الحمد للہ.
اول:
پہلے متعدد سوالات کے جواب میں جائز اور ناجائز کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات گزر چکی ہیں، چنانچہ اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (97530) کا جواب ملاحظہ کریں۔
اسی طرح پہلے یہ بھی گزر چکا ہے کہ مذکورہ ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے خریدار قیمت ادا کرے تو دکاندار ان ذرائع سے ادا کی گئی قیمت وصول کر سکتا ہے، آج کل بہت سے شاپنگ مالز میں ایسے ہی ہو رہا ہے؛ اس کے جائز ہونے کی وجہ یہ ہے کہ دکاندار نے کوئی حرام کام نہیں کیا، بلکہ دکاندار نے تو اپنا حق لیا ہے۔
دوم:
آپ کا یہ سوال کہ: " کیا اگر خریدار اپنے حرام مال سے میری کتاب ویب سائٹ کے ذریعے خریدے اور میں اس مال کا مالک بن جاؤں تو کیا مجھ پر کوئی گناہ ہے؟"
اس کا جواب یہ ہے کہ: آپ کی بیع صحیح ہے، اس کی وجہ سے آپ پر کوئی گناہ نہیں ہے؛ کیونکہ دکاندار پر یہ لازمی نہیں ہے کہ خریدار کے پاس موجود رقم کے ماخذ کے متعلق پوچھے کہ اس نے کہاں سے کمائے ہیں، نہ اس کے بارے میں تحقیق کرنے کی ضرورت ہے، تو جس انسان کے پاس بھی رقم ہے تو اس کا اصل حکم یہی ہے کہ وہ رقم اسی کی ہے یہاں تک کہ اس کے بر خلاف کوئی دلیل مل جائے۔
اگر کسی شخص کی آمدن کا کچھ حصہ حرام ذریعے سے کمایا ہوا ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس سے خرید و فروخت ہی نہ کی جائے؛ کیونکہ مسلمان مدینہ میں یہودیوں سے لین دین کیا کرتے تھے حالانکہ یہودی سودی لین دین میں ملوث تھے۔
ابن رجب رحمہ اللہ اس بارے میں کہتے ہیں:
"نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ کرام مشرکین اور اہل کتاب کے ساتھ لین دین کیا کرتے تھے حالانکہ مسلمانوں کو اس بات کا ادراک تھا کہ یہ سب لوگ مکمل طور پر حرام سے نہیں بچتے" ختم شد
" جامع العلوم والحكم " (ص 179)
اسی طرح شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"مسلمانوں ، یہودیوں اور عیسائیوں کی ملکیت میں جتنی بھی ایسی دولت ہے جن کے بارے میں کسی دلیل یا اشارے سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ دولت غصب شدہ ہے یا ایسے انداز میں اس کو ملکیت میں لایا گیا ہے کہ ان کے ساتھ اس دولت کے مالک کی طرح تعامل نہیں کیا جاسکتا؛ تو ان تمام افراد کی دولت کے ذریعے بلا شک و شبہ لین دین کیا جا سکتا ہے، اس بارے میں ائمہ کرام کے ہاں مجھے کسی اختلاف کا علم نہیں ہے۔" ختم شد
" مجموع الفتاوى " ( 29 / 327 )
اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (13503) کا جواب ملاحظہ کریں۔
واللہ اعلم