ایسے شخص کو زکاۃ دینا جس کے مستحق ہونے کا یقین نہ ہو۔

1,889

سوال 106440

کیا ایسے شخص کو زکاۃ دی جا سکتی ہے جس کے مستحق ہونے کا یقین نہ ہو؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

زکاۃ ادا کرتے ہوئے لازمی طور پر احتیاط کرنی چاہیے، کہ جسے زکاۃ دی جا رہی ہے کہ وہ یقینی طور پر زکاۃ کا مستحق ہو یا کم از کم غالب گمان ہو کہ وہ زکاۃ کا مستحق ہے، اس بارے میں سستی سے کام لینا جائز نہیں ہے، پہلے ہم سوال نمبر: (46209 ) کے جواب میں زکاۃ کے مصارف بیان کر آئے ہیں، ان کا مطالعہ مفید ہو گا۔

چنانچہ اگر کوئی شخص زکاۃ کسی کو دے اور غالب گمان بھی نہ ہو کہ وہ شخص زکاۃ کا مستحق ہے، تو ایسی صورت میں زکاۃ دینا کفایت نہیں کرے گا بلکہ اسے زکاۃ دوبارہ ادا کرنا ہو گی۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"صحیح موقف یہ ہے کہ شک کی صورت میں چھان بین کی گئی ہو اور غالب گمان کی بنیاد پر زکاۃ اسے دے دی گئی کہ وہ شخص زکاۃ کا مستحق ہے تو ایسی صورت حال میں زکاۃ کافی ہو گی۔" ختم شد
ماخوذ از: "شرح الكافي"

واللہ اعلم

حوالہ جات

زکاۃ کے مصارف

ماخذ: 

الاسلام سوال و جواب

متعلقہ جوابات

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

App StoreGoogle Play