سوموار 22 رمضان 1440 - 27 مئی 2019
اردو

قبروں کی جائز اور ناجائز دیکھ بھال

126400

تاریخ اشاعت : 22-11-2014

مشاہدات : 3706

سوال

سوال: میرے ایک عزیز نے اپنے بھائیوں سے اپنی والدہ صاحبہ کی قبر کی دیکھ بھال کیلئے فنڈ اکٹھا کرنے کا مطالبہ کیا، کہ انکی والدہ کی قبر پر کافی مٹی چڑھ چکی ہے، اور اردگرد کافی تعداد میں جھاڑیاں بھی اگ چکی ہیں، اس قبر کے اردگرد لوہے کا جنگلا لگا ہوا ہے، اور سفید پینٹ کیا گیا ہے، ساتھ میں انکا نام اور تاریخ پیدائش بھی درج ہے۔۔۔ الخ، تو کیا قبر کی دیکھ بھال کیلئے فنڈ دینا جائز ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

اسلامی شریعت میں قبر کا بہت زیادہ احترام  کیا جاتا ہے، اس لئے شرعی طور پر قبروں کی اہانت، اور قبروں کیساتھ زیادتی  جائز نہیں ہے، حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے قبر پر بیٹھنے کو شدت کیساتھ حرام قرار دیا ہے، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: (ایک آدمی دہکتے ہوئے انگارے پر بیٹھ  جائے جو اسکے کپڑے جلا کر اسکی جلد بھی جلا دے، یہ اسکے لئے قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے) مسلم: (971)

اس کے بارے میں مزید سوال نمبر : (4309) اور (4698) کے جواب میں ملاحظہ فرمائیں۔

قبروں کے احترام کا مسلمانوں سے تقاضا ہے کہ قبروں کی اتنی دیکھ بھال رکھی جائے جس سے میت  کا تقدس پامال نہ ہو، اور میت کے بے حرمتی نہ ہو، میت کو اہانت اور تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے، چنانچہ اس کیلئے درج ذیل وسائل اپنائے جائیں:

1- قبر کے سر کی جانب کوئی پتھر وغیرہ رکھ دیا جائے، جیسے کہ ابو داود (3206) کی روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے صحابی جلیل عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر کے پاس رکھا   تھا۔
نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہ سنت ہے کہ قبر کے سر کی جانب پتھر، لکڑی وغیر کوئی ابھری ہوئی علامت رکھ دی جائے، امام شافعی، صاحب کتاب، [یعنی: شیرازی]، اور تمام [شافعی ]فقہائے کرام اسی کے قائل ہیں" انتہی
" المجموع " (5/265)
مزید کیلئے آپ سوال نمبر: (8991) کا جواب ملاحظہ کریں۔

2-  سطح زمین سے صرف ایک بالشت قبر کو بلند کیا جائے، اس سے زیادہ نہ ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی قبر مبارک ایسی ہی تھی، چنانچہ ابن قدامہ رحمہ اللہ  کہتے ہیں: "قبر کو سطح زمین سے ایک بالشت بلند کیا جائے گا، تا کہ معلوم ہو کہ یہ قبر ہے، اس سے قبر کا احترام  ہوگا، اور میت کیلئے دعائے رحمت کی جائے گی۔۔۔ اور قبر کو تھوڑا سا بلند کرنا ہی مستحب ہے"انتہی
" المغنی " (2/190)

اور "الموسوعة الفقهية " (11/342)میں اسی بات پر فقہائے کرام کا اتفاق نقل کیا گیا ہے، مزید کیلئے سوال نمبر: (83133) کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔

3- قبرستان کے ارد گرد حفاظتی دیوار بنائی جائے، جس سے قبرستان کو عام  آبادی سے جدا کیا جائے، تا کہ چھوٹے بچوں  کی شرارتوں ، اور جانوروں  سے قبریں محفوظ  رہیں۔
دیکھیں: "فتاوى شيخ محمد بن ابراہيم ": (3/211-212)  اور  "احكام المقابر" از: سحيبانی، صفحہ:(457)

دوم:

جبکہ قبروں کی ناجائز دیکھ بھال کے طریقے  جنہیں لوگ اپنے عزیز و اقارب کی قبروں  کیلئے استعمال کرتے ہیں، یہ ہر علاقے اور ملک کے اعتبار سےالگ الگ  ہیں،  جن میں سے چند یہ ہیں:

