جمہور فقہائے کرام کے نزدیک کافر کے لیے مصحف (قرآن کریم کے مطبوعہ نسخے) کو چھونا منع ہے اور مصحف اس کے ہاتھ میں دینے کی اجازت نہیں، کیونکہ جب مسلمان کو بغیر وضو کے مصحف چھونے سے روکا گیا ہے تو کافر کو بدرجہ اولیٰ اس سے روکا جائے گا، نیز اس لیے بھی کہ اس سے مصحف کی بے ادبی کا اندیشہ ہے۔ اسی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے دشمن کی سرزمین کی طرف قرآن مجید لے جانے سے منع فرمایا، جیسے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے منع فرمایا ہے کہ قرآن کریم کو دشمن کی زمین کی طرف لے جایا جائے۔ اس حدیث کو امام بخاری: (2990) اور مسلم : (1869) نے روایت کیا ہے۔
صحیح مسلم کی روایت میں یہ اضافہ بھی ہے: ’’اس خوف سے کہ کہیں دشمن اس کی بے حرمتی نہ کریں۔‘‘
علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ہمارے اصحاب کہتے ہیں کہ کافر کو قرآن سننے سے نہیں روکا جائے گا، لیکن اسے مصحف چھونے سے روکا جائے گا۔ اور اگر کسی کافر کو قرآن سکھانے کی بات ہو تو اگر اس کے اسلام کی امید نہ ہو تو جائز نہیں، اور اگر امید ہو تو جواز ہے، یہی زیادہ صحیح قول ہے۔‘‘ختم شد
ماخوذ از: المجموع: (2/85)
علامہ رملی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’کافر کو مصحف کی جلد بندی کے لیے ہاتھ لگانے سے بھی منع کیا جائے گا، جیسا کہ ابن عبدالسلام نے کہا ہے، خواہ اس کے اسلام قبول کرنے کی امید ہو، جبکہ پڑھنے کے لیے دیا جا سکتا ہے۔ پہلی صورت میں منع اس لیے ہے کہ غیر مسلم کو مصحف کی جلد بندی وغیرہ کی صورت میں مکمل اختیار دینا اس کی اہانت کا باعث ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: نهاية المحتاج: (3/389)
علامہ الباجی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’اگر کوئی کافر یہ چاہے کہ اس کے پاس مصحف بھیجا جائے تاکہ وہ غور و فکر کر کے اسے پڑھے تو اس کے پاس مصحف نہ بھیجا جائے، کیونکہ وہ ناپاک اور جنبی ہے ، اور ایسے افراد کے لیے مصحف چھونا جائز نہیں، لہذا کسی کے لیے جائز نہیں کہ اسے مصحف دیا جائے، ابن الماجشون نے بھی یہی ذکر کیا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: المنتقى: (3/165)
الموسوعة الفقهية میں ہے:
’’کافر کا مصحف چھونا یا مصاحف کی کتابت و تیاری میں کام کرنا : کافر کے لیے مصحف چھونا بھی منع ہے، جیسا کہ جنبی مسلمان کے لیے منع ہے، بلکہ کافر کے لیے تو بدرجہ اولیٰ منع ہے، اور اسے مطلقاً منع کیا گیا ہے خواہ وہ جنابت کا غسل کرے یا نہ کرے۔
البتہ فتاوی عالمگیری میں ہے کہ : امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: اگر کافر غسل کر لے تو جائز ہے، لیکن البحر الرائق میں امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف دونوں سے مطلق ممانعت منقول ہے۔
کافر کو مصاحف کی تیاری کے لیے کام کرنے سے منع کیا جائے گا، چنانچہ اس حوالے سے قلیوبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: کافر کو مصحف کی جلد بندی یا نقش نگاری کے کام سے روکا جائے گا، لیکن بہوتی رحمہ اللہ کہتے ہیں: البتہ اگر کوئی کافر شخص مصحف کو بغیر چھوئے یا اٹھائے اس کی کتابت کرے تو اجازت ہے۔‘‘
(الموسوعة الفقهية، مادہ: مصحف، فقرہ: 30)
اسی میں ہے:
’’ تمام مالکی، شافعی، اور حنبلی فقہائے کرام جبکہ احناف میں سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک کافر کے لیے مصحف چھونا جائز نہیں، کیونکہ اس میں قرآن کریم کی بے ادبی ہے۔
