نظموں وغیرہ میں شامل صوتی دھنوں کو سننے کا حکم

سوال 107570

موجودہ دور کے ترانوں اور نظموں میں شامل صوتی دھنوں کا کیا حکم ہے؟ ان دھنوں سے میرا مطلب ہے جو موسیقی یا ڈھول وغیرہ کی آوازوں پر مشتمل ہوں۔

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

صحیح دلائل اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ موسیقی کے آلات کو سننا حرام ہے، جیسا کہ سوال نمبر (5000) کے جواب میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے۔ لہٰذا ملی ترانوں وغیرہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی موسیقی یا اس سے مشابہ آوازیں شامل کرنا جائز نہیں، چاہے وہ کمپیوٹر پر تیار کردہ دھنیں ہی کیوں نہ ہوں ؛ کیونکہ یہ سامعین کو اسی طرح محظوظ کرتی ہیں جیسے موسیقی کرتی ہے، کیونکہ ان کا اثر بھی سننے والے کو طرب و سرور میں ڈال کر غیر معمولی کیفیت میں پہنچا دیتا ہے، اور ان دھنوں کا استعمال اہل فسق و فجور اور لہو و لعب کی مشابہت ہے۔

شیخ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’بلکہ اس میں ایک اور خرابی ہے اور وہ یہ کہ یہ نظمیں کبھی فاسقانہ گانوں کی دھنوں پر تیار کی جاتی ہیں، اور مشرقی یا مغربی موسیقی کے اصولوں پر ڈھالی جاتی ہیں جو سننے والوں کو جھومنے اور رقص کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ اس صورت میں مقصد اصل نظم نہیں بلکہ دھن اور طرب بن جاتا ہے، اور یہ ایک الگ سے شرعی مخالفت ہے  یعنی کفار اور فاسقوں کی مشابہت  کا باعث بنتی ہے۔ پھر اس سے ایک اور خرابی جنم لیتی ہے اور وہ یہ کہ یہ لوگ قرآن سے منہ موڑنے اور اسے چھوڑنے میں ان کی مشابہت اختیار کرتے ہیں، اور اس طرح وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی شکایت میں داخل ہو جاتے ہیں جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان: 30) ترجمہ: ’’ اور رسول کہے گا: اے رب! یقیناً میری قوم نے اس قرآن کو  چھوڑ دیا تھا۔‘‘‘‘ ختم شد
(تحريم آلات الطرب، ص 181)

یہ بات معلوم ہے کہ شریعت نے موسیقی کے آلات کو اس لیے حرام قرار دیا کہ ان کی دھنیں دل پر ایسا اثر ڈالتی ہیں جو نفاق کو جنم دیتا ہے، قرآن کو ترک کروا دیتی ہیں، اور دل کو صرف انہی گانوں میں لذت محسوس ہونے لگتی ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ بعض دھنیں موسیقی سے بھی زیادہ دل فریب اور دل موہ لینے والی ہوتی ہیں، اور ان کا اثر بعض اوقات آلاتِ موسیقی سے بھی بڑھ جاتا ہے۔ شریعتِ حکیمہ کبھی یہ نہیں کر سکتی کہ ایک چیز کو اس کی مفسدت کی بنا پر حرام کرے اور دوسری چیز کو، جو اس سے ملتی جلتی یا اس سے بھی زیادہ مضر ہو، جائز قرار دے۔

لہٰذا اگر ان دھنوں کی آواز موسیقی کے آلات جیسی ہو تو ان کا حکم بھی وہی ہے جو آلاتِ موسیقی کا ہے، یعنی وہ حرام ہیں، بلکہ بعض اوقات یہ ان سے بھی زیادہ شدید حرمت کا حکم رکھتی ہیں۔

البتہ موسیقی کے آلات کی حرمت سے صرف ’’دف‘‘ مستثنیٰ ہے اور وہ بھی چند مخصوص مواقع پر، جیسا کہ سوال نمبر (20406) کے جواب میں وضاحت موجود ہے۔

لہٰذا اگر کوئی دھن ایسی ہو جو دف کی آواز سے مشابہ ہو تو اسے انہی مخصوص حالات میں سننے کی اجازت ہو گی جن میں دف سننا جائز ہے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

گلو کاری اور موسیقی

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android