی فتوی کمیٹی: (3/187)

تاثرات بھیجیں