البتہ امام محمد بن حسن الشیبانی فرماتے ہیں: اگر وہ غسل کر لے تو حرج نہیں، کیونکہ اصل مانع حدث ہے اور وہ غسل سے زائل ہو جاتا ہے، اس کے عقیدے کی ناپاکی اس کے دل میں ہے، ہاتھ میں نہیں۔‘‘
(الموسوعة الفقهية، مادہ: كفر، فقرہ: 16)
شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
’’کیا نصرانی کے لیے مصحف کو چھونا یا قرآن کریم کے تراجم کو چھونا جائز ہے؟‘‘
انہوں نے فرمایا:
’’اس مسئلے میں اہلِ علم کا اختلاف ہے، مگر راجح قول یہ ہے کہ نصرانی، یہودی اور تمام کفار کو منع کیا جائے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن کو دشمن کی سرزمین میں لے جانے سے روکا تاکہ وہ اسے اپنے قبضے میں نہ لے سکیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ انہیں مصحف پر اختیار نہیں دیا جا سکتا، البتہ انہیں قرآن سننے کی اجازت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ
ترجمہ: ’’اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔‘‘ (التوبہ: 6)
یعنی اسے قرآن کریم سننے کی اجازت ہے، قرآن کریم کا نسخہ دینے کی نہیں۔
جبکہ بعض اہلِ علم نے کہا کہ اگر اس کافر شخص کے اسلام قبول کرنے کی امید ہو تو جائز ہے، اور دلیل کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا وہ خط پیش کیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ھرقل کو قرآن کریم کی آیت قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ... لکھی۔
اس دلیل کا جواب دیتے ہوئے ممانعت کے قائلین کہتے ہیں: یہ دلیل صحیح نہیں، کیونکہ یہ صرف ایک یا دو آیت لکھنے کی اجازت پر دلالت کرتی ہے، پورا مصحف دینے پر نہیں۔
البتہ جہاں تک قرآن کے ترجمہ کا تعلق ہے تو کافر اسے چھو سکتا ہے، کیونکہ ترجمہ دراصل تفسیر ہے، قرآن نہیں۔ لہٰذا اگر وہ یا کوئی بے وضو شخص ترجمہ کو چھوئے تو حرج نہیں، کیونکہ یہ قرآن کا حکم نہیں رکھتا۔ قرآن کا حکم صرف اس تحریر پر ہے جو عربی زبان میں بلا تفسیر لکھی ہو، چنانچہ اگر کوئی بے وضو شخص، یا مسلمان یا کافر شخص تفسیر کو پکڑنا چاہے تو اس کے لیے جائز ہے؛ کیونکہ یہ تفسیر ہے مصحف اور قرآن کریم کا نسخہ نہیں ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: مجموع فتاویٰ ابن باز: (24/340)
ہم یہاں یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ مذکورہ صورت میں کافر کی طرف سے قرآن کی اہانت کا اندیشہ ظاہر نہیں ہوتا، بلکہ بظاہر اہانت یہ ہے کہ قرآن کے صفحات محض تجربے کے لیے چھاپے جائیں، کیونکہ اگر علماء نے پرانے، بوسیدہ قرآنی اوراق کے بارے میں یہ اختلاف کیا ہے کہ انہیں جلایا جائے، دھویا جائے یا ٹکڑے کیے جائیں، اور بعض نے ان میں سے کسی بھی طریقے کو "خلافِ احترام" کہا ہے (البرہان فی علوم القرآن للزركشي: 1/477)
تو پھر محض تجربے کے لیے قرآن کے صفحات چھاپنا اور پھر انہیں ضائع کر دینا بدرجہ اولیٰ خلافِ احترام ہے۔
لہٰذا اگر ممکن ہو کہ مشین کا تجربہ کسی غیر قرآنی عبارت سے کیا جائے، جیسا کہ آپ نے کیا، تو یہی واجب ہے۔
قرآن کے لیے مخصوص صفحات چھاپنا محض تجربے کی غرض سے جائز نہیں، جب کہ اس کا متبادل بھی موجود ہو۔
اور اگر کافر انجنیئر صرف مشین چیک کرے اور چھپے ہوئے صفحات کو ہاتھ نہ لگائے، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔
واللہ اعلم۔