عورت کا عورت کے ساتھ محرم کے بغیر سفر کرنے کا حکم

10,945

سوال 9370

کیا کوئی عورت کسی اجنبی عورت کے لیے سفر وغیرہ میں محرم شمار ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

عورت کسی دوسری عورت کے لیے محرم نہیں ، محرم ایسا مرد  ہوتا ہے  جو عورت کیلیے نسب کی وجہ سے حرام ہو مثلاً: عورت  کا والد  اور بھائی  وغیرہ ، یا کسی مباح سبب کے محرم بن جائے، مثلاً خاوند ، سسر ، خاوند کا بیٹا ، رضاعی باپ  اور رضاعی بھائی وغیرہ ۔

اور کسی بھی مرد کے لیے کسی اجنبی عورت کے ساتھ علیحدگی اختیار کرنا اور اس کے ساتھ سفر کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :( کوئی بھی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے ) اس حدیث کے صحیح ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔

اور اسی طرح رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان  بھی ہے :( کوئی مرد بھی کسی عورت کے ساتھ تنہائی مت اختیار کرے؛ کیونکہ ان دونوں کے مابین تیسرا شیطان  ہو گا) مسند احمد وغیرہ نے اسے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ بیان کیا ہے ۔

اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے ۔.

حوالہ جات

عورت کیلیے سفر میں محرم

ماخذ

دیکھیں: "مجموع فتاوی و مقالات " از: شیخ عبد العزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ ( 8/336)

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android