سوموار 15 رمضان 1440 - 20 مئی 2019
اردو

منفرد شخص كے پيچھے نماز كا حكم

9182

تاریخ اشاعت : 23-04-2007

مشاہدات : 4741

سوال

اگر كوئى شخص انفرادى طور پر نماز ادا كر رہا ہو اور ايك اور شخص آ جائے تو كيا وہ شخص اس كى نماز ميں مل كر نماز ادا كرے، يا كہ وہ اس سے دور رہے كيونكہ وہ انفرادى نماز ادا كر رہا ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

علماء كرام كے صحيح قول كے مطابق ايسا كرنے ميں كوئى حرج نہيں اگرچہ اس مسئلہ ميں اختلاف پايا جاتا ہے، ليكن صحيح يہى ہے كہ ايسا كرنا جائز ہے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم قيام الليل كى نماز اكيلے ادا كر رہے تھے تو ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما آئے ا ور ان كے ساتھ نماز ادا كى تو اس حالت ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم امام اور ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما مقتدى بن گئے.

چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم منفرد سے امام كى نيت ميں منتقل ہوگئے، جو كہ اس كے جواز كى دليل ہے.

اور نفلى اور فرضى ميں يہ معاملہ برابر ہے، الا يہ كہ كوئى دليل اس كى تخصيص كر دے، يہ قول دوسرے سے زيادہ صحيح ہے، اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے بھى اسے اختيار كيا ہے، اور امام احمد سے بھى ايك روايت ہے، اور ان شاء اللہ يہى راجح ہے.

ماخذ: ديكھيں: فتاوى فضيلۃ الشيخ عبد اللہ بن حميد صفحہ نمبر ( 93 )

تاثرات بھیجیں