حمام میں اللہ کا ذکر کرنے کا حکم

سوال: 9286

کیا مسلمان بیت الخلاء (حمام) میں قرآن پڑھ سکتا ہے یا دل میں اللہ تعالیٰ کو یاد کر سکتا ہے، بغیر زبان سے کچھ کہے؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

ذکر کی دو قسمیں ہیں:

  1. زبان سے ذکر: جیسے قرآن کی تلاوت کرنا، اذکار اور دعائیں پڑھنا جن کی شریعت نے ترغیب دی ہے۔
  2. دل سے ذکر: جیسے اللہ تعالیٰ کی عظمت، قدرت اور اس کی مخلوقات میں غور و فکر کرنا، یا قرآن کو دل ہی دل میں پڑھنا ۔ لیکن یاد رکھیں کہ دل ہی دل میں قرآن پڑھنے پر وہ ثواب نہیں ملتا جو زبان سے پڑھنے پر ملتا ہے، کیونکہ قرآن پڑھنے کا اجر تلاوت پر ہے، اور تلاوت صرف زبان سے ہی ہوتی ہے۔ اسی طرح دعاؤں میں بھی زبان سے ادا کرنا ضروری ہے، صرف دل میں پڑھنے سے دعا شمار نہیں ہوتی۔

علمائے کرام  نے ان دونوں اقسام کے درمیان فرق کیا ہے:

  • زبان سے ذکر: بیت الخلاء میں زبان سے اللہ کا ذکر کرنا مکروہ ہے، اللہ کی تعظیم کی وجہ سے۔
  • دل سے ذکر: دل میں اللہ کا ذکر کرنا مکروہ نہیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔

اس فرق کی دلیل یہ بھی ہے کہ: علمائے کرام  نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ جنبی  شخص قرآن کو دل ہی دل میں دہرا سکتا ہے، لیکن زبان سے تلاوت کرنا حرام ہے۔

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’علمائے کرام  کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر جنبی شخص صرف دل میں قرآن پر غور کرے اور زبان حرکت نہ دے تو وہ قرآن پڑھنے والا شمار نہیں ہو گا، اور جنبی کے لیے قرآن پڑھنے کی جو حرمت ہے، اس کا مرتکب نہیں ہو گا۔‘‘ ختم شد
شرح صحیح مسلم: (4/103)

ابن المنذر رحمہ اللہ ’’الاوسط‘‘ میں نقل کرتے ہیں:
’’عکرمہ رحمہ اللہ نے کہا: بیت الخلاء میں زبان سے اللہ کا ذکر نہ کرے، لیکن دل میں کر سکتا ہے۔‘‘ ختم شد
الاوسط: (1/341)

دائمی فتوی کمیٹی کا کہنا ہے کہ:
’’اسلامی آداب میں سے ہے کہ انسان بیت الخلاء میں داخل ہونے سے پہلے اللہ کو یاد کرے، مثلاً یہ دعا پڑھے: اَللَّهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ ، اور جب بیت الخلاء میں داخل ہو جائے تو پھر اللہ کا ذکر نہ کرے، بلکہ خاموش رہے۔‘‘
فتاوی دائمی فتوی کمیٹی: (5/93)

الشیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’دل سے ذکر ہر وقت اور ہر جگہ مشروع ہے، چاہے بیت الخلاء ہو یا کوئی اور جگہ۔ البتہ اللہ کی تعظیم کی وجہ سے زبان سے ذکر کرنا، جیسے حمام  وغیرہ میں تو یہ مکروہ ہے۔ تاہم وضو کے وقت ’’بسم اللہ‘‘ کہنا مستثنیٰ ہے، اگر باہر وضو ممکن نہ ہو تو اندر کہہ سکتا ہے، کیونکہ بعض علماء کے نزدیک یہ واجب ہے، اور جمہور کے نزدیک مؤکد سنت ہے۔‘‘ ختم شد
فتاوی ابن باز: ( 5/408)

واللہ اعلم

حوالہ جات

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android