بدھ 14 صفر 1440 - 24 اکتوبر 2018
اردو

ٹيلى فون ميں دوران انتظار موسيقى سننا

9125

تاریخ اشاعت : 18-11-2007

مشاہدات : 4284

سوال

ايك مسلمان بھائى كا سوال ہے كہ:
" آفس كے اندر اگر ٹيلى فون پر كسى سے بات كرنى ہو تو انٹر كام كے نظام ميں غير مسلموں نے انتظار كے وقت موسيقى لگا ركھى ہے تو كيا ميں بھى اس ميں گنہگار ہونگا ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اگر تو آپ اس برائى كو ختم كرنے كا اختيار ركھتے ہيں تو اس برائى پر آپ كا مواخذہ كيا جائيگا، اور اگر يہ معاملہ آپ كے اختيار ميں نہيں تو پھر مواخذہ نہيں، ليكن اس ميں بھى شرط يہ ہے كہ آپ جان بوجھ كر يہ موسيقى نہ سنيں، اور اس سے لذت و فرحت محسوس نہ كريں.

كيونكہ موسيقى حرام ہے، اور اسى طرح گانے بھى حرام ہيں، اس كى تفصيل معلوم كرنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 5011 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

اور لوگوں ميں سے كچھ ايسے لوگ ہيں جو لہو الحديث خريدتے ہيں .... الآيۃ لقمان ( 6 ).

ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہ لہو الحديث كى تفسير كرتے ہوئے كہتے ہيں:

" اس سے مراد گانا بجانا ہے "

اس كے علاوہ كئى ايك صحابہ كرام اور سلف رحمہ اللہ نے بھى يہى تفسير كى ہے.

اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى نے اس ميں فرق كرتے ہوئے كہا ہے كہ:

" لذت اور سرور حاصل كرنے كے قصد و ارادہ سے سننا، اور بغير ارادہ اور قصد كے راہ جاتے ہوئے بغير اختيار كان ميں پڑنا ايك جيسا نہيں اس ميں فرق ہے، اس ميں كوئى گناہ نہيں، اور پھر اللہ تعالى كسى بھى جان كو اس كى استطاعت و طاقت سے زيادہ مكلف نہيں كرتا "

اس ليے اگر دوسرى جانب سے ٹيلى فون ميں انتظار كے وقت موسيقى لگا دى جائے تو آپ حسب استطاعت اسے سننے سے احتراز كريں اور آپ ان نغموں كو نہ سنيں، اور اللہ تعالى سے استغفار كرتے رہيں، يقينا اللہ تعالى بخشنے والا اور رحم كرنے والا ہے.

واللہ اعلم .

ماخذ: الشیخ محمد صالح المنجد

تاثرات بھیجیں