غیب مطلق کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا

سوال: 101968

میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ قرآن نے جو یہ خبر دی ہے کہ غیب کا علم صرف اللہ ہی جانتا ہے، یہ اس بات کے ساتھ کیسے مطابقت رکھتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں بتایا کہ جنات مستقبل میں ہونے والے کچھ واقعات کی بات سن لیتے ہیں اور اس میں سچائی کا کچھ حصہ ہوتا ہے، پھر وہ اس کے ساتھ سینکڑوں جھوٹ ملا کر کاہنوں کو خبر دیتے ہیں؟ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ بھی فرمایا کہ علم نجوم جھوٹ پر قائم ہے، اور سورج و چاند تو محض اللہ کی نشانیاں ہیں۔ تو آخر جنات مستقبل کی خبریں کیسے دے دیتے ہیں حالانکہ غیب تو اللہ ہی جانتا ہے؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

غیب کا علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، جیسا کہ قرآن و سنت کی نصوص سے واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ (النمل: 65)
ترجمہ: ’’کہہ دو: آسمانوں اور زمین میں اللہ کے سوا کوئی بھی غیب نہیں جانتا ، اور انہیں یہ بھی شعور نہیں ہے کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا۔‘‘

اور فرمایا:

وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ (الأنعام: 59)
ترجمہ: ’’اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، ان کو اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور جو کچھ خشکی اور سمندر میں ہے وہ جانتا ہے ، اور کوئی پتہ بھی گرے تو اللہ تعالی اسے جانتا ہے، اور نہ زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ ہے اور نہ کوئی تر اور خشک چیز مگر یہ سب کتابِ مبین میں ہے۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان غیب کی کنجیوں کو سورۃ لقمان کی آیت میں بیان کردہ پانچ امور قرار دیا:
إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ (لقمان: 34)
ترجمہ: ’’بے شک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے جو کچھ رحموں میں ہے، اور کوئی نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائے گا، اور کوئی نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اس کی موت آئے گی۔ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، سب خبر رکھنے والا ہے۔‘‘

اسی طرح عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’جو یہ دعویٰ کرے کہ وہ جانتا ہے کل کیا ہو گا تو وہ جھوٹا ہے ‘‘ اور پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا ترجمہ: ’’اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی۔‘‘ (بخاری 4477)

اس مسئلے میں یہ بات جاننا ضروری ہے کہ وہ کون سا غیب ہے جو صرف اور صرف اللہ تعالی کو معلوم ہے؛ کیونکہ لفظ غیب کا معنی یہ ہے کہ جو چیز بھی غائب ہو وہ غیب ہے، اور اس کی دو قسمیں ہیں:
1- وہ غیب جو تمام مخلوق سے چھپا ہوا ہے، چاہے آسمان والے ہوں یا زمین والے۔ اس کو غیب مطلق [مخلوق کے لیے ہر اعتبار سے غیب] کہا جاتا ہے اور یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
2- وہ جو بعض مخلوق سے مخفی ہو مگر بعض کو معلوم ہو۔ یہ ان کے لیے غیب ہے جو نہیں جانتے، لیکن وہ غیب مطلق نہیں ہے۔ اس کے بارے میں یہ نہیں کہا جاتا کہ یہ صرف اللہ تعالی ہی جانتا ہے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’غیب وہ ہے جو انسان سے چھپا ہو، اور غیب کا معاملہ نسبتی ہے، لیکن غیب مطلق صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: شرح العقیدہ الواسطیہ: (ص 158)

جہاں تک کاہنوں کی بات ہے کہ وہ مستقبل کے امور کے بارے میں پیشگی خبر دے دیتے ہیں ، اس کا تعلق علم غیب سے یکسر نہیں ہوتا، ایسا نہیں ہے کہ وہ کل رونما ہونے والی بات کو جانتے ہیں، بلکہ وہ اپنے ایسے دعوے میں جھوٹے ہیں، ان کا دعویٰ غیب جاننے کا باطل ہے؛ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ جنات کے ذریعے ایک سچی بات چوری کر لیتے ہیں جو اللہ فرشتوں کو وحی کرتا ہے، پھر جن وہ بات کاہن کے کان میں ڈال دیتے ہیں اور اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ جیسے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ’’وہ کسی چیز کے قابل نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کبھی کبھی سچ بات بھی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’وہ سچی بات جنوں سے چھین لیتے ہیں اور اپنے مقرب لوگوں کے کان میں مرغی کی طرح کڑکڑاتے ہیں، اور وہ پھر اس میں سو جھوٹ ملا دیتے ہیں۔‘‘ (بخاری 7561)

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ بھی بیان کیا کہ جنات یہ بات کیسے چراتے ہیں: ’’جب ہمارا رب کسی امر کا فیصلہ فرماتا ہے تو عرش اٹھانے والے تسبیح کرتے ہیں، پھر ان کے قریب والے آسمان والے تسبیح کرتے ہیں، یہاں تک کہ تسبیح آسمان دنیا والوں تک پہنچتی ہے۔ پھر ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ تو وہ بتاتے ہیں کہ رب نے کیا کہا۔ پھر یہ خبر آسمانوں سے ہوتے ہوئے نیچے تک پہنچتی ہے، یہاں تک کہ جن سن لیتے ہیں اور اپنے دوستوں تک پہنچا دیتے ہیں، پھر ان پر شہاب بھی پھینکے جاتے ہیں۔ پس وہ جو خبر لاتے ہیں وہ اصل میں حق ہوتی ہے لیکن اس میں جھوٹ بھی شامل کر دیتے ہیں اور اضافہ کر دیتے ہیں۔‘‘ (مسلم 2229)

تو اس سے واضح ہوا کہ جنات غیب نہیں جانتے، بلکہ صرف اتنا ہوتا ہے کہ فرشتوں کے ایک دوسرے سے بات کے دوران وہ ایک بات سن لیتے ہیں، جو فرشتوں کو اللہ نے سکھائی ہوتی ہے۔ اس سے پہلے نہ فرشتوں کو خبر ہوتی ہے نہ کسی اور کو۔ لہٰذا اصل علم تو اللہ ہی کا ہے، اور وہی جسے چاہے اطلاع دیتا ہے، تو جب اللہ تعالی نے اس غیب کی اطلاع فرشتوں کو دے دی تو وہ غیب مطلق رہا ہی نہیں، اور مخلوق میں سے بھی اسی کو غیب کا پتہ چلتا ہے جسے اللہ تعالی اطلاع دے، وگرنہ کسی کو اس کا علم نہیں ہوتا۔ فرمانِ باری تعالی ہے:
عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا (الجن: 26)
ترجمہ: ’’وہ غیب کا جاننے والا ہے، اور اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔‘‘

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’سب سے بڑے فرشتے جبرائیل علیہ السلام نے سب سے بڑے رسول، محمد صلی اللہ علیہ و سلم سے قیامت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ’’جس سے پوچھا گیا ہے وہ سائل سے زیادہ نہیں جانتا۔‘‘ یعنی نہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو علم تھا نہ جبرائیل علیہ السلام کو۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: شرح العقیدہ الواسطیہ : (ص 158)

واللہ اعلم

حوالہ جات

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android