1- قبر کو ایک بالشت سے زیادہ  بلند کرنا، اسکے منع ہونے کی دلیل  علی بن ابی طالب  رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کا حکم ہے: (تمام مورتیوں کو مٹا دینا، اور سب اونچی قبروں کو برابر کردینا) مسلم: (969)

2- قبروں پر کسی بھی صورت میں عمارت بنانا ، چاہے بلند ہو یا نہ ہو، قبہ کی شکل  میں ہو یا مزار  کی  شکل میں یا کسی اور انداز سے، چنانچہ " الموسوعة الفقهية " (32/250) میں ہے کہ: "مالکی، شافعی، اور حنبلی فقہائے کرام مجموعی طور پر قبر کے اوپر عمارت بنانے کو مکروہ سمجھتے ہیں، اسکی دلیل جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے قبر کو پختہ بنانے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایا" چاہے قبر پر بنائی جانے والی عمارت میں گنبد ہو یا   خانقاہ یا کچھ اور ، جبکہ حنفی فقہائے کرام  کہتے ہیں کہ: اگر قبر پر تعمیراتی کام خوبصورتی کیلئے ہے تو حرام ہے، اور اگر دفن کرنے کے بعد قبر کی مضبوطی کیلئے ہے  تو یہ مکروہ ہے"انتہی

3- قبر پر پینٹ کرنا، یا چونا  وغیرہ کا استعمال خوبصورتی کیلئے کرنے کے بارے میں  " الموسوعة الفقهية " (32/250) میں ہے کہ: "تمام فقہائے کرام کا اتفاق ہے کہ قبر پر چونے کا استعمال مکروہ ہے، جیسے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے مروی ہے کہ : "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے قبر کو  چونا گچ کرنے، اس پر بیٹھنے ، اور قبر پر عمارت بنانے سے منع فرمایا"
محلی رحمہ اللہ کہتے ہیں: چونا گچ کرنے سے مراد یہ ہے کہ قبر کو چونا لگا کر سفید  رنگ دیا جائے۔
اور عمیرہ کہتے ہیں : ممانعت  کی وجہ زیب و زینت ہے، مزید اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ : اس میں غیر شرعی مقاصد میں پیسے کا ضیاع بھی ہے"انتہی

4- قبرستان کے ارد گرد بیرونی دیوار کے باوجود کسی معین قبر کے ارد گرد دیوار بنانا ، یا جالی لگانا، کیونکہ یہ بھی قبروں پر ممنوعہ تعمیراتی کام میں شامل ہے، چنانچہ شیخ البانی رحمہ اللہ  کہتے ہیں: "قبر پر اس انداز سے آرائش و زیبائش کیساتھ کیبن  بنانا  بھی ایک گناہ ہے، جو کہ لوگوں کو اللہ اور اسکے رسول کی نافرمانی پر ابھارتا ہے، جس سے صاحب قبر کی غیر شرعی تعظیم کی جاتی ہے، جیسے کہ عام طور پر مشاہدے میں بھی یہ چیز پائی گئی ہے"انتہی
" تحذير الساجد " (ص/89)

5- قبروں پر مدح سرائی، اور مرثیہ وغیرہ کی کتابت کروانا، جس سے میت پر نوحہ گری کے دروازے کھلتے ہیں، یا میت کے بارے میں غلو اور حد سے تجاوز سامنے آتا ہے۔

6- قبروں پر شجر کاری کرنا، اور سبز بیل بوٹے لگانا، کیونکہ یہ مسلمانوں کا طریقہ کار نہیں ہے، بلکہ عیسائیوں کے مراسم  میں یہ کام موجود ہیں، اس بات کا تفصیلی بیان سوال نمبر:  (14370) اور (41643) اور (48958) کے جواب ملاحظہ فرمائیں۔

سوم:

مندرجہ بالا تفصیلات کے مطابق ، اگر قبر کی بے حرمتی نہیں ہو رہی تو قبروں کی شرعی دیکھ بھال کیلئے پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، جبکہ قبر  پر پلستر  ، پینٹ، اور اس پر تعمیراتی کام کروانا سب کچھ ممنوعہ امور میں سے ہے، ایسے ہی لوہے کا جنگلا قبر کے ارد گرد لگانا بھی منع ہے، اور قبر پر مٹی  پڑنے سے قبر کی توہین نہیں ہوتی؛ بلکہ  قبریں ہمیشہ ایسے ہی ہوتی ہیں، کیونکہ میت کو قبر میں مٹی کے نیچے ہی دفن کیا جاتا ہے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں