جانوروں کو ایذا دینے اور ان کے درمیان لڑائی کرانے کی ممانعت

سوال 102828

1- اگر ہرن کو باندھ کر اس پر شکاری کتے چھوڑے جائیں تو اس کا کیا حکم ہے؟
2- اگر ہرن کو باندھ کر اس پر شکاری کتے چھوڑے جائیں تاکہ انہیں تربیت دی جا سکے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

باندھے ہوئے ہرن پر شکاری کتے چھوڑنا محض کھیل اور جانور کو اذیت دینے کی ایک صورت ہے، جو کہ حرام ہے۔ صحیح بخاری (5513) اور صحیح مسلم (1956) میں ہشام بن زید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ’’میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے ہاں گیا تو انہوں نے دیکھا کہ کچھ لڑکے ایک مرغی کو باندھ کر اس پر تیر چلا رہے ہیں۔ اس پر انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جانوروں کو باندھ کر انہیں نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔‘‘

امام نووی رحمہ اللہ ’’شرح مسلم‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’علمائے کرام  کہتے ہیں: جانور کو باندھ دینا اور پھر اسے تیر وغیرہ سے مارنا ہی ’صبر البهائم‘ ہے، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے منع فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (زندہ جانور کو نشانہ نہ بناؤ)۔ اس ممانعت کا مطلب اس عمل کا حرام ہونا ہے۔ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں فرمایا: ’’اللہ اس پر لعنت کرے جو ایسا کرے۔‘‘ اس لیے کہ یہ جانور پر ظلم ہے، اس کی جان ضائع کرنے اور اس کی مالی حیثیت ختم کرنے کے مترادف ہے، اور اگر وہ ذبح کے قابل ہے تو اسے ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے نفع سے بھی محروم کرنے کے برابر ہے۔‘‘ ختم شد

اسی طرح جانوروں کو آپس میں لڑانے کی بھی ممانعت آئی ہے، اگرچہ وہ روایت ضعیف ہے۔

’’الموسوعة الفقهية‘‘ (10/195) میں ہے:
’’جہاں تک شکار کے لیے جانوروں کو بھڑکانے اور چھوڑنے کا تعلق ہے تو یہ مباح ہے، جیسے تربیت یافتہ کتے کو شکار پر چھوڑنا اور اسی طرح دیگر جانور۔ لیکن علما کے نزدیک جانوروں کو آپس میں لڑانا اور بھڑکانا حرام ہے، کیونکہ یہ فضول اور بے مقصد عمل ہے جس سے جانور کو اذیت پہنچتی ہے، اور کبھی کبھار وہ بغیر کسی شرعی فائدے کے ہلاک بھی ہو جاتا ہے۔ اس بارے میں اثر آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جانوروں کو آپس میں بھڑکانے سے منع فرمایا ہے۔‘‘ ختم شد

خادمی رحمہ اللہ ’’بريقة محمودية‘‘ (4/79) میں لکھتے ہیں:
’’جانوروں کو بھڑکانے کی مثال یہ ہے کہ حکمران شیر کو ببر شیر یا گائے یا اونٹ کے ساتھ لڑوائیں۔‘‘ ختم شد

البتہ اگر ہرن پر شکاری کتے اس نیت سے چھوڑے جائیں کہ انہیں شکار کی تربیت دی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ یہ ایک مباح کام تک پہنچنے کا ذریعہ ہے، اور شریعت نے اس کی اجازت دی ہے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

آداب
شکاری

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android