سنت نبوی میں مسواک کے بارے میں بہت سی احادیث آئی ہیں جن میں اس کے استعمال کی ترغیب دی گئی ہے۔ ان احادیث میں مسواک کے اثر کو ’’منہ کی صفائی‘‘ قرار دیا گیا ہے، یعنی یہ منہ کو گندگی اور ضرر سے پاک کرتی ہے، خوشبو دار بناتی ہے اور اس میں بیماریوں کو پھیلنے سے روکتی ہے۔ یہ الفاظ عام ہیں جو مسواک کے لیے ہر طرح کی طہارت، حفاظت اور بیماریوں سے بچاؤ ثابت کرتے ہیں۔ جدید تحقیق سے بھی ثابت ہوا ہے کہ مسواک جراثیم کو ختم کرتی ہے، مسوڑھوں کی بیماریوں سے بچاتی ہے اور اس میں قدرتی مادے پائے جاتے ہیں جو منہ کو صاف اور دانتوں کو مضبوط کرتے ہیں۔
مسواک کے طب نبوی میں فوائد
سوال: 115282
میں نے پڑھا اور سنا ہے کہ مسواک کے استعمال سے کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں، مثلاً سر درد کا علاج، یاد داشت کی کمزوری کو روکنا وغیرہ۔ کیا اس بارے میں کوئی حدیث موجود ہے جو ان باتوں کی تائید کرتی ہو؟ جزاکم اللہ خیراً۔
جواب کا خلاصہ
جواب کا متن
ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:
مسواک کے استعمال کی ترغیب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے اور اس بارے میں متعدد احادیث آئی ہیں۔ ان احادیث میں مسواک کے اثر کو ’’منہ کی صفائی‘‘ کہا گیا ہے، جو ہر طرح کی نجاست، گندگی اور بد بو کو دور کرتی ہے اور منہ کو صحت مند رکھتی ہے۔
اس حوالے سے ڈاکٹر عبداللہ عبد الرزاق سعید کہتے ہیں:
’’یہ واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا معجزہ ہے کہ آپ نے فرمایا: السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ ترجمہ: ’’مسواک منہ کو پاک کرنے والی اور اللہ کی رضا کا سبب ہے۔‘‘ اسے نسائی نے روایت کیا ہے (حدیث نمبر: 5) اور امام بخاری نے بھی صیغۂ جزم کے ساتھ کتاب ا لصوم کے باب: ’’ روزے دار کے لیے خشک اور تازہ مسواک کا بیان‘‘ میں معلق ذکر کیا ہے۔ اور امام منذری نے اسے ’’الترغیب والترہیب‘‘ (1/133) میں صحیح کہا، امام نووی نے ’’المجموع‘‘ (1/267) میں اسے حسن کہا۔ البتہ ایک اور روایت میں اضافہ آیا ہے ’’اور آنکھوں کو روشن کرنے والی‘‘، مگر یہ اضافہ سخت ضعیف ہے۔ (دیکھیے: سلسلہ ضعیفہ از البانی : 5276)
ڈاکٹر صاحب مزید لکھتے ہیں:
’’یہ کیسے ممکن ہے کہ مسواک منہ کی صفائی نہ ہو جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم خواہشِ نفس سے کچھ نہیں فرماتے تھے بلکہ آپ کو قوی طاقت والے فرشتہ نے یہ سب کچھ سکھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں مسواک کا حکم دیا تاکہ ہمارے دانت اور منہ بیماریوں سے محفوظ رہیں۔ یہی بات آج کل دانتوں کی جدید طب کہتی ہے کہ ’احتیاط علاج سے بہتر ہے‘۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان پر عمل کی بدولت ہی ہم اپنے منہ کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھ سکتے ہیں۔
اور منہ اور دانتوں کی صفائی کے لیے اختیار کی جانے والی تمام تدابیر وقائی طب میں نہایت اہمیت رکھتی ہیں، اور انہی تدابیر میں سے ایک پیلو کی جڑ کی مسواک ہے جس کا ذکر بہت سی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیث میں آیا ہے، اس لکڑی کو ’’مسواک‘‘ کہا جاتا ہے۔ ‘‘
پروفیسر محمد سعید جریدلی (صدر شعبہ امراض منہ، جامعہ قاہرہ) کہتے ہیں:
’’مسواک کیمیائی اور عملی لحاظ سے برش اور ٹوتھ پیسٹ سے کئی گنا بہتر ہے۔‘‘
کئی تحقیقات کے بعد یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ مسواک میں موجود اجزا جراثیم کو ختم کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہمارے منہ کو بیماریوں سے شفا حاصل ہوتی ہے۔ مسواک اکیلا ہی ان دونوں (یعنی برش اور پیسٹ) کا کام انجام دیتا ہے، کیونکہ اس میں ایسے متعدد اجزا پائے جاتے ہیں جو دانتوں کے پیسٹ میں موجود اجزا سے کہیں زیادہ مؤثر ہیں۔ اسی طرح اس میں مضبوط، نرم، لطیف اور لچک دار قدرتی ریشے ہوتے ہیں جو برش کے ریشوں سے بہتر کام کرتے ہیں، اور مسوڑھوں کو نقصان نہیں پہنچاتے، بلکہ وہ مؤثر طریقے سے ہمارے منہ میں رہ جانے والی غذا کے ذرات اور دانتوں سے چپکی ہوئی باقیات کو صاف کر دیتے ہیں، یہی غذائی باقیات منہ اور دانتوں کی بیماریوں اور آفات کا سبب بنتی ہیں۔
