نماز میں خشوع

سوال: 132081

کیا یہ بات صحیح ہے کہ اگر نماز میں اللہ تعالیٰ کے لیے مکمل خشوع نہ ہو تو ایسی نماز اللہ تعالی ہم سے قبول نہیں فرماتا؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

’’ نماز پڑھنے والے پر لازم ہے کہ وہ اپنی نماز میں خشوع اختیار کرے اور پوری توجہ کے ساتھ نماز پڑھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ * الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ
’’یقیناً ایمان والے کامیاب ہو گئے، جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں۔‘‘ (المؤمنون: 1-2)

لہٰذا نماز میں حضورِ قلب اور خشوع انتہائی اہم امور میں سے ہے، بلکہ یہی نماز کی روح ہیں۔ اس لیے نماز میں خشوع، اطمینان، اور سکون کا خاص اہتمام کرنا چاہیے: سجدے میں، رکوع میں، دونوں سجدوں کے درمیان، رکوع سے اٹھنے کے بعد جب وہ سیدھا کھڑا ہو، ہر حال میں خشوع و اطمینان کے ساتھ نماز ادا کرے اور جلد بازی سے بچے۔

اگر خشوع میں اس حد تک کمی ہو کہ نماز جلدی جلدی ٹھونگیں مار کر ادا کی جائے اور اطمینان قائم نہ ہو تو ایسی نماز باطل ہو جاتی ہے۔

البتہ اگر نمازی اطمینان کے ساتھ نماز پڑھتا ہے لیکن کبھی کبھی کچھ وسوسے یا بھول چوک لاحق ہو جائے تو اس سے نماز باطل نہیں ہوتی۔ تاہم ایسی حالت میں نماز کا اجر و ثواب اسی قدر ملتا ہے جتنا حصہ اس نے سمجھ بوجھ اور خشوع کے ساتھ ادا کیا ہو۔ جہاں غفلت یا بے توجہی ہوئی، اس حصے کا ثواب ختم ہو جاتا ہے۔

لہٰذا بندے کے لیے ضروری ہے کہ وہ نماز میں پورے دل سے متوجہ ہو، اطمینان کے ساتھ ادا کرے، اور اللہ تعالیٰ کے لیے خشوع اختیار کرے تاکہ اسے نماز کا مکمل ثواب ملے۔

البتہ نماز اس وقت تک باطل نہیں ہوتی جب تک اطمینان ترک نہ کیا جائے؛ مثلاً اگر کوئی شخص رکوع اس طرح کرے کہ اس میں اطمینان نہ ہو، جلدی سے اٹھ جائے اور اعضا کو سکون نہ ملے تو ایسی نماز درست نہیں۔

واجب یہ ہے کہ رکوع میں اس وقت تک ٹھہرے کہ جسم کے تمام جوڑ اپنی جگہ پر آ جائیں، اور وہ دوران رکوع ’’سبحان ربی العظیم‘‘ کہنے کے قابل ہو۔ سجدے میں بھی اسی طرح ’’سبحان ربی الأعلى‘‘ کہنے کے قابل ہو، رکوع سے اٹھنے کے بعد ’’ربنا ولك الحمد‘‘ کہنے کے لیے پوری طرح سیدھا کھڑا ہو، اور دونوں سجدوں کے درمیان اس طرح ٹھہرے کہ ’’رب اغفر لي‘‘ کہہ سکے۔ یہ سب لازمی امور ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے جب ایک شخص کو دیکھا کہ وہ نماز میں اطمینان کے بغیر جلدی جلدی رکوع و سجدہ کر رہا ہے تو آپ نے اسے فرمایا: ’’جاؤ، دوبارہ نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔‘‘

لہٰذا اطمینان نماز کے لیے خشوع کا ایک لازمی حصہ ہے، بلکہ یہ واجب خشوع ہے جو رکوع، سجدہ، دونوں سجدوں کے درمیان، اور رکوع سے اٹھنے کے بعد کی حالت میں لازم ہے۔ اسے ’’طمانینت‘‘ کہا جاتا ہے، اور اسی کو خشوع بھی کہا جاتا ہے۔ لازم ہے کہ اطمینان قائم رکھا جائے یہاں تک کہ ہر جوڑ اپنی جگہ پر آ جائے: رکوع میں، قیام میں، سجدے میں، ہر حال میں سکون اور ٹھہراؤ کے ساتھ نماز پڑھی جائے۔ ‘‘ ختم شد

شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ
’’فتاویٰ نور على الدرب‘‘ (2/774)

حوالہ جات

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android