کیا عمامہ پر مسح کرنے کے بعد اسے اتارنے کا حکم، موزے کے اتارنے کے حکم جیسا ہے؟

سوال 129557

فقہاء نے عمامہ پر مسح کرنے اور موزے پر مسح کرنے میں کیا فرق بیان کیا ہے؟ انہوں نے کیوں کہا کہ اگر کوئی شخص مسح شدہ موزے اتار دے تو اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے، لیکن اگر وہ مسح شدہ عمامہ اتار دے تو اس کا وضو نہیں ٹوٹتا؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں، اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:
عمامہ پر مسح کرنا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت سے ثابت شدہ عمل ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری (حدیث نمبر: 205) میں  سیدنا عمرو بن اُمیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ : ’’میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے عمامہ اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔‘‘ ختم شد

عمامہ پر مسح کے جواز کا موقف امام احمد رحمہ اللہ کا ہے، جبکہ جمہور فقہاء  عمامے پر مسح کے قائل نہیں ہیں۔

چنانچہ ابن رشد رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’علمائے کرام  کا عمامہ پر مسح کے بارے میں اختلاف ہے، چنانچہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اس کی اجازت دی ہے، جبکہ دیگر اہل علم جن میں امام مالک، امام شافعی اور امام ابو حنیفہ رحمہم اللہ شامل ہیں انہوں نے عمامے پر مسح کرنے سے منع کیا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: بدایۃ المجتہد: (1/15)

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اگر کوئی شخص صرف عمامہ پر مسح کرے اور سر کے کسی حصے پر مسح نہ کرے تو ہمارے نزدیک بلا اختلاف اس کا وضو صحیح نہیں، اور یہی اکثر علماء کا قول ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: المجموع:  (1/407)

اسی لیے علامہ مرداوی رحمہ اللہ نے عمامہ پر مسح کے مسئلے کو فقہِ حنبلی کے منفرد مسائل میں شمار کیا ہے۔
دیکھیں: الإنصاف از مرداوی : (1/185)

تاہم دلائل کے اعتبار سے امام احمد رحمہ اللہ کا موقف راجح ہے۔

دوم:
جو علمائے کرام  عمامہ پر مسح کے جواز کے قائل ہیں، وہ اس کے اور موزے کے حکم میں فرق نہیں کرتے۔
یعنی جس طرح وہ کہتے ہیں کہ مسح کے بعد اگر موزہ اتار دیا جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے، اسی طرح وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر عمامہ اتار دیا جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
یہی امام احمد رحمہ اللہ کے مذہب میں معتمد قول ہے۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’عمامہ پر مسح کرنے کی مدت کا حکم، اسی طرح عمامہ باندھنے سے پہلے مکمل طہارت کی شرط، اور عمامہ اتارنے پر وضو کے ٹوٹ جانے کے اعتبار سے موزے کے حکم کی طرح ہے، کیونکہ یہ ان دو چیزوں میں سے ایک ہے جن پر بطورِ بدل مسح کیا جا سکتا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: الكافی، (1/39)

علامہ مرداوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’جب مسح کرنے والے کا پاؤں یا سر ظاہر ہو جائے، یا مسح کی مقررہ مدت ختم ہو جائے، تو اسے دوبارہ وضو کرنا ہو گا۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: الإنصاف از مرداوی: (1/190)

البتہ جو علماء یہ کہتے ہیں کہ موزے اتارنے سے وضو نہیں ٹوٹتا، وہ یہی حکم عمامہ کے بارے میں بھی بیان کرتے ہیں۔
یہ ابن حزم ظاہری رحمہ اللہ کا قول ہے، اور امام احمد رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت اسی مفہوم کی ہے۔ اسی قول کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اختیار کیا ہے۔ تفصیلات کے لیے دیکھیں: المحلى از ابن حزم: ( 1/137)  اور (1/340)؛ الإنصاف، (1/190)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’جس نے موزے یا عمامہ پر مسح کیا ہو، ان کے اتارنے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹتا۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: الاختيارات العلمية، ص (26)

موزے اتارنے کے بعد وضو باقی رہتا ہے یا نہیں ؟ اس بارے میں علماء کے اقوال کی تفصیل پہلے سوال نمبر (45788) اور (26343) کے جواب میں بیان کی جا چکی ہے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

موزوں اور جرابوں پر مسح

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android