اب تک، حتیٰ کہ ہمارے اس ترقی یافتہ دور میں بھی، ایسا کوئی دانتوں کا پیسٹ ایجاد نہیں ہوا جو وہ تمام اجزا رکھتا ہو جو مسواک میں پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح ’’امریکی ڈینٹل ایسوسی ایشن‘‘ کے جریدے میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ امریکہ میں استعمال ہونے والے زیادہ تر دانتوں کے پیسٹ طبی اور صحت بخش نہیں ہیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بازار میں موجود بیشتر پیسٹ تجارتی اور سستے درجے کے ہیں، جن کا مقصد صرف منافع حاصل کرنا ہے، نہ کہ منہ یا مسوڑھوں کو کوئی حقیقی فائدہ پہنچانا۔ جبکہ مسواک میں—سائنسی تحقیقات کے بعد—ایسے فعال اجزا پائے گئے ہیں جو اپنے ریشوں کے اندر صفائی اور پاکیزگی پیدا کرنے والی خصوصیات رکھتے ہیں، مثلاً ’’سنجرین‘‘ نامی مادہ، اور قابض (سکڑاؤ پیدا کرنے والے) اجزا جو مسوڑھوں کو مضبوط بناتے ہیں، خوشبو دار تیل جو منہ کی مہک کو خوشگوار بناتے ہیں، نیز ’’کلورائیڈ سوڈیم‘‘، ’’بائیکاربونیٹ سوڈیم‘‘، ’’کلورائیڈ پوٹاشیم‘‘، ’’آکسالیٹ چونا‘‘ اور دیگر اجزا جو دانتوں کو چمکاتے اور صاف کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ مسواک میں موجود بعض اجزا جراثیم کش اثر رکھتے ہیں، اور ان میں ایسے عناصر پائے جاتے ہیں جن کا اثر پنسلین جیسا ہے۔
یقیناً مسواک حقیقت میں منہ اور دانتوں کی صفائی کا بہترین اور سچا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی روزِ قیامت تک بے شمار رحمتیں ہوں آپ پر، اے اللہ کے محبوب! اے تمام مخلوق کے شفیع! اے ہمارے سچے اور امانت دار رسول!(صلی اللہ علیہ و سلم ) آپ ربِّ العالمین اور احکم الحاکمین کی جانب سے قرآنِ مبین لے کر تشریف لائے، اور آپ نے جو فرمایا بالکل سچ فرمایا، جب آپ نے ارشاد فرمایا: ’’مسواک منہ کی طہارت اور رب کی رضا کا باعث ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: السواك والعناية بالأسنان، (ص 9-14)
امریکی ریاست ٹینیسی کی یونیورسٹی آف میڈیسن کے ڈاکٹر جیمز ٹرنر کی ایک تحقیق، جو ’’طب الفم والأسنان الاستوائية‘‘ (Tropical Dental and Oral Medicine) کے مجلے میں شائع ہوئی، میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پیلو کی مسواک میں ایسے جراثیم کش اور صاف کرنے والے اجزاء پائے جاتے ہیں جن میں سب سے اہم گندھک (سلفر) اور ’’سائٹوسیٹرول بی‘‘ نامی مادہ ہے، نیز اس میں سوڈیم بھی موجود ہوتا ہے۔
تحقیقات اور تجربات سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ مسواک میں خون بہنے سے روکنے والا مادہ پایا جاتا ہے، جو مسوڑھوں کو صاف اور زخموں کو جراثیم سے پاک کرتا ہے۔ اسی طرح مسواک کے ریشوں میں معدنی نمکیات کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے، جن میں کیلشیم، آئرن(لوہا)، فاسفیٹ اور سوڈیم کے اجزاء شامل ہیں۔
مزید یہ کہ مسواک میں وٹامن (C) کی بھی ایک خاص مقدار موجود ہے، اور یہ بات ماہرین کے نزدیک مسلم ہے کہ وٹامن (C) اور اینٹی بایوٹک ادویات کا امتزاج طبّی لحاظ سے انتہائی اعلیٰ سطح کی تکنیکی پیش رفت شمار ہوتا ہے۔ نیز مسواک میں ’’ٹینن‘‘ نامی مادہ بھی پایا جاتا ہے جو ڈھیلے پڑے ہوئے مسوڑھوں کے بافتوں کو مضبوط کرنے میں مدد دیتا ہے۔
مزید معلومات کے لیے درج ذیل سوالات کے جوابات دیکھے جا سکتے ہیں: (174671، 37745، 2577، 108014، 22278)۔
واللہ اعلم
ماخذ:
الاسلام سوال و جواب