منگل 20 رجب 1440 - 26 مارچ 2019
اردو

عورت كے ليے اذان سن كر پھر نماز ادا كرنى افضل ہے

11708

تاریخ اشاعت : 29-03-2009

مشاہدات : 5768

سوال

جب نماز كا وقت ہونے كے بعد مؤذن اذان كہے اور ميں اس وقت نماز ادا كر رہى ہوں تو كيا ميرے ليے انتظار كرنا افضل ہے، يا كہ نماز كے وقت ميں نماز ادا كرنا ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

نماز كے ليے وقت شروع ہونا نماز كى شروط ميں شامل ہے، اور اسى ليے وقت شروع ہونے سے قبل ادا كى گئى نماز صحيح نہيں ہو گى، نماز كے ليے وقت كى شرط كى دليل درج ذيل فرمان بارى تعالى ہے:

يقينا مومنوں پر نماز وقت مقررہ پر فرض كى گئى ہے النساء ( 103 ).

اور اذان تو صرف نماز كا وقت شروع ہونے كى علامت ہے، اور اگر مؤذن وقت وقت كا التزام كرتا ہے، تو پھر آپ كو چاہيے كہ آپ اذان سن كر نماز ادا كريں، ليكن اگر مؤذن اذان دير سے كہتا ہے، يعنى نماز كا وقت ہونے كے كچھ مدت بعد كہتا ہے، تو پھر آپ نماز كا وقت شروع ہونے كا يقين كر كے نماز ادا كر سكتى ہيں.

اور عورتوں كے ليے اول وقت سے نماز ميں تاخير كرنى بھى جائز ہے. اھ.

ماخذ: ديكھيں: فتاوى المراۃ المسلۃ ( 1 / 330 )

تاثرات بھیجیں